Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیئر بازار میں کہرام،۱۱؍ لاکھ کروڑ ڈوب گئے

Updated: March 20, 2026, 12:17 PM IST | Mumbai

شیئرمارکیٹ میں تقریباً۲۵۰۰؍ پوائنٹ کی گراوٹ، امریکی فیڈرل بینک کے ذریعے شرح سود کو برقراررکھنے کے فیصلے کا اثر۔

This was the biggest decline in 11 months on the BSE. Photo: INN
بی ایس ای میں یہ ۱۱؍ ماہ کی سب سےبڑی گراوٹ رہی۔ تصویر: آئی این این

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کے فیصلے سے مایوس سرمایہ کاروں کی فروخت کے باعث گھریلو شیئر بازاروں میں جمعرات کے روز بھاری گراوٹ دیکھی گئی۔ بی ایس ای کا سینسیکس۲۴۹۶ء۸۹؍پوائنٹس(۳ء۲۶؍ فیصد)گرکر۷۴۲۰۷ء۲۴؍ پوائنٹس پر بند ہوا۔اس زبر دست گراوٹ سے شیئر مارکیٹ میںکہرام مچ گیا اورسرمایہ کاروں کے ۱۱؍ لاکھ کروڑ ڈوب گئے ۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی ۵۰؍ انڈیکس بھی۷۷۵ء۶۵؍ پوائنٹس گر کر ۲۳۰۰۲ء۱۵؍ پوائنٹس پر آ گیا۔ یہ دونوںکیلئے ۱۱؍ماہ کی کم ترین سطح ہے۔ 

امریکی مرکزی بینک نے بدھ کو ختم ہونے والی دو روزہ میٹنگ میں پالیسی شرح سود کو۳ء۵؍ فیصد سے۳ء۷۵؍ فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کے ساتھ ایشیا اور یورپ کے شیئر بازاروں میں بھی بڑی گراوٹ آئی۔ سینسیکس کی شروعات۱۹۵۳؍ پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ۷۴۷۵۱؍پوائنٹس پر ہوئی۔ تاہم کھلنے کے فوراً بعد یہ۷۵۳۵۴؍ پوائنٹس تک بڑھ گیا، لیکن آہستہ آہستہ اس کا گراف نیچے آتا گیا۔ اس کی نچلی سطح۷۳۹۵۱؍ پوائنٹس رہی۔ نفٹی کا گراف بھی اسی طرح رہا۔بازار میں فروخت اس قدر وسیع پیمانے پر رہی کہ تمام انڈیکس اور تمام سیکٹر منفی نشان پر بند ہوئے۔ درمیانی کمپنیوں کا مڈکیپ ۵۰؍ انڈیکس۳ء۲۹؍فیصد اور اسمال کیپ ۱۰۰؍ انڈیکس۲ء۹۴؍ فیصد گر گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے ریپو شرح برقرار رکھی، مہنگائی پر تشویش برقرار

آٹو سیکٹرمیں بھاری گراوٹ 

آٹو سیکٹر کا انڈیکس ۴؍ فیصد سے زیادہ گر گیا۔ این ایس ای میں مالیات، بینکنگ، آئی ٹی، دھات اور پائیدار صارفین کی اشیاء کے شعبوں میں ۳؍ فیصد سے زیادہ کی گراوٹ رہی۔ سب سے کم ۱ء۹۸؍فیصد گراوٹ تیل و گیس سیکٹر کے انڈیکس میں دیکھی گئی۔ سینسیکس کی تمام کمپنیاں منفی نشان پر بند ہوئیں۔ ایٹرنل کا شیئر ساڑھے ۵؍ فیصد سے زیادہ گرگیا۔ بجاج فائنانس، مہندرا اینڈ مہندرا اور ایچ ڈی ایف سی بینک کے شیئر بھی پانچ فیصد سے زیادہ گر گئے۔  ایل اینڈ ٹی، انڈیگو، بجاج فِن سَرو اور ٹرینٹ میں چار فیصد سے زیادہ گراوٹ رہی۔

ایکسس بینک، انفوسس، ماروتی سوزوکی، ٹی سی ایس، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز، ایشین پینٹس، ٹیک مہندرا، الٹرا ٹیک سیمنٹ، اڈانی پورٹس اور آئی سی آئی سی آئی بینک کے شیئر تین سے چار فیصد کے درمیان گر گئے۔بی ای ایل، ٹائٹن، ٹاٹا اسٹیل، ہندوستان یونی لیور، کوٹک مہندرا بینک، آئی ٹی سی، سن فارما، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، ریلائنس انڈسٹریز، بھارتی ایئرٹیل اور این ٹی پی سی کے شیئر ایک سے۳؍ فیصد تک گر گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہندوستان الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرکا اہم مرکزہے ‘‘

امریکہ کے فیڈرل ریزرو نے ریپو شرح برقرار رکھی، مہنگائی پر تشویش 

مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے درمیان امریکی فیڈرل ریزرو نے مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ریپو شرح میں کوئی کمی نہیں کی۔فیڈ کی دو روزہ میٹنگ کے بعد بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ معیشت کی ترقی مضبوط ہے لیکن حالیہ مہینوں میں نئی ملازمتوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مہنگائی بدستور بلند ہے۔ ساتھ ہی مغربی ایشیا کے حالات کے امریکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

امریکی مرکزی بینک کے مطابق کمیٹی نے شرح سودکو۳ء۵؍ سے۳ء۷۵؍ فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔۱۲؍ میں سے۱۱؍ اراکین نے اس فیصلے کی حمایت کی جبکہ اسٹیفن مائرن نے ایک چوتھائی فیصد کمی کے حق میں ووٹ دیا۔بیان میں کہا گیا کہ فیڈ کا ہدف زیادہ سے زیادہ روزگار اور مہنگائی کو۲؍ فیصد تک محدود رکھنا ہے۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول نے کہا کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح طویل مدتی اوسط کے قریب ہے جبکہ مہنگائی اس سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں جس کمی کی توقع کی جا رہی تھی، وہ اس حد تک سامنے نہیں آئی۔غیر یقینی حالات کے باوجود فیڈ کے آئندہ اندازوں میں اس سال ایک چوتھائی فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم مہنگائی کا تخمینہ پہلے کے مقابلے میں بڑھا دیا گیا ہے۔ریپو شرح کو برقرار رکھنے کے اس فیصلے کو امریکی شیئر بازار نے مثبت انداز میں نہیں لیا، کیونکہ سرمایہ کار شرح میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔ فیصلے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس تقریباً ڈیڑھ فیصد تک گر گئیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK