اپنا موازنہ دوسروں سے ہرگز نہ کریں کیونکہ آپ منفرد ہیں

Updated: May 02, 2022, 12:10 PM IST | Nishi Jain | Mumbai

آج کا نوجوان جلد کامیابی حاصل کرنے کے فراق میں ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور اس کی وجہ ہوتی ہے مستقبل کے تئیں عدم تحفظ کا احساس

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آج کی تیز رفتار دنیا میں ہم سبھی عجلت  میں ہیں ۔کسی کو کام کرنے کی جلدی  ہے ،کوئی فوراً سے پیشتر کامیاب ہونا چاہتا ہے  اور اگر کوئی کہیں جارہا ہے   تووہ  اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی میں  ہے ۔ جب چیزیں ہمارے موافق کام نہیں کرتی ہیں تو ہم فوراً انہیں ترک کردیتے ہیں۔ آج دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہم اس ریس میں ہارنا نہیں چاہتے۔ ہم ہارنے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ تیزرفتاری کا عالم یہ ہے کہ  آج ایک ۱۵؍ سالہ بچہ کمپیوٹر کوڈ بنا کر اسے فروخت کررہا ہے۔  یہ تیز رفتاری دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جب تک وہ ۲۵؍ سال کا ہوگا تب تک اس کی اپنی ایک کمپنی ہوگی۔ آج کم عمر میں آپ ایک ایسے موسیقار ہیں جس نے تقریباً پوری دنیا کا سفر کرلیا ہے۔ آج نوجوان بہت کم وقت اور بہت کم عمر میں بہت بڑے بڑے اور زیادہ کام کررہے ہیں۔ لیکن یہ تمام چیزیں ہمیں خوفزدہ کررہی ہیں۔ آج  ۲۵؍ سال کی عمر میں بھی آپ  وہی ۶؍ تا ۹؍ کی ملازمت کررہے ہیں اور روزانہ خود کو مزید بیکار محسوس کررہے ہیں۔ آپ کے تمام دوستوں کی شادیاں ہورہی ہیں اور وہ بیرون  ملک سے اپنے سیرسپاٹے کی تصاویر شیئر کررہے ہیں۔ جبکہ آپ سوچ رہے ہیں کہ میں آئندہ ۲؍ سال میں بھی یہ سب کرنے کے قابل نہیں ہو سکوں گا۔  وقت تیزی سے چل رہا ہے، دنیا ماضی بنتی جارہی ہے اور آپ اب بھی صبح بستر سے اٹھنے میں کاہلی محسوس کررہے ہیں۔  اگر آپ ان کیفیات کا شکار ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ ایک اطمینان کی سانس لیں اور سب سے پہلے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنا بند کریں۔ دنیا ہر قسم کے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے بہت جلد کامیابی دیکھی ہے اور ایسے بھی ہیں جنہیں عمر کی آخری حدوں پر کامیابی ملی ہے۔ یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جن کی شادی ۲۵؍ سال کی عمر میں ہوتی ہے اور طلاق ۳۰؍ سال کی عمرمیں  اور یہاں ایسے بھی لوگ ہیں جن کی شادیاں  ۴۰؍ سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں کا کبھی خود سے موازنہ نہ کریں۔ ہنری فورڈ نے ۴۵؍ سال کی عمر میں اپنی انقلابی ماڈل ٹی کار بنائی تھی۔ ایک چھوٹا پیغام یہاںصادق آتا ہے ’’آپ منفرد ہیں، اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔‘‘   کسی نے ۲۲؍ سال کی عمر میں گریجویشن کرلیا  اور  ۵؍ سال بعد بھی ایک اچھی ملازمت نہیں تلاش کرسکا۔ اور پھر اسی دنیا میں ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے ۲۷؍ سال کی عمر میں گریجویشن مکمل کرکے فوراً بہترین ملازمت حاصل کرلی۔ کوئی ۲۵؍ سال کی عمر میں سی ای او بن گیا اور ۵۰؍ سال کی عمر میں انتقال کرگیا اور کوئی ۵۰؍ سال کی عمر میں سی ای او بنا اور ۹۰؍ سال کی حیات پائی۔ ہر کوئی اپنے ’ٹائم زون‘ کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔  لوگ اپنی رفتار کے مطابق ہی کام کرسکتے ہیں۔ اپنے ’ٹائم زون‘ میں کام کرنے کے دوران، آپ کے ساتھی، دوست اور آپ سے کم عمر، ہوسکتا ہے آپ سے زیادہ کام کرلیں۔ اور ہوسکتا ہے کوئی آپ کے پیچھے رہ جائے۔ ہر ایک شخص اس دنیا میں اپنی اپنی رفتار کے مطابق دوڑ رہا ہے۔ خدا نے ہر شخص کیلئے مختلف منصوبہ تیار کیا ہے۔ فرق صرف وقت کا ہے۔ سابق امریکی صدر اوبامہ ۵۵؍ سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے جبکہ موجودہ صدر جوبائیڈن   ۷۹؍ سال کی عمر میں صدر بنے۔ آپ ان سے حسد نہ کریں نہ ان کا مذاق اڑائیں۔ وہ اپنے ’ٹائم زون‘ میں ہیں اور آپ اپنے!  جلد کامیابی حاصل کرلینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خوش و خرم زندگی بسر کرتا ہے۔ آپ بھلے ہی ۲۵؍ سال کی عمر میں ایک کمپنی قائم کرلیں مگر ہوسکتا ہے کہ ۳۰؍ سال کی عمر میں آپ دیوالیہ ہوجائیں۔  ہوسکتا ہے آپ ۴۰؍ سال کی عمر میں کامیابی حاصل کریں اور شاید آپ کو اتنی دیر اس لئے لگی ہو کیونکہ آپ تب ہی اس عہدے کو سنبھالنے کے قابل ہوئے ہوں۔  جو بھی ہوتا ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے جو ملازمت آپ نے کھودی وہ آپ کیلئے صحیح نہیں رہی ہو۔ ہوسکتا ہے آپ اپنی قابلیت کا استعمال مستقبل میں کوئی بڑے کام کیلئے کریں۔ دنیا میں صحیح وقت مقرر نہیں ہے۔ ہمیں چیزیں اس وقت ملتی ہیں جب ہم ان کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ جب وہ چیز آپ کو نہیں ملتی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی آپ کی قسمت میں نہیں لکھی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس چیز کی آس میں ناامید ہوجائیں اور  دوسروں سے حسد کریں۔  اپنا وقت اپنی قابلیت کو نکھارنے میں صرف کریں۔ نئی نئی چیزیں اور زبانیں سیکھیں۔ خود کو ایک ایسا شخص بنانے کی کوشش کریں جسے آپ مستقبل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسی شخصیت کو پیدا کریں جو مستقبل میں آپ کی کامیابی سے مطابقت رکھتی ہو۔ اپنی رفتار سے اپنے مقاصد کی جانب قدم بڑھاتے رہیں۔ ہر ایک کی اپنی ٹائم لائن ہوتی ہے۔ہوسکتا ہے آپ مستقبل میں کچھ ایسا کام کریں جو اور کوئی نہ کرسکتا ہو۔ اس وقت تک آپ تجربہ کار اور زیادہ سمجھدار ہوچکے ہوں گے  لیکن آپ اپنے بارے میں برا سوچنے اور مایوسی کے درپے ہیں۔ مواقع بار بار ملتے ہیں۔ اور زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔ اگر آج آپ کا دن نہیں ہے تو ہوسکتا ہے کل ہو۔ کبھی کوئی کام اپنی مرضی کے مطابق نہ ہورہا ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نااُمید ہوجائیں اور مستقبل کے تانے بانے کو جوں کا توں چھوڑ دیں۔ نہیں، سرگرم تو آپ کو رہنا ہی ہوگا۔ زندگی اسی جدوجہد کا نام ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK