Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی فضائی بندش، ایک لاکھ شہری بیرونِ ملک پھنس گئے

Updated: March 02, 2026, 8:01 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد اسرائیلی شہری بیرونِ ملک پھنس گئے ہیں۔ بین گوریون ہوائی اڈہ غیر معینہ مدت تک بند ہے اور فی الحال زمینی راستے ہی واپسی کا واحد ذریعہ ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

چینل ۱۲؍ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فضائی حدود کی اچانک بندش کے باعث ایک لاکھ سے زائد اسرائیلی شہری مختلف ممالک میں پھنس گئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ بین گوریون ایئرپورٹ اگلے نوٹس تک شہری پروازوں کے لیے بند رہے گا۔ تمام اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک جانے والی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ ایئرلائنز کو سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر شیڈول منسوخ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے سنیچر کی صبح ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے، جن کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران یا اس کے اتحادی گروہ فضائی اور بیرونِ ملک اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جس کے پیش نظر قومی سلامتی کونسل نے عالمی سطح پر اسرائیلی مفادات کے خلاف ممکنہ حملوں سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا دوٹوک اعلان: امریکہ سے مذاکرات نہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

زمینی راستے: واحد آپشن
رپورٹ کے مطابق اس وقت اسرائیل واپسی کے لیے زمینی سرحدی راستے ہی واحد متبادل ہیں۔ شہریوں کو اردن اور مصر کے راستے داخل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم وہاں بھی سیکوریٹی جانچ سخت کر دی گئی ہے۔ بیرونِ ملک پھنسے افراد میں سیاح، کاروباری افراد، طلبہ اور سرکاری نمائندے شامل ہیں۔ کئی مسافروں نے سوشل میڈیا پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے، جہاں وہ واپسی کے غیر یقینی شیڈول اور بڑھتے اخراجات پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

سیکوریٹی الرٹ اور عالمی خدشات
اسرائیل نیشنل سیکوریٹی کونسل نے متعدد ممالک میں اسرائیلی سفارت خانوں اور کمیونٹی مراکز کے لیے سیکوریٹی الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم اسرائیلی شہریوں کو عوامی مقامات پر احتیاط برتنی چاہیے، بڑے اجتماعات سے گریز کرنا چاہیے اور مقامی سیکوریٹی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے دفتر پر بیلسٹک میزائل حملہ: پاسدارانِ انقلاب

معاشی اور سفری اثرات
فضائی حدود کی بندش سے اسرائیل کی معیشت اور سیاحت کے شعبے کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کی معطلی سے نہ صرف مسافر متاثر ہوئے ہیں بلکہ کارگو اور تجارتی پروازوں میں بھی خلل آیا ہے۔ ایئرلائنز نے مسافروں کو متبادل تاریخوں پر ری بکنگ یا ریفنڈ کی پیشکش کی ہے، تاہم واضح ٹائم لائن نہ ہونے کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ فی الحال حکام نے فضائی بندش کی مدت کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ صورتحال کا انحصار ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی اور خطے میں سیکوریٹی حالات پر ہوگا۔ اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور جیسے ہی خطرات کم ہوں گے، فضائی آپریشن بحال کر دیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK