نوزائیدہ بچے چونکہ بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں، اس لئے انہیں لٹانے، گود میں لینے، دودھ پلانے، مالش کرنے، نہلانے اور کپڑے بدلنے تک خاطر خواہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ نوزائیدہ کی دیکھ بھال میں زیادہ زور حفظان صحت پر دینا چاہئے۔ بچے کے اردگرد کی جگہ اور چیزیں صاف ستھری ہونی چاہئیں
علامتی تصونوزائیدہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے، لہٰذا ان کی دیکھ بھال میں کوتاہی نہ برتیں۔ تصویر: آئی این این
گھر میں آنے والا ننھا رکن خاندان بھر کے لئے ڈھیروں خوشیاں لاتا ہے، سب لوگ اس کی دیکھ بھال اور پیار محبت کیلئے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں۔ نوزائیدہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ نوزائیدہ بچے چونکہ بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں، اس لئے انہیں لٹانے، گود میں لینے، دودھ پلانے، مالش کرنے، نہلانے اور کپڑے بدلنے تک خاطر خواہ احتیاط کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ نوزائیدہ کی دیکھ بھال میں زیادہ زور حفظان صحت پر دینا چاہئے۔ بچے کے اردگرد کی جگہ اور چیزیں صاف ستھری ہونی چاہئیں۔ ماؤں کو خود بھی ہر وقت صاف ستھرا رہنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ان کی ذہن نشوونما کی جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔ بچے کی مناسب دیکھ بھال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کے کپڑے نرم و ملائم ہوں، ایسے نہ ہوں جن سے روئی یا دھاگے نکل رہے ہوں اور نہ ہی کپڑوں کو تیز خوشبو والے ڈٹرجنٹ سے دھویا جائے۔ اسی طرح کی چند چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جانیں:
مالش کرنا
ہندوستان میں بچوں کی مالش کا رجحان نیا نہیں ہے لیکن مائیں اکثر اس پریشانی سے گزرتی ہیں کہ بچے کی مالش کب اور کیسے کی جائے۔ نوزائیدہ کو دودھ پلانے کے بعد یا اس سے پہلے مالش نہ کریں۔ گھی یا بادام تیل کو ہلکے ہاتھوں سے بچے کے پورے جسم پر لگائیں۔ نہلانے سے قبل مالش کرنا بہتر ہوتا ہے۔
دھیان سے نہلائیں
نوزائیدہ کی جلد بے حد نازک ہوتی ہے۔ بہت زیادہ دیر تک پانی میں رہنے سے وہ خشک ہوسکتی ہے۔ دھیان رکھیں کہ پانی زیادہ گرم نہ ہو۔ شروعات کے ۳؍ ہفتے میں گیلے کپڑے سے بدن پونچھنا کافی ہوتا ہے۔ اگر آپ بے بی شیمپو کا استعمال کر رہی ہیں، تو ایک ہاتھ سے بچے کی آنکھوں کو ڈھانک لیں۔ نہلانے کے بعد بچے بہتر نیند سو پاتے ہیں۔
آرام سے سلائیں
ماہرین کے مطابق، مائیں بچوں کو سلانے سے پہلے انہیں کپڑوں کی کئی پرتیں پہنا دیتی ہیں، خاص کر رات کے وقت۔ وہ انہیں بے بی بیگ میں بھی ڈال دیتی ہیں اور اس کے اوپر سے کمبل بھی اوڑھا دیتی ہیں۔ اس سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بہت زیادہ گرمی اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے۔
رونے سے گھبرائیں نہیں
بچے روتے ہیں اور اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق، بچے ہمیشہ کسی وجہ سے نہیں روتے ہیں بلکہ یہ ان کا آپ کو متوجہ کرنے کا طریقہ ہوتا ہے۔
قدرت کے ساتھ
بچوں کو جتنا ہو سکے قدرت کے ساتھ جوڑیں۔ آج کے بھاگتے دوڑتے زمانے میں والدین بچوں کو موبائل فون، ٹیبلٹ، اور ٹی وی کے ساتھ پرورش کرنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال میں کم سے کم ۲؍ سال کی عمر تک بچوں کو اسکرین سے دور رکھنا چاہئے بلکہ ان سے دوری یقینی بنانا چاہئے۔
رنگوں کے درمیان
بچوں کے آس پاس رنگ ہونا چاہئے۔ ۸؍ سے ۹؍ ماہ مکمل ہونے کے بعد بچے الگ الگ طرح کے رنگ، خوشبو، شور اور احساس کو پہچاننے لگتے ہیں۔ یہی انہیں سکھانے کا صحیح وقت ہوتا ہے۔
کھیل کھیل میں
بچے کھیل کھیل میں نئی چیزیں سیکھتے ہیں۔ صرف چیزوں کو پہچاننا ہی نہیں، بلکہ خوشی اور غصے جیسے جذبات کو بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ بچوں سے بات کرتے ہوئے مسکرائیں اور ان سے نظریں ملا کر باتیں کریں۔ یاد رکھیں کہ بچے بول نہیں سکتے، اس لئے آنکھوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
ماں کے ساتھ پڑھائی
بچے کے ساتھ باتیں کریں۔ جب وہ کوئی آوازیں نکالیں، تو انہیں دہرائیں اور اس کے ساتھ کچھ الفاظ جوڑ دیں۔ اس طرح بچے کا جلد ہی زبان کے ساتھ رابطہ قائم ہو سکے گا۔ کتابوں سے پڑھ کر کہانیاں سنانے کے لئے بچے کے اسکول پہنچنے کا انتظار نہ کریں۔ کم عمر بچے ان کہانیوں کے ذریعے نئی آوازیں اور الفاظ سیکھتے ہیں۔
سکھانے کا عمل
بچوں کو نئی نئی چیزیں سکھانے کا سب سے اچھا طریقہ ہے ان کے ساتھ وہی کام دہرانا۔ بچے دیکھ کر وہی کام دہراتے ہیں۔ اسی طرح سے آپ انہیں ورزش کرنا بھی سکھا سکتی ہیں۔ شروعات میں متوجہ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے لیکن بعد میں بچے نئی چیزیں کرنے میں لطف محسوس کرنے لگتے ہیں۔
پہلا قدم
جب تک بچّے چلنا نہیں سیکھ لیتے انہیں جوتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان دنوں فیشن کے سبب والدین نوزائیدہ کے لئے بھی جوتے خریدنے لگتے ہیں۔ نوزائیدہ کے لئے موزے ہی کافی ہیں۔ یہ ان کے لئے آرام دہ بھی ہوتے ہیں۔