Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایکس کا مرکز کو جواب : ۱۲؍ اکاؤنٹ بلاک کرنے کا حکم غیر متناسب اور غیر متوازن

Updated: April 02, 2026, 5:06 PM IST | New Delhi

مرکز کی جانب سے ۱۲؍ ایکس اکاؤنٹ بلاک کرنے کے احکامات پرایکس (X) نے مرکز کو بتایاکہ ۱۲؍ اکاؤنٹس بلاک کرنے کے احکامات غیر متوزن اور غیر متناسب ہیں، کمپنی کے مطابق اکاؤنٹ ہولڈر مستقل طور پر ہندوستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکیں گے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

دی انڈین ایکسپریس کی بدھ کی خبر کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو بتایا ہے کہ حالیہ احکامات کے تحت اکاؤنٹس بلاک کرنا ’’اکاؤنٹ ہولڈر کے حقوق کو ضرورت سے زیادہ اور غیر متناسب طور پر محدود کرتا ہے۔‘‘خبر میں مزید کہا گیا کہ ’’یہ بات تشویشناک ہے کیونکہ اکاؤنٹ ہولڈر ہندوستان میں مستقل طور پر ایکس استعمال نہیں کر سکے گا۔‘‘ لائیو لاء کے مطابق، یہ تبصرہ ایکس کی طرف سے۱۹؍ مارچ کو وزارت کو لکھے گئے اعتراض نامے میں کیے گئے، جس میں۱۲؍ اکاؤنٹس جن میں ایک پیروڈی اکاؤنٹ ’’ڈاکٹر نیمو یادو‘‘بھی شامل ہے کو بلاک کرنے کے حکم کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی۔ایکس نے کہا کہ۱۸؍ مارچ کو جاری کیا گیا بلاک کرنے کا حکم انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ء کی دفعہ۶۹؍ اے کی تعمیل نہیں کرتا۔ یہ شق حکومت کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مواد ہٹانے کا حکم دینے کی اجازت دیتی ہے اگر وہ مواد قومی سلامتی، خودمختاری یا عوامی نظم کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔دراصل یہ اعتراض نامہ ایکس کی طرف سے۳۰؍ مارچ کو دہلی ہائی کورٹ میں دائر کردہ حلف نامے میں منسلک کیا گیا تھا۔
لائیو لاء کے مطابق، یہ اس درخواست کا حصہ ہے جو۲۴؍ مارچ کو پریتیک شرماجو ’’ڈاکٹر نیمو یادو‘‘ اکاؤنٹ چلاتے ہیں نے بلاک حکم کے خلاف دائر کی تھی۔ شرما نے وزارت اور ایکس کو ہدایت دینے کی استدعا کی تھی کہ وہ اکاؤنٹ روکے رکھنا بند کریں۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، درخواست میں یہ ہدایت دینے کی بھی استدعا کی گئی کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی سنسر شپ آئی ٹی ایکٹ اور اس کے قواعد کے مطابق کی جائے۔لائیو لاء کے مطابق، حلف نامے میں ایکس نے کہا کہ ڈاکٹر نیمو یادو کا اکاؤنٹ وزارت کے حکم پر مبینہ طور پر متنوع پوسٹس اور وزیراعظم نریندر مودی کی توہین کرنے کی وجہ سے بلاک کیا گیا تھا۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، ایکس کی طرف سے عدالت میں پیش کردہ حلف نامے سے پتہ چلا کہ وزارت نے۱۳؍ مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مجاز نمائندوں کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی تھی تاکہ نوڈل افسران کی جانب سے۲۰۰۹ء کے آئی ٹی قواعد کے تحت کی گئی بلاکنگ کی درخواستوں کا جائزہ لیا جا سکے۔اخبار کے مطابق، اس میٹنگ میں وزارت نے کم از کم۱۶؍ اکاؤنٹس کی فہرست فراہم کی، جن پر مبینہ طور پر ایسی پوسٹس کی گئی تھیں جنہیں آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍ اے کے تحت بلاک کیا جانا ضروری تھا۔ حالانکہ ایکس نے یہ اکاؤنٹ بلاک کردئے تاہم۱۹؍ مارچ کو وزارت کو ایک اعتراض نامہ لکھا۔جس میں ان احکامات کو غیر متوزن اور غیر متناسب قرار دیتے ہوئے ان اکاؤنٹس کو غیر بلاک کرنے کے لیے مناسب احکامات جاری کرنے کی بھی استدعا کی۔
بعد ازاں دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، ایکس نے یہ بھی کہا کہ’’ اسے پختہ یقین ہےکہ ان اکاؤنٹ ہولڈر میں سے کسی کو بھی سننے کا موقع نہیں دیا گیا اور ان اکاؤنٹس کے سلسلے میں فراہم کردہ شواہد آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ۶۹؍ اے کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK