اوکیناوا کے الیکٹرک اسکوٹر ’پریز پرو‘کی کارکردگی اورفیچرس

Updated: March 20, 2021, 12:00 PM IST | Bhavna Chaudhry

روزانہ ۶۰؍ سے ۷۰؍ کلومیٹر کا سفر کرنے والے افراد کیلئے یہ ایک بہتر اسکوٹر متبادل بن سکتا ہے

Okinawa Electric Car - Pic : INN
اوکیناوا الیکٹرک کار ۔ تصویر : آئی این این

 ملک کے دوپہیہ گاڑیوں کے بازار میں الیکٹرک اسکوٹروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ کئی کمپنیوں کے الیکٹرک اسکوٹر اب دستیاب ہیں اور یہ اپنا مقام بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس ماہ ہم نے ان ہی میں سے ایک اسکوٹر کی آزمائش کی ہے۔ یہ اوکیناوا کا الیکٹرک اسکوٹر پریز پرو ہے جسے ہم نے ایک ماہ تک چلایا ہے۔ 
ڈیزائن ایسا ہے
 پریزپرو کا ڈیزائن پرکشش لگتا ہے۔ تاہم اس کے ڈیزائن میں استعمال کیا گیا پلاسٹک باڈی ورک کافی ہلکا ہے۔ لہٰذا سڑک پر کسی قسم کے تصادم کی صورت میں یہ نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کیونکہ دو پہیہ گاڑی استعمال کرتے ہوئے کہیں ٹکرانا عام بات ہے۔ انسٹرومنٹ کلسٹر کے چاروں جانب ایلومینیم سے تیار پینل اس کے فرنٹ کو پرکشش بناتے ہیں۔ اسکے سوئچ گیئر پر بھی سالڈ پلاسٹک کا استعمال نظر آتا ہے۔ وہیں فرنٹ میں دئیے گئے اسٹائلش ایل ای ڈی ہیڈ لیمپ اور ٹیل لیمپ اسے مزید پرکشش بناتے ہیں۔ ہینڈل بار کاؤل، ایلومینیم  سےتیار بار اینڈ اور گریب ریل پیچھےبیٹھنے والے کے ساتھ رائیڈر کو بھی آرام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ۱۲؍ انچ کے پہیے والے شابی ٹائر ہر قسم کے راستوں سےاسکوٹر کو بخوبی گزارتے ہیں۔اوکینا وا پریز پرو کے فوٹ پیگ پر رائیڈر کو کافی جگہ ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ہینڈل بار کے نیچے ملنے والا اسپیس چھوٹے موٹے سامان جیسے موبائل فون، والیٹ وغیرہ کو رکھنے کے کام آتاہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ رائیڈر کے اسکوٹر کو چلاتے وقت گھٹنے مڑے ہوئے ہوتے ہیں پھر چاہے آپ کا قد کم ہو یا زیادہ ۔ اس کے علاوہ سیٹ کافی لمبی اور آرام دہ ہے۔ ہینڈل کو بالکل عام طریقے سے ڈیزائن کیا گیا جو فٹ بورڈ پر گھٹنے موڑنے کے مسئلے کو ختم کرتا ہے۔
رائیڈ کوالیٹی اور بیٹری کی کارکردگی
 رائیڈ کوالیٹی کی بات کریں تو اوبڑ کھابڑ راستوں پر جھٹکے کا احساس ہوتا ہے۔ جس کی وجہ ٹیلی اسکوپک فورکس اَپ فرنٹ اور ڈوئل ریئر شاک ابزوربرکا اِسٹفر سائیڈ پر ٹیون کیا جانا ہے۔ حالانکہ پختہ سڑکوں پر اور اسپیڈ بریکروں سے گزرنے پر آرام میں کوئی کمی نہیں آتی ہے۔ اسکوٹر بے حد ہی ہلکا ہےا ور اس کے باعث لمبا سفر آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ اوکیناوا پریز پرو میں کمپنی نے ایک ۲ء۰؍ کلو ڈبلیو لیتھیم آئن بیٹری پیک کا استعمال کیا ہے۔ پریز پرو اسکوٹر ایک الیکٹرک ٹو وہیلر کے روایتی ٹورک کا تجربہ دیتاہے جس وقت آپ ایکسلریٹر کو چھوڑتے ہیں تو ٹورک کومحسوس کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس کا ٹورک اسٹارٹ کرتے وقت اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے، لیکن خالی سڑک پر مقرر ٹاپ اسپیڈ سے گاڑیوں کو اوور ٹیک کرکے آگے بڑھنا مشکل ہے۔ اسکوٹر میں دستیاب  اِیکو موڈ پر زیادہ سے زیادہ رفتار ۴۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ساتھ ہی اسپورٹس موڈ میں  زیادہ سے زیادہ   رفتار ۷۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ جبکہ بائیں طرف دئیے گئے ٹربو کے بٹن سے اسے  ایکٹیو کرکے اسپیڈ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جو ٹاپ اسپیڈ کو ۴؍ سے ۶؍ کلومیٹر فی گھنٹہ بڑھا دیتا ہے۔
 ای اسکوٹر کے دونوں پہیوں میں ڈسک بریک موجود ہیں۔ اسکوٹر کی چابی پر ۴؍ بٹن دئیے گئے ہیں جسے ریموٹ کنٹرول کہا جاتا ہے۔ چابی سے بٹن لاک اور اَن لاک، اگنیشن کو آن، الارم کو ایکٹیو کرسکتے ہیں۔ آپ الارم کو ’الارم ‘ بٹن دباکر روک بھی سکتے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کو چلانا اتنا بڑا کام نہیں ہے جتنا انہیںچارج کرنا ہے۔  پریز پرو کا بیٹری پیک ۲؍کے ڈبلیو ایچ ہے جو ایک ریمو ایبل یونٹ ہے۔ اس کے ساتھ کمپنی ۸۴؍ وولٹ / ۱۰؍ اے چارجر دیتی ہے۔ اس کی مدد  سے بیٹری کو ۵؍ سے۶؍ گھنٹے میں مکمل چارج کیا  جاسکتا ہے۔ اسکوٹر میں یو ایس بی چارجنگ پورٹ بھی دیا گیا ہے۔ 
 پریز پرو میں ایک مکمل ڈیجیٹل انسٹرومنٹ کلسٹر بھی دیا گیا ہے جو رفتار ،آرپی ایم ،بیٹری لیول، رائیڈنگ ٹائم، اوڈومیٹر اور ٹرپ میٹر کو دکھاتا ہے۔ پریز پرو کی ڈرائیونگ رینج کے متعلق کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک بار مکمل چارج ہونے پر ۱۱۰؍ کلومیٹر دوڑتا ہے لیکن ہم نے اسے چلایا تو اس کی ڈرائیونگ  رینج ۸۵؍ کلومیٹر رہی۔
قیمت کیا ہے
 اوکینا وا پریز پرو کی قیمت ۷۹؍ہزار ۲۷۷؍ روپے (ایکس شوروم) ہے جو دیگر الیکٹرک اسکوٹروں کے مقابلے کافی کم ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے اس اسکوٹر کو ۵۰۰؍کلومیٹر تک دوڑایا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ آپ اگرروز۶۰؍ سے ۷۰؍ کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں تو یہ ایک بہتر متبادل بن سکتا ہے۔ 

auto news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK