ہند نژاد خواتین امریکہ میں اہم عہدے پر فائز

Updated: January 20, 2022, 1:21 PM IST | Odhani Desk

لوگوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ سیاست کا شعبہ خواتین کیلئے نہیں ہے مگر خواتین نے ہمیشہ اس بات کو غلط ثابت کیا ہے۔ پوری دنیا کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ خواتین سیاست کے شعبے میں بھی نہ صرف پیش پیش ہیں بلکہ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔ اس بات کو ثابت کرتی ہیں یہ ۴؍ خواتین جنہوں نے امریکی سیاست میں اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا لوہا منوایا

Right to left: Yasmin Trudeau, Mona Das, Manka Dhingra and Vandana Slater.Picture:INN
دائیں سے بائیں: یاسمین ٹروڈو، مونا داس، مانکا ڈھینگرا اور وندنا سلیٹر۔ تصویر: آئی این این

 ہندوستانی پوری دنیا میں آباد ہیں، ان میں ایسے لوگ بھی ہیں، جو جہاں آباد ہیں وہاں کی سیاست میں شامل ہونے لگے ہیں۔ خواتین بھی اس معاملے میں کسی سے کم نہیں۔ وہ نہ صرف بیرون ممالک کی سیاست میں سرگرم ہیں بلکہ پارلیمنٹ اور اہم آئینی عہدوں پر بھی فائز ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں پہلی بنگالی نژاد امریکی خاتون یاسمین ٹروڈو امریکہ کے شہر واشنگٹن کے ۲۷؍ ویں ضلع سے سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔ اسی کے ساتھ پہلی بار ہندوستانی نژاد ہندو، مسلم اور سکھ سینیٹر اسٹیٹ واشنگٹن میں ایک ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔  جانئے ان ۴؍ خواتین کے بارے میں جنہوں نے امریکی سیاست میں اپنی صلاحیتوں اور طاقت کا لوہا منوایا:

یاسمین ٹروڈو  

یاسمین ٹروڈو واشنگٹن اسٹیٹ کے ۲۷؍ ویں قانون ساز ضلع کی سینیٹر منتخب ہوئی ہیں۔ وہ واشنگٹن ریاستی مقننہ میں پہلی مسلمان اور پہلی بنگالی نژاد امریکی خاتون ہیں۔ وہ واشنگٹن اسٹیٹ اٹارنی جنرل کے دفتر میں قانون ساز ڈائریکٹر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔  اس سے پہلے ٹروڈو واشنگٹن اسٹیٹ سینیٹ ڈیموکریٹک کاکس کیلئے پالیسی تجزیہ کار تھیں، جہاں انہوں نے سینیٹ کی زراعت، پانی، تجارت اور اقتصادی ترقی کمیٹی کے ساتھ کام کیا۔ سیٹل یونیورسٹی اسکول آف لاء سے گریجویشن کرنے کے بعد یاسمین نے واشنگٹن اسٹیٹ میں کئی ایکسٹرن شپس کیں یعنی تربیتی پروگراموں میں حصہ لیا۔

مونا داس

 بہار کے مونگیر ضلع میں پیدا ہوئی مونا داس واشنگٹن کے ۴۲؍ ویں قانون ساز ضلع کی سینیٹر ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۹۷۱ء میں بہار کے دربھنگہ اسپتال میں ہوئی تھی۔ صرف ۸؍ ماہ کی عمر میں وہ والدین کے ساتھ امریکہ منتقل ہوگئی تھیں۔ ان کے والد سوبودھ داس انجینئر ہیں۔ مونا نے سنسناٹی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ اس کے بعد مینجمنٹ میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔  مونا اور ان کے خاندان کو اب بھی ہندوستان سے محبّت ​​ہے۔ وہ اپنے آبائی وطن آنے اور ملک کی سیر کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہیں۔ مونا داس وزیراعظم نریندر مودی کی بہت بڑی مداح ہیں۔ مونا داس نے اپنی حلف برداری کے دوران ’خواتین کی بہبود، سب کا مان‘ کا نعرہ بھی دیا۔

مانکا ڈھینگر

 بھوپال میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہونے والی مانکا ڈھینگر واشنگٹن اسٹیٹ سینیٹ کی اکثریتی لیڈر ہیں۔ وہ پہلی بار ۲۰۱۷ء میں اسٹیٹ واشنگٹن کے ۴۵؍ ویں قانون ساز ضلع سے سینیٹر منتخب ہوئی تھیں۔ وہ ملک میں منتخب ہونے والی پہلی سکھ قانون ساز تھیں۔ بڑی آنت کے کینسر سے اپنے والد کی موت کے بعد مانکا ۱۳؍ سال کی عمر میں اپنی والدہ کیساتھ کیلیفورنیا منتقل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے ۱۹۹۵ء میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے گریجویشن کیا تھا۔  اس کے بعد وہ شوہر ہرجیت سنگھ کے ساتھ ریڈمنڈ سٹی منتقل ہوگئیں۔ مانکا نے گھریلو تشدد اور جنسی ہراسانی کو روکنے، بزرگوں اور معذور افراد کے لئے پراپرٹی ٹیکس میں راحت دینے، مالی فراڈ کے خلاف کارروائی کرنے جیسے موضوعات سے وابستہ رہی ہیں۔ سینیٹ میں اپنے دور میں، مانکا نے واشنگٹن میں بیہویریل ہیلتھ سسٹم کو بہتر بنانے کے قوانین اور فنڈ فراہم کرنے میں مدد کی۔ ڈھینگر ہمیشہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتی ہیں کہ واشنگٹن کے باشندوں کو تمام نفسیاتی اور ذہنی صحت کے علاج کا موقع ملے جن کی انہیں ضرورت ہے اور وہ بھی جس کے حقدار ہیں۔

وندنا سلیٹر

 ہندوستانی تارک وطن کی بیٹی وندنا سلیٹر واشنگٹن ۴۸؍ ویں قانون ساز ضلع کی سینیٹر ہیں۔ وہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اینوویشن کاکس کی شریک چیئر پرسن بھی ہیں، اور فیوچر آف ورک ٹاسک فورس، الیکٹرک ایئرپلین ورکنگ گروپ اور سسٹینبل ایویشن بائیو فیولس ورک گروپ میں شامل ہیں۔ وندنا پچھلے ۲۰؍ سال سے زائد میں کئی مشہور بائیو ٹیکنالوجی کمپنیوں میں کام کر چکی ہیں۔ ساتھ ہی واشنگٹن میں لائسنس یافتہ فارماسسٹ بھی ہیں۔  واضح ہو کہ وندنا کی پیدائش برٹش کولمبیا میں ہوئی تھی۔ ان کے والد پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے برٹش کولمبیا یونیورسٹی سے فارمیسی میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ کالج میں ایک طرح کی تلوار بازی ٹیم کی کپتان اور بی سی جونیئر وومن فوئل چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کر چکی ہیں۔ بیچلر ڈگری حاصل کرنے کے بعد سلیٹر اور ان کے شوہر مشی گن منتقل ہوگئے تھے۔ ۲۰۰۱ء میں سلیٹر کو امریکہ کی شہریت ملی۔ ماسٹرس کی پڑھائی کے دوران سلیٹر نے امریکی سینیٹر ماریا کینٹ ویل کے دفتر میں کام کیا۔  بتا دیں کہ امریکی سینٹ یا ریاستہائے متحدہ سینٹ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دو ایوانوں میں سے مقننہ ہے، اور ایوان نمائندگان کے ساتھ مل کر یہ امریکی کانگرس کی تشکیل کرتے ہیں۔ اقتدار کی بات کریں تو فیصلے کرنے کا اختیار سینیٹ کے پاس زیادہ ہے۔ امریکہ میں اس وقت ۵۰؍ ریاستیں ہیں۔ ہر ریاست سے دو نمائندے منتخب کئے جاتے ہیں۔n

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK