ایکمین نے مظاہرین کے خلاف تہران کے کریک ڈاؤن اور ایران کی امریکہ دشمنی کا حوالہ دیتے ہوئے ممدانی کے اخلاقی فیصلے پر سوال اٹھایا اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مخالفت کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 7:04 PM IST | New York
ایکمین نے مظاہرین کے خلاف تہران کے کریک ڈاؤن اور ایران کی امریکہ دشمنی کا حوالہ دیتے ہوئے ممدانی کے اخلاقی فیصلے پر سوال اٹھایا اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مخالفت کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی ارب پتی اور سرمایہ کار بل ایکمین نے نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ سنیچر کو ایران پر امریکہ اور ایران کے مشترکہ حملوں کے بعد ممدانی نے اس فوجی آپریشن کو، جسے مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، ’غیر قانونی جارحانہ جنگ میں تباہ کن اضافہ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس کارروائی سے جنگ کا نیا محاذ کھلنے کا خطرہ ہے، جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی عوام کسی بیرونی جنگ کے بجائے امن اور اندرونی معاشی دباؤ سے ریلیف چاہتے ہیں۔
ممدانی کا بیان سامنے آنے کے بعد، ’پریشنگ اسکوائر کیپیٹل منیجمنٹ‘ کے بانی بل ایکمین نے ممدانی پر ایرانی قیادت کی طرف داری کرنے کا الزام لگایا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میئر بظاہر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین کے خلاف تہران کے کریک ڈاؤن اور ایران کی امریکہ دشمنی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے ممدانی کے اخلاقی فیصلے پر سوال اٹھایا اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مخالفت کرنے پر ان کے طرزِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا دوٹوک اعلان: امریکہ سے مذاکرات نہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
دوسری جانب، ممدانی نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ ان کی توجہ بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے دوران نیویارک کے شہریوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حساس مقامات پر گشت بڑھانے اور ایرانی نژاد امریکی رہائشیوں کو ان کی حفاظت کا یقین دلانے کے لئے سٹی پولیس اور ہنگامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
اس حالیہ تصادم کے بعد دونوں شخصیات کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ نیویارک شہر کے میئر کے انتخاب کے دوران، ایکمین نے ممدانی کی امیدواری کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ممدانی کے حریف کی حمایت کرنے والے ’سپر پی اے سی‘ کو ۱۰ لاکھ ڈالر کا عطیہ بھی دیا تھا۔