میرا ہدف کورنیا ٹرانسپلانٹ تکنیک کی ماہربننا ہے، یہ تکنیک ہندوستان میں ابتدائی مراحل میں ہے

Updated: March 25, 2021, 12:05 PM IST | Saeed Ahmed Khan

آپتھلمولوجی کا پی جی امتحان  نمایاں نمبرات سے کامیاب اوربہترین تعلیمی کارکردگی پر۳؍گولڈمیڈل حاصل کرنے والی آنکھوں کی سرجن ڈاکٹر ثانیہ عادل سید سے انقلاب کی خصوصی بات چیت

Sania Adil - Pic : INN
ثانیہ عادل ۔ تصویر : آئی این این

 امراض چشم کےعلاج کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے اور۳؍ گولڈ میڈل کی حقدار بننے  والی ڈاکٹر ثانیہ عادل سید کی شاندار کامیابی پر نمائندہ انقلاب نے ان سے بات چیت کی۔ انہوں نے آپتھلمولوجی جسے عرف عام میں آنکھوں کاسرجن کہا جاتا ہے ،میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ ۱۹؍ مارچ کو ممبئی کے کالج آف فزیشینز اینڈ سرجنس (سی پی ایس) نے میڈیسن میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کیلئے سی پی ایس ہاؤس پریل میں منعقدہ ۱۴۸؍ ویں کانوکیشن میں ڈاکٹر ثانیہ کو۳؍ گولڈ میڈل سے نوازا۔ انہوں نے اپنی تعلیم اورکامیابی کے تعلق سے کیا کہا ،اسے ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔
سوال:اپنی تعلیم سے متعلق کچھ تفصیلات بتائیں۔
ڈاکٹر ثانیہ: میری تعلیم بوریولی کے میری ایمکیولیٹ کانوینٹ اسکول میں ہوئی۔   میں ہمیشہ کلاس کے ٹاپ تھری طلبہ میں رہی۔۲۰۰۸ء میں انٹیل کمپنی کی جانب سے عالمی مقابلہ آئی آئی ٹی ممبئی میں ہوا تھا اس میں ہم نے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے اور جراثیم کو مارنے کیلئے بایو ڈیگریڈبل پیسٹیسائیڈز پروجیکٹ تیار کیا تھا جس سے کسانوں کو‌اور ان کی صحت کو نقصان نہ پہنچے۔ اس پر ہماری اسکول کو انعام سے نوازا گیا تھا۔ چونکہ والد صاحب ڈاکٹر افروز علی سید بھا بھا ایٹمک ریسرچ سینٹر میں فزکس کے پروفیسر رہے ہیں اور والدہ ڈاکٹر سائرہ سید بھی اعلی تعلیم یافتہ ہیں اس بنیاد پر ہم نے اور ہماری دونوں بہنوں نے بھی سائنس شعبہ کا  انتخاب کیا۔ ایس ایس سی‌ میںمجھے۸۲؍ فیصد مارکس ملے اور ہم نے گیارہویں اور بارہویں ساٹھے کالج ولے پارلے سے پاس کیا۔ 
سوال: والدین نے کس طرح توجہ دلائی اور آپ کی رہنمائی کی۔
ڈاکٹر ثانیہ: حقیقت تو یہ ہے کہ اب تک کی تمام کامیابی کا سہرا میرے والدین کے سر ہی بندھتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب ہم بہنیں اسکول اور کالج سے گھر پہنچتے تھے تو روزانہ والدین ہم لوگوں پر ڈیڑھ تا دو گھنٹہ باقاعدگی سے صرف کرتے تھے اور اس دوران یہ پوچھتے تھے کہ تم نے کیا پڑھا ، اسے کس طرح عملی طور پر زندگی میں لایا جا سکتا ہے اور اس سے دوسروں کو‌کیسے نفع پہنچایا جاسکتا ہے۔ والدین کی توجہ اور رہنمائی کا اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں نے جب ساٹھے کالج میں ایڈمیشن لیا تو میرے والد بوریولی سے ولے پارلے کالج چھوڑنے اور کالج سے گھر لے جانے کے لئے دو ماہ سے زائد وقت تک متواتر آتے جاتے رہے۔ جب لوکل ٹرین میں سفر کی ایک طرح سے تربیت ہوگئی تویہ سلسلہ موقوف ہوگیا۔ امتحان کے زمانے میں تو باقاعدہ چھٹی لے کر تیاری کرواتے تھے۔ امتحان کے دوران شوق تو خوب دلاتے لیکن دباؤ نہیں ڈالتے تھے ۔اگر کوئی پرچہ زیادہ بہتر نہیں بھی ہو تا تھا تو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے یہی کہتے تھے کہ کوئی بات نہیں ، ہوتا ہے ، کوشش کرو، سب اچھا ہوگا۔اتنا ہی نہیںبلکہ والدین نے عصری تعلیم کیساتھ ساتھ اسلامی معلومات کیلئے بھی ہمیشہ ترغیب دلائی ۔میری والدہ اکثر کہتیں کہ بیٹا ، اللہ رب العزت سے دعا تہجد میںمانگو، اس وقت کی دعا ضرور قبول کی جاتی ہے۔
سوال: امراض چشم کے شعبے کا انتخاب آپ نے کیسے کیا؟
ڈاکٹر ثانیہ:  دراصل بارہویں کے بعدمیں نے اے آئی پی ایم ٹی جو اِس وقت نیٹ کہلاتا ہے،کی تیاری کی لیکن پہلی مرتبہ اتنا اچھا رزلٹ نہیں آیا کہ مجھے ایم بی بی ایس میں داخلہ مل سکے تو میں نے مزید ایک سال تیاری کی اور جب دوبارہ ملکی سطح پر امتحان دیا تو میرا نمبر بنگلور کے ایم وی جے کالج میں لگ گیا۔ ہم لوگ ممبئی میں رہتے تھے اور نمبر بنگلور میں آیا‌تھا اس لئے کچھ پس وپیش کی کیفیت تھی لیکن والدین ، دادی اور نانی نے حوصلہ افزائی کی اور میں بنگلور چلی گئی۔ ساڑھے پانچ سال تک بنگلور میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ممبئی واپس آئی۔ بنگلور کے قیام کے دوران بھی والدین میں سے کوئی نہ کوئی آ جاتا اور امتحان کی تیاری کرواتا اور امتحان ختم ہونے کے بعد ساتھ ممبئی لے آتے ۔یہ بھی اتفاق ہےکہ ایم بی بی ایس پاس کرنے کے بعد جب رزلٹ آیا تووالدین کے ساتھ میںعمرہ کے لئے گئی تھی اورمسجد نبوی ؐمیںتھی کہ اسی دوران میری سہیلی نے فون کال پر بتایاکہ مبارک ہو، تمہارے نام کے آگےڈی آر لگ گیا ہے یعنی تم ڈاکٹر بن گئی ہو۔  
  میں نے ممبئی میں دو اسپتالوں ’امراؤ ‘اور ’کورونا‘ میں میڈیکل آفیسر کے طور پر بھی کام کیا اور اسی کے ساتھ یو ایس میں پی جی کے لئے میڈیکل امتحان کی تیاری کی۔ اس کے بعد میں یو ایس اے چلی گئی وہاں میں نے دو امتحان پاس بھی کر لئے  لیکن اسی دوران مجھے یہ خیال آیا کہ والدین تنہا ہوں گے۔ اس وقت میری چھوٹی بہن بھی یو ایس میں انجینئرنگ کے بعد پوسٹ گریجویشن کر رہی تھی۔ چنانچہ میں ہندوستان لوٹ آئی اور یہاں آکر ’پی جی نیٹ‘   دینے کے ساتھ ایک سال مزید تیاری کی ۔  اسی دوران شادی ہوگئی لیکن چند ماہ بعد میں نےپھر تعلیم کا سلسلہ شروع کردیا  جس میں میرے شوہر اور سسرال والوں نے کافی مدد کی ۔ بطور خاص میرے جیٹھ ڈاکٹر نادر شاہ (آرتھو پیڈک  جے جے اسپتال )نے بھی حوصلہ دیا اور سومیہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال (سائن )میں آپتھلمولوجی میں داخلہ مل گیا اور اس میںبھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔سومیہ کالج میں ہی دورانِ تعلیم ہم نے ڈاکٹر مینو کرشنن کی سربراہی میں ان بچوں کے امراض چشم جن کی بینائی بچپن سے کمزور ہوتی ہے اس پر اسٹڈی کی اور جاپانی طریقہ ٔعلاج کا مطالعہ کیا جو اس مرض میں کافی کارگر ہے۔ اس پر ڈاکٹر مینو، مجھے اور تین افراد کو۱۵ ؍ دن کے تحقیقی دورہ کیلئے جاپان جانے کا موقع ملا۔ اس موضوع پر میرا تحقیقاتی مقالہ  جاپان کی عالمی سائنس جرنل میں شائع ہوا تھا ۔
سوال: اب آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے۔
ڈاکٹر ثانیہ: اب انٹرنیشنل کاؤنسل آپتھلمولوجی کی تیاری کر رہی ہوں تاکہ انٹرنیشنل فیلوشپ کر سکوں اور وہ فیلوشپ میں ’کورنیا‘ میں کرنا چاہتی ہوں۔ کورنیا دراصل آنکھ میں سیاہ نقطہ کے قریب وہ سفید حصہ ہے جو آنکھ کو کوَر کرتا ہے۔ یہ آنکھ کا وہ حصہ ہے کہ اس کے متاثر ہونے کی وجہ سے جن جوانوں کی بینائی ختم ہونے کے قریب ہوتی ہے، کورنیا ٹرانسپلانٹ کے ذریعےان کی بینائی لوٹائی جاسکتی ہے۔ یہ تکنیک ہندوستان میں ہے تو مگر ابھی یہ ابتدائی مرحلے میں ہے۔ میری کوشش یہی ہے کہ میں اس میں مہارت حاصل کروں اور اگر کچھ لوگوں کی بھی‌بینائی لوٹانے میں کامیابی ملی تو‌ میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھوں گی۔
 سوال: لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم میں کیا آپ کوئی فرق محسوس کرتی ہیں۔
ڈاکٹر ثانیہ: بالکل نہیں، دونوں میں صلاحیتیں موجود ہیں ۔اگر لڑکیوں کی‌ تعلیم اور تربیت کے تئیں ان کی صحیح رہنمائی کی جائے‌، انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع دیا جائے ،اعتماد کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تو میں اپنے تجربے کے بنیاد پر یہ کہہ سکتی ہوں کہ لڑکیاں کسی بھی شعبے میں اپنی زبردست صلاحیت کے ذریعے شاندار اور نمایاں کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK