آئی پی ایل کی کے کے آر ٹیم میںبنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کی ملکیت والی کولکاتا نائٹ رائیڈر میں بنگلہ دیش کے کرکٹ کھلاڑی مصتفیض الرحمان کی شمولیت نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi
آئی پی ایل کی کے کے آر ٹیم میںبنگلہ دیشی کھلاڑی کی شمولیت پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کی ملکیت والی کولکاتا نائٹ رائیڈر میں بنگلہ دیش کے کرکٹ کھلاڑی مصتفیض الرحمان کی شمولیت نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔
شاہ رخ خان کی زیر ملکیت کولکاتا نائٹ رائیڈر (کے کے آر) کی ٹیم میں بنگلہ دیشی کرکٹ کھلاڑی مصتفیض الرحمان کی شمولیت نے سیاسی ہلچل مچا دی۔ واضح رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کے کے آر نے آئی پی ایل نیلامی کے دوران رحمان کو ۹؍کروڑ ۲۰؍ لاکھ روپے میں خریدا۔ اگرچہ کچھ کرکٹ ماہرین نے اس فیصلے کو حکمت عملی کا ایک حصہ قرار دیا، لیکن اس نے ملک میںشدید مخالفت کو جنم دیا، خاص طور پربنگلہ دیش میں اقلیتی فرقے کے ایک شخص کی موت کے بعد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگیکے پس منظر میں۔بعد ازاں بی جے پی لیڈرسنگیت سوم نے شاہ رخ خان کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے ہندو مذہبی رہنما دیو کی نندن ٹھاکر کی بات کو دہرایا جنہوں نے خان پر ’’غداری ‘‘کا لیبل لگایا۔اس کے ساتھ ہی سوم نے الزام لگایا کہ خان ایسے ملک کی حمایت کر رہے ہیں جہاں اقلیتوںکو ظلم و تشدد کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر: فلسطینی پرچم چھپا ہیلمٹ پہنے کرکٹر سے پولیس کی تفتیش
اسی طرح، شیو سینا کے سنجے نیروپم نے خان سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش مخالف جذبات کی لہر میں اس کھلاڑی کو منفی ردعمل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ نیروپم نے کہا’’شاہ رخ خان کو چاہیے کہ مصتفیض الرحمان کو ان کی خود کی حفاظت کی خاطر ٹیم سے نکال دیں۔جبکہ ان خدشات کو شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایک اور لیڈر آنند دوبے نے بھی دہرایا جنہوں نے تجویز پیش کی کہ بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل سے مکمل طور پر روک دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خان نے ایسا نہ کیا تو ایساظاہر ہوگا کہ وہ قومی جذبات کی قدر نہیں کرتے۔دوسری طرف، کانگریس لیڈروںنے شاہ رخ خان کا ساتھ دیتے ہوئے بی جے پی کے موقف کی مذمت کی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے ’’غداری‘‘ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے کثیرالثقافتی معاشرے پر حملہ قرار دیا۔ ٹیگور کا کہنا تھا، ’’نفرت قوم پرستی کی تعریف نہیں کر سکتی۔‘‘ اس کے علاوہ کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے بی سی سی آئی اور آئی سی سی پر انگلی اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ آئی پی ایل نیلامی میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے اور کرکٹ بورڈ سے جوابات کا مطالبہ کیا۔
سیاسی تنازع کے درمیان، مذہبی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آل انڈیا امام ایسوسی ایشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے خان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے زور دیا کہ کھیل اور فلمیں قومی سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہیں۔ انہوں نے خان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے والوں، جیسے دیوکی نندن ٹھاکر، کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح، آل انڈیا مسلم جمعت کے صدر مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا کہ شاہ رخ خان کا آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کا انتخاب غداری نہیں ہے، اور انہوں نے بنگلہ دیش میں اقلیتی برادریوں کے ساتھ یکجہتی اور ان کی حفاظت کیتائد کی۔