ماں کے دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کا جو ایک گھر تھا جہاں آپ بغیر وجہ کے، بغیر بلاوے کے، بغیر تحفے کے جاسکتی تھیں، وہ گھر اب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے۔ اب آپ صرف سسرال کی ہیں۔ اسی لئے بزرگ عورتیں کہتی ہیں، میکے کو ماں کی زندگی میں جی بھر کے جی لو!
میکے میں بیٹی داخل ہوجائے تو ماں اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس بیٹھ جاتی ہے، یہ ایسی واحد ہستی ہوتی ہے۔ تصویر: آئی این این
’’ماں سے میکہ ہے!‘‘ بظاہر یہ پانچ لفظوں کا ایک سادہ سا فقرہ ہے، لیکن اس کے اندر ایک پوری عمر کی داستان، ایک پورا معاشرہ، اور ایک عورت کے دل کا پورا سکون چھپا ہوا ہے۔
اس جملے کو مرد کبھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔ اسے صرف وہ بیٹی سمجھ سکتی ہے جس کی ڈولی اُٹھی ہو، جو سسرال کی ذمہ داریوں میں گھری ہو، اور جس کا دل کبھی کبھی اچانک بچپن کی طرف بھاگنے لگتا ہو۔
بیٹی سے مہمان
تک کا سفر
شادی سے پہلے میکہ کیا ہوتا ہے؟ وہ گھر جہاں آپ ملکہ ہوتی ہیں۔ جہاں باپ کی شفقت، بھائی کی شرارت، اور ماں کا آنچل آپ کا حق ہوتا ہے۔ آپ جس بستر پر چاہیں لیٹ جائیں، جس وقت چاہیں کھانا مانگ لیں، روٹھ جائیں تو کوئی منانے والا ہے۔
پھر ایک دن شہنائیاں بجتی ہیں، آپ رخصت ہوتی ہیں۔ اور اگلے ہی دن سے اسی گھر میں آپ کا نام بدل جاتا ہے ’’مہمان‘‘۔
اب آپ اسی گھر میں آتی ہیں جہاں آپ نے آنکھ کھولی تھی، لیکن اب آپ کا بیگ ایک کونے میں رکھا جاتا ہے۔ اب آپ کی ماں بھی آپ سے پوچھتی ہے، ’’کب تک رکے گی؟‘‘ یہ سوال دکھ دینے کے لئے نہیں، مجبوری کے لئے ہوتا ہے، لیکن بیٹی کے دل میں ایک کانٹا ضرور چبھتا ہے۔
اس مہمان بن جانے کے احساس میں اگر کوئی چیز آپ کو پھر سے بیٹی بنا دیتی ہے تو وہ صرف ’ماں‘ ہے۔
ماں.... میکے کی روح
غور کیجئے، میکہ کس سے آباد ہے؟
جب آپ میکے جاتی ہیں تو باپ پیار ضرور کرتا ہے، مگر وہ دفتر چلا جاتا ہے۔ بھائی محبت ضرور کرتا ہے، مگر وہ اپنی دنیا میں مصروف ہو جاتا ہے۔ بھابھی، چاہے کتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو، وہ آپ کا خیال رکھنے کی کوشش تو کرتی ہے، مگر اس کے خیال رکھنے میں ایک تکلف ہوتا ہے، ایک رسمی پن ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: عثمانی اسٹائل آؤٹ فٹ: کسی بھی محفل کی جان بن سکتا ہے
صرف ایک ہستی ایسی ہے جو آپ کے آتے ہی سب کچھ چھوڑ دیتی ہے... ماں۔ وہ آپ کے بچے کو آپ سے زیادہ پیار سے اُٹھا لیتی ہے تاکہ آپ تھوڑا آرام کر لیں۔ وہ آپ کی پسند کا سالن بنا کر رکھتی ہے جو سسرال میں کوئی نہیں بناتا۔ وہ آپ کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے آپ کے سسرال کے دکھ سنے بغیر ہی سمجھ جاتی ہے۔ اسے بتانا نہیں پڑتا کہ ’’مَیں تھک گئی ہوں۔‘‘ اس کی گود آج بھی اتنی ہی بڑی ہے جتنی بچپن میں تھی۔
دراصل میکہ دیواروں کا نام نہیں، ماں کی موجودگی کا نام ہے۔ ماں کی وہ آواز، ’’ارے، تُو نے چائے بھی نہیں پی‘‘، ’’چپل اتار کر آ، فرش گیلا ہے‘‘، ’’تیرا بھائی تجھے یاد کر رہا تھا!‘‘ یہی آوازیں میکے کو زندہ رکھتی ہیں۔
جب ماں چلی جاتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟
آپ نے کبھی غور کیا ہے، ہر خاندان میں ایک جملہ ضرور دہرایا جاتا ہے:
’’ماں کے بعد میکہ ختم ہوگیا۔‘‘
کیا مکان گر جاتا ہے؟ کیا بھائیوں سے رشتہ ختم ہوجاتا ہے؟ نہیں۔
سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے۔ وہی صحن، وہی باورچی خانہ، وہی درخت جس پر آپ کا جھولا بندھتا تھا۔ سب رہتا ہے، مگر روح نکل جاتی ہے۔
ماں کے بعد میکے جانے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے، بھابھی کو تکلیف تو نہیں ہوگی؟ بھائی کے بچوں کے امتحان تو نہیں؟ فون کرکے پوچھ لوں، چلی جاؤں؟ جو دروازہ کبھی بغیر دستک کے کھلتا تھا، اب اس پر دستک دینی پڑتی ہے۔
ماں کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کا جو ایک گھر تھا جہاں آپ بغیر وجہ کے، بغیر بلاوے کے، بغیر تحفے کے جاسکتی تھیں، وہ گھر اب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے۔ اب آپ صرف سسرال کی ہیں۔
اسی لئے بزرگ عورتیں کہتی ہیں، میکے کو ماں کی زندگی میں جی بھر کے جی لو۔
میری پیاری بہنو، بیٹیو!
اگر آپ کی ماں حیات ہے تو آپ دنیا کی سب سے امیر عورت ہیں۔ آپ کا میکہ ابھی زندہ ہے۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر ماں سے بدگمان نہ ہوں۔ کبھی کبھی ماں بھائی کا ساتھ دے دیتی ہے، کبھی بھابھی کی طرفداری کر دیتی ہے، تو دل میں میل نہ رکھیں۔ وہ بیچاری دونوں گھروں کو جوڑے رکھنے کے لئے ایسا کرتی ہے۔
وقت نکال کر ماں سے ملنے جائیں۔ صرف عید، بقرعید پر نہیں، ویسے ہی۔ بغیر کسی کام کے۔ اس کے پاس بیٹھیں۔ اس کی باتیں سنیں جو وہ دسویں بار دہرا رہی ہے۔ اس کے ہاتھ کا اچار مانگ لیں۔ اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جائیں۔ یہ وہی گود ہے جس میں سارا سکوں چھپا ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی ماؤں کو سلامت رکھے، اور جن کی مائیں چلی گئیں، ان کے درجات بلند کرے (آمین)۔