• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

عروسی لباس میں لہنگے اور شرارے پہلی پسند مگر جدت کے ساتھ

Updated: November 30, 2023, 11:01 AM IST | Mumbai

عروسی لباس کی تیاری کوئی آسان کام نہیں رہ گیا ہے، ڈیزائنرز ایک ایک لباس پر بے انتہا محنت کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کی قیمت اب لاکھوں روپے تک جا پہنچی ہے

With the passage of time, there has been a change in the cut of the wedding dress, but its traditional style still remains
گزرتے دور کے ساتھ عروسی لباس کی تراش خراش میں تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن اس کا روایتی انداز اب بھی برقرار ہے

شادی کی تقریب کو یادگار بنانے کے لئے عروسی ملبوسات کی تیاری پر خاص توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ پوری محفل میں منفرد نظر آئیں۔ اس لباس کی تیاری میں مہینوں بھی لگ جاتے ہیں۔ دلہن اپنے لُک پر کافی غور کرتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اسی وجہ سے جہاں فیشن کی صنعت میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے، وہیں عروسی ملبوسات بھی اب گنی چنی بندشوں سے آزاد ہو چکے ہیں اور اب ان میں بھی کافی تنوع نظر آرہا ہے۔
 ماضی میں دلہنوں کا لباس گوٹا لگے ہوئے سرخ رنگ کے بنارسی غرارے، سرخ چمک دار ساٹن کی اونچی قمیص اور ٹشو یا جارجٹ کے دوپٹے پر مشتمل ہوتا تھا، جس کی کناری پر گوٹا اورکرن وغیرہ لگائی جاتی تھی۔ تاہم، شادی بیاہ کی تقریبات میں وقت کے حساب سے جو تبدیلی آئی، تو عروسی ملبوس نے بھی فیشن کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اب دلہنیں، باقاعدہ ڈیزائنرز کی خدمات لے کر اپنا لباس ڈیزائن کرواتی ہیں۔ دراصل دلہنوں کے کپڑوں کی ایک تھیم ہوتی ہے، جس میں قدیم پس منظر کے ساتھ ساتھ جدید رجحان بھی جھلکتا ہے۔ عروسی لباس کی تیاری کوئی آسان کام نہیں رہا، ڈیزائنرز ایک ایک لباس پر بے انتہا محنت کرتے ہیں، اسی وجہ سے ان کی قیمت اب لاکھوں روپے تک جا پہنچی ہے۔ یہ ملبوسات اتنے خوبصورت اور دلکش ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر مغلیہ دور کی یاد آ جاتی ہے، ان میں کلاسیکی جھلک آج کل کی دلہنوں کیلئے بہترین انتخاب ہے۔ عروسی لباس میں مرون، گرے، گلابی، گولڈ بلیو اور سینڈ رنگ نمایاں ہیں، جن پر ہلکا سا نگوں، اسٹون، ڈوری، زردوزی، کندن، شیشے، موتیوں، دبکے، زری وغیرہ کا کام کیا جاتا ہے، انہیں بروکیڈ، ویلوٹ، راء سلک اور سلک کے کٹ ورک اور پیچ ورک سے بھی آراستہ کیا جاتا ہے۔
غرارہ
 اب عروسی ملبوسات مخصوص رنگوں کی بندش سے آزاد ہو چکے ہیں۔ آج کل بھاری کام بنوانے کی جگہ لباس کے کٹس پر زور دیا جا رہا ہے، اسی لئے ڈیزائنرز دلہن کے علاوہ بھی خواتین اور لڑکیوں کے حساب سے مختلف رنگوں، مثلاً سفید، گلابی، فیروزی، پرپل، گرے، رسٹ، گرین وغیرہ اور اسٹائلش ڈیزائن کے ساتھ منفرد غرارے متعارف کرا رہے ہیں، جن پر پرل، کرسٹل دبکہ، تلہ اور دیگر کام کئے جاتے ہیں۔ یہ لباس اتنے خوبصورت ہوتے ہیں کہ دیکھنے والے تعریف کئے بغیر نہیں رہ پاتے۔ قیمتی ملبوسات کی تیاری میں روایتی انداز کے ساتھ ساتھ جدت کو بھی مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ چھوٹی قمیصوں کے علاوہ لمبی کھلی چاک والی قمیصیں بھی غراورں کے ساتھ بہت دیدہ زیب لگتی ہیں۔
 اب تو ہر رنگ کا گوٹا بھی دست یاب ہے۔ ایسے قیمتی ملبوسات پر گوٹے کے کام کی مانگ بڑھ رہی ہے، جو دیکھنے میں بہت بھلا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ پاجامہ، کیولٹس، کم گھیر اور ڈبل فرل والے غرارے بھی بہت پسند کئے جا رہے ہیں۔ پہلے کام دار یا بھری ہوئی قمیصوں کا فیشن عروج پر تھا مگر اب غراروں کی قمیصوں پر گلے آستین یا فرنٹ اوپن شیپ میں کام کروایا جا رہا ہے۔ دوپٹے کی ماتھا پٹی بھاری کام دار ہوتی ہے، کناروں پر پتلی بیل سے اسے سجایا جاتا ہے، اس کے علاوہ جالی کے دوپٹوں پرنفیس کام بھی دلہنوں کے لباس کا حصہ ہیں۔ آج کل دوپٹوں پر دولہے کا نام کاڑھا جاتا ہے۔ ’’قبول ہے....‘‘ بھی لکھوایا جا رہا ہے۔
شرارہ
 ملبوسات کی اب اپنی دنیا اور منفرد پہچان بن چکی ہے، درزیوں کی جگہ ڈیزائنرز نے لے لی ہے، چھوٹی چھوٹی دکانوں سے نکل کر یہ فیشن ایبل بوتیک تک چلے گئے ہیں، یہ کہا جائے، تو غلط نہیں ہوگا کہ ملبوسات کی تیاری گلی محلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ دھیرے دھیرے ایک صنعت کا روپ لے چکی ہے، جو بے انتہا گلیمرس اور اسٹائلش پوشاک متعارف کرانے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔ شراروں کی اتنی اقسام دستیاب ہیں کہ خریدنے والا شش و پنچ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کیا خریدے اور کیا نہیں؟ ایک نیا رجحان جو عروسی لباس میں دکھائی دے رہا ہے، وہ مغربی اور مشرقی انداز کا امتزاج ہے، اس وجہ سے ان میں بے شمار اقسام مل جاتی ہیں، جیسے شراروں کے ساتھ گاؤن چل رہے ہیں، جن پر نگوں کا نفیس کام اپنی بہار دکھا رہا ہے۔ پہلے شرارے دیکھنے میں ایک جیسے نظر آتے تھے مگر ان میں بھی کئی اقسام دیکھنے کو مل جائیں گی۔ ’ڈراپ کارنر‘ کے بعد ’فرنٹ ڈراپ‘ قمیصوں کا رواج بھی مقبول ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے روایتی لباسوں کا ایک جدید انداز سامنے آیا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ لباس اب صرف عروسی ملبوس نہیں رہے، بلکہ عام لڑکیاں بھی اسے پہن رہی ہیں۔ شام کی تقریبات کے حساب سے سنہری، چمکتے دمکتے شرارے قریبی رشتے دار خواتین اور کزن کیلئے بازار میں آسانی سے مل جائینگے۔ البتہ ان پر کیا گیا کام ہلکا ہوتا ہے۔
 مغربی رجحان کو ذہن میں رکھتے ہوئے غرارے یا شرارے کے ساتھ میکسی اور جالی کا دوپٹا پہنا جا رہا ہے۔ بنارسی پٹیاں لگا کر شراروں کی زیبائش بڑھائی جا رہی ہے، ان پر نفاست سے کیا گیا کام لباس کی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔ ڈیزائنرز شراروں، غراروں پر کندن، پرل، کورے دبکے اور ڈائمنڈ کے کام کرواتے ہیں۔ یہ بہت دنوں تک خراب نہیں ہوتا۔
لہنگا
 آج کل لہنگوں میں کام دانی اور فرنچ کام پسند کیا جا رہا ہے۔ مغربی انداز کی لمبی اور چھوٹی میکسی لہنگوں کے ساتھ بنوائی جا رہی ہیں، جو جدت اور روایت کا ایک اچھا امتزاج ہے۔ ہلکے اور گہرے رنگ کے لہنگوں کے ساتھ کام والے دوپٹے، چوڑے یا پتلے بارڈر پر باریک نفیس کام بھی فیشن میں ہیں۔ آج کل لہنگے پر بڑی قمیص پہننا پسند کیا جا رہا ہے۔ فلمی ہستیاں وزنی سے وزنی لہنگا پہن رہی ہیں اس لئے لڑکیاں ان کی نقل کرتی نظر آرہی ہیں۔ اس کے علاوہ کلیوں والے لہنگے بھی کافی پسند کئے جا رہے ہیں۔ لہنگے جالی دار میٹریل میں بھی بنائے اور پہنے جاتے ہیں ۔جالی دار لہنگے اپنے منفرد اسٹائلز کی وجہ سے مقبول ہیں ۔جھالر دار فراک نمالہنگے تو فلمی ستاروں کی بھی اولین پسند ہیں۔
 بازار میں ایسے ایسے کام دار شرارے، لہنگے اور غرارے دستیاب ہیں کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں ان پر سے نہیں ہٹتیں، یہی وجہ ہے کہ ہماری آج کل کی دلہنیں اس بدلتے ہوئے رواج سے استفادہ کررہی ہیں اور ان کا فیشن گویا آسمان پر ہے۔

marriage Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK