روس نے پوتن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کے ثبوت امریکہ کے حوالے کر دئے،روسی ماہرین کی جانب سے ڈرون کے ڈیٹا کے تجزیے نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا ہدف روسی صدارتی محل کا کمپلیکس تھا۔
EPAPER
Updated: January 02, 2026, 10:01 PM IST | Moscow
روس نے پوتن کی رہائش گاہ پر یوکرینی حملے کے ثبوت امریکہ کے حوالے کر دئے،روسی ماہرین کی جانب سے ڈرون کے ڈیٹا کے تجزیے نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا ہدف روسی صدارتی محل کا کمپلیکس تھا۔
روس کے ایک اعلی فوجی افسر نے ماسکو میں یوکرینی ڈرون حملے کے تعلق سے دستاویزات کا ایک حصہ امریکی ملٹری کودیا جس میں موجود ڈیٹا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یوکرینی فوج نے اس ہفتے روسی صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا تھا۔واضح رہے کہ روسی حکام نے پیر کویوکرین پر الزام لگایا تھاکہ اس نے ۹۱ ؍لانگ رینج اٹیک ڈرون کے ذریعے شمالی نووگورود ریجن میں صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔بعد ازاںروس نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے بارے میں امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں اپنی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھئے: روس یوکرین سے جنگ جیت جائے گا، سال نو کی تقریر میں پوتن کا دعویٰ
جبکہ یوکرین اور مغربی ممالک نے حملے کے روسی بیان سےاختلاف کیا ہے۔روسی دفاعی وزارت کے ٹیلیگرام چینل پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں آئیگور کوسٹیوکوف (روسی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے مرکزی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ) کو دکھایا گیا ہے جو امریکہ کو گرائے گئے ڈرون کے کنٹرول میکنزم دے رہے ہیں۔کوسٹیوکوف نے کہا، ’’روسی خصوصی خدمات کے ماہرین کی جانب سے ڈرون کے نیویگیشن کنٹرولر میموری کے موادکے تجزیے نے بلا کسی شک کے تصدیق کر دی ہے کہ حملے کا ہدف نووگورود ریجن میں روسی صدر کی رہائش گاہ کی عمارتوں کا کمپلیکس تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا خیال ہے کہ یہ اقدام تمام سوالات ختم کر دے گا اور سچائی کی نشاندہی میں مدد فراہم کرے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ یورو زون میں شامل: یورو اب سرکاری کرنسی، یورپ میں انضمام
دریں اثناء انہوں نے امریکی فوجی نمائندے کو ایک ڈیوائس دکھاتے ہوئے کہا کہ حملے کے دوران مار گرائے گئے کئی ڈرونز کے نیویگیشن سسٹم محفوظ حالت میں ہیں۔کوسٹیوکوف نے یہ ڈیوائس امریکی نمائندے کو دیتے ہوئے کہا، ’’ہم آپ کو یہ کنٹرولر اور ہمارے ماہرین کی طرف سے تیار کردہ اس کی تفصیلات دینا چاہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ قدم تمام سوالات کو دور کرنے اور سچائی کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔‘‘دفاعی وزارت نے اس سے قبل ٹیلیگرام پر ایک بیان پوسٹ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے نتائج امریکہ کو منتقل کر دیے جائیں گے۔تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روسی الزامات کےتعلق سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پیر کوصحافیوں سے کہا کہ پوتن نے انہیں مبینہ واقعہ سے آگاہ کیا تھا اور وہ اس پر شدید غصہ تھے۔