Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۲؍ برسوں میں دُگنی ہوئی اتر پردیش میں بجلی کی کھپت

Updated: May 28, 2026, 2:03 PM IST | Lucknow

اتر پردیش میں گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں سالانہ بجلی کی کھپت دُگنی سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ نہ صرف مانگ میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ ریاست کے بجلی کے شعبے میں آئی ساختیاتی تبدیلیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

Power.Photo:INN
بجلی۔ تصویر:آئی این این

اتر پردیش میں گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں سالانہ بجلی کی کھپت دُگنی سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ افسران کے مطابق یہ نہ صرف مانگ میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ ریاست کے بجلی کے شعبے میں آئی ساختیاتی تبدیلیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ صارفین کی تعداد بڑھنے اور سپلائی کے گھنٹوں میں اضافے سے حکومت کے سامنے نیا چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔
اتر پردیش اسٹیٹ لوڈ ڈسپیچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، سالانہ بجلی کی کھپت۱۳۔۲۰۱۲ء  میں ۶ء۷۶۵۷۴؍ ملین یونٹ تھی، جو ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں بڑھ کر۱ء۱۶۲۸۵۸؍ ملین یونٹ ہو گئی۔ اوسط روزانہ کھپت بھی ۸ء۲۰۹؍ ملین یونٹ سے بڑھ کر ۷ء۴۴۵؍ ملین یونٹ ہو گئی۔ محکمہ توانائی کے ایک سینئر افسر کے مطابق، پہلے کئی شہروں اور قصبوں میں محدود گھنٹے بجلی ملتی تھی۔ گزشتہ ۸۔۹؍ برسوں میں کئی شہری علاقوں میں تقریباً ۲۴؍ گھنٹے بجلی مل رہی ہے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بھی سپلائی کے اوقات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ کے گانے’گھِس گھِس گھِس‘ میں بھوجپوری اداکاربنے


ایک سینئر افسر کے مطابق بجلی کی دستیابی بڑھنے سے کھپت بھی بڑھتی ہے کیونکہ بجلی نہ ملنے پر مانگ دب جاتی ہے۔ صارف اتنی ہی بجلی استعمال کر سکتا ہے جتنی اسے ملتی ہے۔ پہلے محدود گھنٹے بجلی ملنے پر گھروں میں فریج، کولر، اے سی، پمپ اور دیگر آلات لگاتار نہیں چل پاتے تھے۔ اب سپلائی طویل ہونے سے ان کا استعمال بڑھا ہے۔ تجارتی ادارے اور صنعتیں بھی سپلائی قابل بھروسہ ہونے پر زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں۔ کھپت میں تیز اضافے کی ایک بڑی وجہ صارفین کی تعداد میں اضافہ بھی ہے۔ گھریلو بجلی کاری کی مہموں اور کنیکٹیویٹی بڑھنے سے کنکشنز کی تعداد تیزی سے بڑھی۔

یہ بھی پڑھئے:عیدالاضحیٰ پر نوئیڈا پولیس الرٹ، فلیگ مارچ کر کے سیکوریٹی انتظامات کا جائزہ لیا


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کی تعداد اور سپلائی دونوں بڑھیں تو کل کھپت کا دُگنا ہونا غیر معمولی نہیں ہے۔ تاہم، یو پی میں فی کس بجلی کی کھپت ابھی بھی ملک میں سب سے کم میں سے ایک ہے۔ یو پی پی سی ایل کے سابق افسر اور ماہر وی پی ترویدی نے کہا’’کولنگ آلات، خاص طور پر اے سی کا استعمال اب عام ہو گیا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں کی توسیع اور معیارِ زندگی میں بہتری سے فی گھر کھپت بڑھ رہی ہے۔ پیک  اور کم از کم کھپت کے درمیان بڑھتا ہوا فرق موسمی مانگ میں تیزی کو بھی دکھاتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK