فیروز عالم کانسٹبل سے اے سی پی بننے کی یہ کہانی انتھک محنت سے بھری ہے

Updated: June 01, 2021, 2:24 PM IST

دہلی پولیس کے کانسٹبل فیروز عالم اب اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ( اے سی پی)بن گئے ہیں۔ پولیس محکمہ میں نچلے عہدہ سے اپنا کریئر شروع کرنے والے فیروز عالم نے اپنی جدوجہد اور انتھک محنت کے ذریعہ وہ مقام حاصل کرلیا جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔

Feroz Alam. Picture:INN
فیروزعالم۔تصویر :آئی این این

 دہلی پولیس کے کانسٹبل فیروز عالم اب اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ( اے سی پی)بن گئے ہیں۔ پولیس محکمہ میں نچلے عہدہ سے اپنا کریئر شروع کرنے والے فیروز عالم نے اپنی جدوجہد اور انتھک محنت  کے ذریعہ وہ مقام حاصل کرلیا جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ ۳۰؍سالہ فیروز عالم کا تعلق اترپردیش کے ہاپوڑ ضلع کے پلکھوا گاؤں سے ہے۔ ان کے والد اسکریپ ڈیلر ہیں۔  اسکولی دنوں سے ہی ان کا خواب تھا کہ پولیس فورس میں شامل ہوں اور اعلیٰ افسر بنیں۔
 تفصیلات کے مطابق  فیروز نے ۲۰۱۰ء میں دہلی پولیس میں بحیثیت کانسٹبل اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے ملازمت کرتے ہوئے  اپنا گریجویشن مکمل کیا اور اس کے بعد یونین پبلک سروس کمیشن امتحان کی تیاری کی اور اس مشکل سمجھے جانے والے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے آئی پی ایس کا عہدہ حاصل کیا۔  چھوٹے سے عہدہ پر کام کرتے ہوئے پڑھائی کرنے اور یوپی ایس سی امتحان کامیاب کرنے پر پچھلے سال وہ ذرائع ابلاغ میں خوب چرچا میں رہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان کی محنت اور حصولیابی کی جم کر ستائش بھی کی تھی۔
  خیال رہے کہ فیروز عالم نے ۲۰۱۹ء کے یوپی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کا رینک ۶۴۵؍واں تھا۔ اس امتحان کانتیجہ ۴؍اگست ۲۰۲۰ء کو ظاہر کیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ فیروز عالم کو یہ کامیابی ان کی چھٹی کوشش میں ملی تھی۔ پے درپے کوششوں میں ناکامی کے بعد بھی وہ دل برداشتہ نہیں ہوئے اور بالآخر چھٹی کوشش میں کامیاب رہے۔    یکم اپریل کو وہ  اے سی پی بن گئے ہیں اور ان کی ٹریننگ جاری ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فیروز عالم نے اپنے کریئر کے ابتدائی دنوں کے متعلق  بتایا کہ ’’میں نے بارہویں جماعت میں کامیابی کے بعد دہلی پولیس بھرتی کی درخواست کی اور منتخب ہوا۔ اس طرح  کانسٹبل کی ملازمت ملنے کے بعد میں نے اپنا ہدف بنالیا کہ اب میں یوپی ایس سی امتحان کلیئر کروں گا۔ اسکے لئے میں نے اپنا گریجویشن مکمل کیا اور اسکے بعد سول سروس امتحان کی جدوجہد شروع ہوئی۔ ‘‘
 پولیس ٹریننگ کالج دہلی میں زیر تربیت فیروز عالم نے بتایا کہ ’’میں نے  ملازمت کرتے ہوئے یوپی ایس سی کی تیاری کی۔ اس دوران محکمے  اور افسران سے مجھے تعاون اور حوصلہ افزائی ملی۔ پولیس محکمہ میں جاب ملنے کے بعد میرا ایک ہی مقصد تھا کہ  سول سروس امتحان کامیاب  ہوجاؤں تاکہ اعلیٰ افسر بننے کا اپنا خواب پورا کرسکوں اس کے لئے میں نے ہرممکن محنت کی۔ناکامی سے نہیں گھبرا گیا اور مسلسل کوشش کرتا رہا۔ ‘‘ اے سی پی بننے پر فیروز عالم کہتے ہیں کہ ’’اب زندگی میں کافی خوشگوارتبدیلی آگئی ہے۔ مجھے اس وقت عجیب لگتا ہے کہ جب پولیس محکمے کے میرے کانسٹبل دوست مجھے سر کہتے ہیں۔ اتنے سال تک ان کی زبان سے بھائی سنتا آیا ہوں اب سر کہتے ہیں تومجھے عجیب لگتاہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK