کارکے یہ ۴؍ فیچر جو ڈرائیور اور کار سواروں کی سلامتی کیلئےبےحد کارآمد ہیں

Updated: May 08, 2021, 1:14 PM IST

ملک میں جتنی بھی ماڈرن کاریں لانچ ہورہی ہیں ان سبھی میں بہترین’ اِن کلاس سیفٹی فیچرس‘ فراہم کئے جارہے ہیں جو حادثہ ہونے کی صورت میں کار سواروں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

ملک میں جتنی بھی  ماڈرن کاریں لانچ ہورہی ہیں ان سبھی میں بہترین’ اِن کلاس سیفٹی فیچرس‘ فراہم کئے جارہے ہیں جو حادثہ ہونے کی صورت میں کار سواروں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ فیچرس کتنے کارگر ہیں یہ ایکسیڈنٹ کی نوعیت پر منحصر ہے۔ حالانکہ کار میں کچھ ایسے بھی فیچر دئیے جاتے ہیں جن کے بارے میں زیادہ تر لوگ نہیں جانتے ہیں، یہ فیچرس سیکوریٹی کے لحاظ سے بے حد ہی ضروری ہیں اور یہ آپ کی ڈرائیونگ کو بے حد محفوظ بنادیتے ہیں۔ اس چھوٹے سے مضمون میں ہم آپ کو کاروں میں دئیے جانے والے ایسے ہی ۵؍ فیچرس کے بارے میں بتارہے ہیں۔
 ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم: نئی کاروں میں ٹی پی ایس یعنی ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم دیا جارہا ہے۔ یہ کار کے چاروں ٹائروں کے بارے میں معلومات دیتا ہے۔ یہ سسٹم سینسر پر کام کرتا ہے اور ٹائر کی ہوا کم ہونے کی صورت میں مطلع کرتا ہے۔ اس سے بروقت کسی مسئلے سے بچا جاسکتا ہے۔فی الحال یہ فیچر ابھی پریمیم کاروں میں ہی موجود ہے اور ہیچ بیک و انٹری لیول کاروں میں شامل نہیں ہوا ہے۔ 
سیٹ بیلٹ ریمائنڈر: یہ فیچر آج کل بیشتر کاروں میں فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ اس وقت کام کرتا ہے جب آپ نے سیٹ بیلٹ نہ لگایا ہو۔ اگر کار چلتے وقت آپ سیٹ بیلٹ اتار دیتے ہیں یا سیٹ بیلٹ نہ لگایا تو یہ مسلسل الارم بجاتا ہے جس سے آپ کو یاد دہانی ہوجاتی ہے کہ سیٹ بیلٹ لگانا ہے۔
 سیٹ بیلٹ پری ٹینشر: اگر یہ کار میں موجود ہے تو حادثہ کے وقت کار سواروں کو سیٹ سے ہٹنے نہیں دیتا۔ جس سے ڈرائیور اور اس کےبغل میں بیٹھا مسافر ونڈ شیلڈ یا ڈیش بورڈ سے نہیں ٹکراتے ہیں اور ان کے سر پر کسی طرح کی چوٹ نہیں آتی ہے۔
 اوور اسپیڈنگ الارم: کار میں اوور اسپیڈنگ الارم لگا رہتا ہے جس سے کار تیز رفتارہونے پر آپ کو پہلے ہی پتہ چل جائے گا  اور ایک الارم بھی بجنے لگے گا۔ کئی بار لوگ اسپیڈ دیکھے بغیر ہی کار دوڑانے لگتے ہیں جو خطرناک رفتار تک پہنچ جاتی ہے ۔ ایسا کوئی مسئلہ نہ ہو اس کے لئے یہ الارم دیا جاتا ہے۔

auto news Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK