شخصیت کو بہتر بنانے کے چند قیمتی اُصول

Updated: October 11, 2022, 1:42 PM IST | Shaikh Saeedah Unsari | Mumbai

دُنیا ترقی کی طرف اور ہماری شخصیت تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ جب اپنی شخصیت کا محاسبہ کیا جاتا ہے تو غصہ، نفرت، انتقام، حسد، جلن اور تشدد کے جذبات ہم پر حاوی نظر آتے ہیں جو خواتین کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان منفی جذبات سے نجات پانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، مکمل کوشش سے منفی جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے

Promote the values ​​that were the basis of a better personality .Picture:INN
جو اقدار بہتر شخصیت کی بنیاد تھے عنقا ہوتے جا رہے ہیں انہیں فروغ دیں۔ تصویر:آئی این این

دُنیا کی ہر چیز بہتر سے بہتر کی طرف گامزن ہے۔ جتنی بھی ترقی ہوئی ہے آج بھی ایسا لگتا ہے اور بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر چیز کی ہر بات کی معلومات ہے دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے! افسوس خبر نہیں ہے تو صرف خود کی۔ ہم خود سے خود کی ذات سے انجانے ہوتے جا رہے ہیں۔ دُنیا ترقی کی طرف اور ہماری شخصیت تنزلی کی طرف رواں دواں ہے۔ جب اپنی شخصیت کا محاسبہ کیا جاتا ہے تو غصہ، نفرت، انتقام، حسد، جلن اور تشدد کے جذبات ہم پر حاوی نظر آتے ہیں جو خواتین کی شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ ان منفی جذبات سے نجات پانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، مکمل کوشش سے منفی جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ مشہور فلاسفر خلیل جبران کے مطابق، ’’دُنیا میں ایک شے ہے جس کو آپ بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں وہ خود آپ ہیں۔‘‘ ہماری شخصیت میں بہتری کی گنجائش ہر وقت رہے گی۔ خود کی شخصیت ہی سے اصلاح کی راہ نکل کر آئیگی۔ جو اقدار بہتر شخصیت کی بنیاد تھے عنقا ہوتے جا رہے ہیں انہیں فروغ دیں۔
سچ بولنا، جھوٹ سے پرہیز
 سچ تمام نیکوں کی جڑ ہے۔ تمام برائیوں کا ادراک ہے۔ ’’آج کل سچ کا زمانہ نہیں رہا‘‘ کی صدائیں ماحول میں گونج رہی ہیں۔ گونج اس قدر شدید ہے کہ جھوٹ کے اس نقارخانے میں سچ کی حیثیت طوطی کی ہوکر رہ گئی۔ طوطی کی ضرور ہوگئی ہے لیکن جھوٹ پر غالب آنے کی بھاری پڑنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے۔ آج بھی سچے انسان کو قدر و منزلت کی نگاہ سے ضرور دیکھا جاتا ہے۔ آپ خاتون ِ خانہ ہیں گھر کا مرکز ہیں۔ آپ کی یہ کوشش ضرور ہونی چاہئے کہ گھر کے ماحول میں جھوٹ پنپ تو نہیں رہا ہے۔ جھوٹ جڑ تو نہیں پکڑ رہا ہے؟ اکثر گھر میں ہم اور بچے چھوٹے چھوٹے جھوٹے بہانے اکثر کرتے ہیں۔ یہی جھوٹ کی فروغ کی جڑ ہے اس پر روک لگائیں۔ سچ پر قائم رہنا انسانیت کی معراج ہے اور ایک بہتر شخصیت کی علامت۔
معاف کرنا
 ’’معاف کرنا‘‘ یہ خود سے خود کو دینے والا ایک بہترین تحفہ ہے اور یہ خود ہی کیلئے ایک نعمت ہے۔ اس کے فقدان کی بدولت ذہنی تناؤ عروج پر ہے جو مختلف بیماریوں کا پیش خیمہ ہے۔ معاف کرنا سوچ کو وسعت دیتا ہے۔
معافی مانگنا
 یہ ایک بہترین شخصیت کی پہچان ہے اور اس کے عروج کی انتہا ہے۔ اس کا مطلب یوں ہے کہ اپنی غلطیوں کا اقرار کرنا اپنی ہٹ دھرمی کو اپنی اَنا کو قابو میں کرنا ہے گویا کہ اس شخص نے خود کی ذات پر ایک بڑی فتح حاصل کر لی ہے۔ ’’معاف کرنا‘‘ اور ’’معافی مانگنا‘‘ یہ دو جادوئی عمل ہیں جو زندگی میں رشتوں کی مٹھاس کو بڑھاتے ہیں۔ رشتوں کو مضبوطی ملتی ہے اور سب سے اہم ذہنی سکون ملتا ہے اور یہ ایک بہترین شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
کم بولنا، زیادہ سننا
 اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک منفرد خاصیت دی ہے یعنی قوت گویائی جو دوسری مخلوقات سے نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہر ایک کو بولنے کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ہمیں اپنی ہی بات اپنا ہی نظریہ کو بلند کرنا کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس کا علاج ضروری ہے اور یہ بہت سارے گلے کے ا مراض کا سبب بنتا جا رہا ہے اس پر قابو پانے کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آپ بولنا چاہیں اپنے آپ سے یہ سوال کریں کیا یہ بولنا ضروری ہے؟ ۹۰؍ فیصد باتوں میں ہمیں ایسا محسوس ہوگا کہ بالکل ضروری نہیں ہے تو خاموش رہیں۔ یہ ایک اچھی کوشش ہوگی۔ کم بولنا اور زیادہ سننا اعلیٰ ظرفی ہے اور ایک بہتر شخصیت کی نشانی ہے۔
دوسروں سے کم توقعات وابستہ کرنا
 توقعات اپنی مرضی سے اٹھائے ہوئے بوجھ ہیں۔ اگر پرواز بلند کرنی ہو تو اپنی توقعات کے بوجھ کو کم کرنا ہوگا۔ توقعات شخصیت کو مجروح کرتے ہیں۔ توقعات کرنا کوئی جرم یا گناہ نہیں ہے۔ لیکن کوئی بھی چیز جب حد سے آگے بڑھتی ہے تو خطرے کا باعث بنتی ہے۔ توقعات ایک شدید مرض کی طرح لاحق ہوگیا ہے۔ اور ہم اپنی ہی توقعات کے عینک سے رشتوں کو دیکھتے ہیں کہ کس نے ہمارے لئے کیا کیا.... تو آپس میں شکوے شکایتیں بڑھتی ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر ہم یہ شمار کریں کہ ہم نے دوسروں کی کتنی توقعات پوری کی ہیں تو مایوسی ہاتھ آئیگی کیونکہ ہم نے صرف توقعات کی ہیں اور کچھ نہیں کیا جو ایک کمزور شخصیت کی علامت ہے۔
ہمہ وقت خوش رہنا
 خوشی اپنی کارکردگی اور عمل میں پنہاں ہوتی ہے۔ جب آپ سچ پر قائم ہیں، معاف کرنا اور معافی مانگنا اپنا شعار ہے۔ مدد کرنے کا جذبہ ہے۔ دوسروں کی توقعات کی اہمیت ہے اور پورے بھی کرتے ہیں تو ایک انجانی خوشی کا احساس آپ کے وجود کو منور کرتا ہے اور سب سے اہم خوش رہنے کا فن آپ نے پا لیا ہے جو ایک بہتر شخصیت کا طرہ امتیاز ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK