روپے پیسے کے معاملے میں جذبات کو درکنار کرتے ہوئے پریکٹیکل طریقے سے بات چیت ضروری ہے۔ پیسہ مانگتے یا دیتے وقت ہر پہلو
پر کھل کر بات چیت کریں تاکہ مستقبل میں دونوں جانب سے کوئی شکایت نہ ہو۔ پہلے ہی سمجھ لیں اور طے کرلیں کہ پیسہ کب اور کیسے واپس کیا جائے گا
مالی مدد ۔ تصویر : آئی این این
زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ کئی بار اپنوں سے مالی مدد لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رشتوں میں پیسے کا لین دین مشکل ہوتا ہے لیکن اگر کسی سے کبھی مالی مدد مانگنی پڑے یا کسی کو دینی پڑے تو کچھ باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے تاکہ پیسہ رشتوں میں دراڑ کی وجہ نہ بنے۔ پیسے کو بھلے ہی ہاتھ کا میل سمجھا جاتا ہو مگر جب یہ ہاتھ میں نہیں ہوتا، پسینہ چھوٹنے لگتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مالی مدد مانگنا اچھا نہیں لگتا، پھر بھی کئی مرتبہ ایسا کرنا پڑتا ہے۔ آج بینکوں سے قرض لینا آسان نہیں اور یہ سہولت ہر کسی کو نہیں ملتی۔ چاہے یا ان چاہے کئی بار دوستوں یا رشتہ داروں سے ادھار لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رشتوں میں لین دین سے بچنا چاہئے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ طے شدہ وقت پر پیسہ نہ لوٹایا گیا تو رشتے بگڑ سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے کئی لوگ زندگی کا اصول بنالیتے ہیں کہ دوستوں اور رشتہ داروں سے ادھار نہیں لیں گے۔ سنگین بیماری، حادثہ، ملازمت چھوٹ جانا، مالی نقصان، چوری یا کاروبار میں نقصان.... جیسی صورتحال میں لوگوں کو مدد مانگنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
حالات کا جائزہ لینے یا مدد کرنے کا طریقہ دونوں صورتوں میں ضرورت کو سمجھتے ہوئے قدم اٹھانا ہوگا۔ غلط فہمی سے بچنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ کیا واقعی ضرورت اتنی بڑی ہے کہ بغیر مانگے کام نہیں ہوگا؟ یہ بھی سوچیں کہ کیا مالی مدد کے علاوہ بھی کوئی دوسرا راستہ نکل سکتا ہے کہ موجودہ مصیبت سے نکل سکے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب صورتحال کی سنجیدگی پر غور کریں۔
واضح بات کریں
روپے پیسے کے معاملے میں جذبات کو درکنار کرتے ہوئے پریکٹیکل طریقے سے بات چیت ضروری ہے۔ پیسہ مانگتے یا دیتے وقت ہر پہلو پر کھل کر بات چیت کریں تاکہ مستقبل میں کوئی شکایت نہ ہو۔ پہلے ہی سمجھ لیں کہ پیسہ کب اور کیسے واپس کیا جائے گا۔ اگر قسطوں میں اس کی ادائیگی کرنی ہو تو قسط کی رقم بھی طے کر لیں۔ ضروری دستاویز بات چیت کے دوران سامنے رکھیں۔ مانگنے والے سے کبھی بھی یہ نہ پوچھیں کہ وہ اتنے پیسوں سے کیا کرے گا.... اس سے اس کے جذبات مجروح ہوسکتے ہیں۔
وقت طے کریں
پیسے ادھار لینے کے بعدلوٹانا بھی ہوتا ہے۔ اس کیلئے وقت طے کرلیں کیونکہ کوئی بھی اپنا پیسہ لمبے عرصے کیلئے نہیں دے سکتا۔ صحیح وقت طے کریں تاکہ پیسہ آسانی سے لوٹایا جاسکے۔ مدت ایسی ہو کہ لوٹانے والے کو بھی پریشانی نہ ہو اور دینے والے کو بھی دشواری نہ ہو۔ رقم چھوٹی ہے تو اسے جلدی لوٹانے کی کوشش کریں۔ اگر رقم بڑی ہے اور طے نہیں کر پا رہے ہیں کہ کتنے وقت بعد اسے ادا کر پائیں گے تو ایک مقررہ رقم کیلئے وقت طے کریں، اسے جلدی واپس کریں اور باقی کیلئے تھوڑا وقت مانگ لیں۔
دباؤ سے کیسے بچیں؟
لینے اور دینے والے کو صورتحال اور رشتوں کے دباؤ سے بچنا چاہئے۔ پیسہ دینے والے کو بھی اپنی مالی حالت کو دھیان میں رکھتے ہوئے مدد کرنی چاہئے۔ اگر کسی نے اتنی بڑی رقم کا تقاضا کیا ہے جس کا انتظام آپ نہیں کرسکتے یا وہ رقم دینے کے بعد خود مالی تنگی کا شکار ہوسکتے ہیں تو اسے پہلے ہی واضح کردیں۔ تذبذت کا شکار ہونے کے بجائے صاف طریقے سے سامنے والے کو بتائیں کہ اتنی رقم نہیں دے سکیں گے، پیسہ نہیں ہے، صاف کہہ دیں۔ گول مول جواب نہ دیں۔ سامنے والے کی مالی حالت کودھیان میں رکھتے ہوئے مدد مانگنی چاہئے۔ اگر مانگنے والا اپنی بات واضح انداز میں نہیں کہے گا یا کسی طرح کا دباؤ محسوس کرے گا تو دینے والے کو بھی صاف بات کرنے میں پریشانی ہوگی، اس لئے بہتر ہوگا کہ مکمل اور صاف بات کہی جائے۔
دھوکے میں نہ آئیں
پیسہ دیتے ہوئے اس پہلو پر ضرور غور کریں کہ سامنے والا مستقبل میں پیسہ واپس کرسکے گا یا نہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سامنے والا اپنا ہونے کی وجہ سے لوگ بھروسہ کرلیتے ہیں اور اچھی خاصی رقم ادھار دے دیتے ہیں مگر بعد میں انہیں پچھتانا پڑتا ہے اور رشتے الگ خراب ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اس بات پر بھی توجہ دیں۔
یاد رکھیں یہ باتیں
ز پیسہ مانگنے کو عادت نہ بنائیں۔ تبھی مانگیں، جب کوئی دوسرا راستہ نہ ہو۔
ز لین دین کرتے یا اس سے متعلق کوئی بھی بات کرتے وقت کسی ذمہ دار شخص کو گواہ بنائیں۔
ز قرض ادا کرنے تک اپنے ہر غیر ضروری خرچ پر روک لگائیں۔
ز طے شدہ وقت پر رقم واپس نہیں کر پا رہے تو عزیز یا رشہ دار کو پہلے ہی بتا دیں۔ ان سے ملیں اور عاجزی سے اپنی صورتحال بتائیں۔
ز رقم اتنی ہی دیں کہ واپس نہ ملنے پر بھی کوئی افسوس نہ ہو۔ اس کے علاوہ رقم لینے والے کو بار بار شرمندہ نہ کریں۔