دلجمعی سے پڑھائی ہو تو سول سروس امتحان میں کچھ بھی ناممکن نہیں

Updated: June 09, 2022, 11:40 AM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed | Mumbai

سول سروس ایگزام(سی ایس ای) ۲۰۲۱ء  میں۳۶۸؍واں مقام حاصل کرنےو الی ڈاکٹر شمیلہ چودھری سے خصوصی بات چیت

Dr.Shumaila Chaudhari .Picture:INN
ڈاکٹر شمیلہ چودھری۔ تصویر: آئی این این

 بجنور قصبہ سہسپور سے تعلق رکھنے والی کفایت اللہ خان مرحوم کی بیٹی  ڈاکٹر شمائلہ چودھری نے یو پی ایس سی سول سروس امتحان۲۰۲۱ء میں ۳۶۸؍  واں رینک حاصل کرکے ضلع کا نام روشن کیا ہے۔ڈاکٹر شمائلہ چودھری نے دہلی کےمولانا آزاد میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ شمائلہ کی ابتدائی تعلیم  سینٹ میری کون بن اسکول سے ہوئی،  ۲۰۰۷ء میں دسویں کا امتحان۹۰؍  فیصد مارکس سے کامیاب کیا۔  ہائر سیکنڈری کی تعلیم  کے لئے دہلی کے اینڈریو گنج کیندریہ ودیالیہ میں داخلہ ہوا جہاں سے بارہویں سائنس کا امتحان۲۰۰۹ء  میں۸۵؍  فیصد مارکس سے کامیاب کیا۔
ڈاکٹری سے سول سروس کی طرف کا سفر یوں شروع ہوا 
 انقلاب کے لئے کی جانے والی اس خصوصی گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر شمائلہ نے بتایا کہ چونکہ میری  بڑی بہن گورنمنٹ  میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس  کر رہی تھیں اسلئے ان کی  رہنمائی میں میڈیکل امتحان کی تیاری کی  ،  ۲؍سال میڈیکل انٹرنس کا نتیجہ بہتر نہ رہا،  تیسری کوشش میں آل انڈیا پری میڈیکل انٹرنس میں میرا قومی رینک ۸۱۶؍  اور ریاستی سطح کا۹۸؍  واں ہونے کی وجہ سے  داخلہ ۲۰۱۲ء میں دہلی کے مشہور مولانا آزاد میڈیکل کالج میں ہوا، میں نے۲۰۱۸ء  میں فرسٹ ڈویزن سے اپنا ایم بی بی ایس   مکمل کیا۔ یوپی ایس سی  کا خیال کب اور کیسے آیا اس سوال پر شمائلہ نے بتایا کہ ایم بی بی ایس   کی پڑھائی کے دوران میرے بہت سے سینئرز مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کررہے تھے ان سے متاثر رہی  اور انٹرن شپ کے دوران مریضوں کے علاج اور ان سے گفتگو کے دوران ان کے  مسائل سن کر کچھ بہتر کرنے کی دل میں خواہش جاگی، کیونکہ ڈاکٹر بننے کے بعد میں صرف ’محدود ذرائع‘ کے ساتھ ہی ان کی  مدد یا علاج کر سکتی تھی یہ خیال مجھے  بے چین کرنے لگا اسپتال میں رہ کر اور ایک ضلع کی افسر کی حیثیت سے ضرورت مند افراد کی مدد کی چاہ نے یو پی سی کی تیاری پر مجبور کیا  ۔ شمائلہ نے آگے بتایا کہ ۲۰۱۸ء کی پہلی ناکامی سے یہ احساس ہوگیا کہ میں اگر یکسوئی اور سنجیدہ کوشش کروں تو کامیابی  کے امکانات روشن ہیں۔۲۰۱۹ء  پریلیم امتحان میں ملی کامیابی سے جامعہ ملیہ اسلامیہ آر سی اے میں انٹری کا موقع ملا لیکن مینس میں ناکامی ہاتھ آئی پھر ایک اور۲۰۲۰ء  میں بھی وہی صورت حال برقرار رہی پریلیم کامیاب لیکن مینس میں ناکامی ملی ۔ بعد ازیں سینئر کی رہنمائی جامع منصوبہ بندی اور یکسوئی کیساتھ پڑھائی  کے ذریعہ الحمدللہ، مجھے یوپی ایس سی سی ایس ای ۲۰۲۱ء  میں بالترتیب پریلیم، مینس اور انٹرویو میں کامیابی ملی  اور میرا رینک۳۶۸؍  رہا۔ میرا پہلا ’پریفرنس ‘ آئی اے ایس اور دوسری ترجیح آئی پی ایس ہے۔ اللہ کا بہت شکر ہے کہ مجھے کامیابی ملی۔ اگست  تک ٹریننگ شروع ہوگی۔ اس کے باوجود میں اپنے ’رینک امپرو منٹ‘ کی خواہاں ہوں۔ دو روز قبل۲۰۲۲ء  کے یو پی ایس سی پریلیم کا پرچہ بھی دیا جو کافی اچھا رہا ۳؍ ماہ بعد مینس امتحانات ہوں گے۔
تیاری کے لئے کن باتوں پر توجہ دی جائے
 یو پی ایس سی کی تیاری سے متعلق شمائلہ چودھری نے کہا کہ سول سروس امتحان میں کچھ بھی ناممکن نہیں جب ہم یوپی ایس سی  کی پڑھائی کررہے تھے تب یہ بہت مشکل لگتا تھا مگر اب سب کچھ بہت آسان لگتا ہے۔یہاں میں ایک خاص بات شیئر کرنا چاہوں گی کہ اچھا ’فرینڈ سرکل‘ اختیار کریں، آپکے اطراف جتنے اچھے دوست ہوں گے اتنا اچھا پڑھائی کا ماحول بنے گا۔ ڈسکشن کے لئے اتنا وقت ملے گا۔ پڑھائی کی ترتیب  اور آپشنل سبجیکٹ سے متعلق شمائلہ نے کہا کہ میرا آپشنل سبجیکٹ میڈیکل سائنس تھا۔ رہی پڑھائی کی بات تو یہاں پڑھائی کے علاوہ اور کوئی دوسرا کام نہیں ،  جب ایک بار آپ ہاسٹل کے کمرے سے نکل کر لائبریری میں جاتے ہیں تو شام تک آپ کو پڑھائی ہی کرنا ہے۔ میرا بھی پڑھائی کا دن بھر کا معمول تھا۔ کبھی کبھی مسلسل پڑھائی سے بوریت بھی محسوس ہونے لگتی ہے، لیکن اس کے لئے الگ الگ تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی ویڈیو دیکھ لیا، کبھی کوئی میگزین کا مطالعہ، کبھی دوستوں سے ڈسکشن اس طرح میں بھی دن بھر اپنے آپ کو پڑھائی کے لئے مصروف رکھتی تھی۔
بنیاد مضبوط ہونی چاہئے
 اچھی اسکولنگ یو پی ایس سی کی تیاری میں کتنی معاون ثابت ہوتی ہے اس سوال کہ جواب میں شمائلہ نے کہا کہ اچھی اسکولنگ کی ہر حال میں ضرورت پیش آتی ہے  صرف مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے اچھی اسکولنگ ضروری نہیں  بلکہ آپ جس بھی شعبے میں اپنا کرئیر بنانا چاہتے ہیں وہاں پر آپ کی بنیادی تعلیم بہت پختہ ہونا چاہئے۔ آپ کا فاؤنڈیشن جتنا مضبوط ہوگا اتنا پڑھائی کرنے میں مزہ آئے گا۔ مگر جن بچوں کی بنیادی تعلیم پختہ نہیں تھی یا بہتر طریقے سے ان کی اسکولنگ نہیں ہوئی تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتے ایسا نہیں ہے۔ زندگی میں بہت سارے مواقع ملتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک لمحہ بچوں کی زندگی کو یکسر بدل دیتا ہے۔ میرے سامنے کئی ایسی مثالیں ہے جس میں بچوں کی اسکولنگ بہت اچھے سے نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک لڑکا تو دسویں اور بارہویں میں ناکام ہو کر ڈراپ آؤٹ ہو گیا تھا مگر بعد ازیں اپنے اندر بدلاؤ لاکر وہ یو پی ایس سی کریک کرنے میں کامیاب ہوا۔ میرا شمار کلاس کی اوسط ذہین طالبہ میں ہوتا تھا میں کبھی بھی کلاس کی ٹاپر نہیں بن سکی مجھ سے زیادہ ذہانت والے طلبہ کلاس میں تھے۔ لیکن میں اپنی پڑھائی سے بہت خوش ہوتی تھی اور مزہ لے کر پڑھائی کرتی تھی۔اپنی فیملی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر شمائلہ نے کہا کہ میرے مرحوم والد کا نام کفایت اللہ چودھری ہے وہ ریلوے سی آئی ٹی   چیف انسپکٹر آف ٹکٹ تھے۔ میری والدہ سنجیدہ بیگم نے بارہویں تک پڑھائی کی ہے اور وہ خاتون خانہ ہے۔ والد  کے انتقال کے بعد میری والدہ اور میرے چاچو ڈاکٹر حمایت اللہ صاحب نے ہماری بہت اچھی طرح سے پرورش کی اور اعلیٰ تعلیم کے زیور سے ہم کو آراستہ کیا۔  بڑے بھائی عزیزاللہ غضنفر ریلوے محکمہ کے کمرشیل انسپکٹر مینجمنٹ برانچ مرادآباد میں تعینات ہیں۔ ان سے چھوٹے بھائی سکندر اللہ نے بی ڈی ایس کیا ہے اور وہ قطر کے آرمی ہاسپٹل میں ڈینٹسٹ ہیں۔ بہن ڈاکٹر فرحت چودھری   ایم بی بی ایس اور  ایم ڈی  کرچکی ہیں،فی الوقت وہ دہلی کے گورنمنٹ جی ٹی بی اسپتال میں سینئر ریسیڈنٹ ڈاکٹر ہیں۔ بہن کی رہنمائی میرے ڈاکٹر بننے میں بہت کام آئی میڈیکل انٹرنس کی تیاری کے لئے میں مسلسل دو سال تک کوٹا راجستھان میں رہی۔ وہاں کی پڑھائی سے بھی مجھے بہت فائدہ ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK