Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہندوستان الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرکا اہم مرکزہے ‘‘

Updated: March 18, 2026, 10:40 AM IST | Agency | New Delhi

ہندوستان اور ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارتی اور اقتصاد ی معاہدہ کے حوالے سےمرکزی وزیر پیوش گوئل نےنئے امکانات پر گفتگو کی۔

Piyush Goyal.Photo:INN
پیوش گوئل۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (ای ایف ٹی اے) کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شراکت کا معاہدہ (ٹی ای پی اے)  کے  دو سال پورے ہونے کے  بعد، تیزی سے ہندوستان کے الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر شعبوں ، ڈرائیونگ ٹیکنالوجی تعاون، سرمایہ کاری اور سپلائی چین کیلئے ایک اسٹرٹیجک محرک کے طور پر ابھر رہا ہے ۔یہ معاہدہ جو اکتوبر میں نافذ ہوا تھا، اب ہندوستانی کمپنیوں اور یورپی ڈیپ ٹیک فرمزکے درمیان خاص طور پر ڈیزائن، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ(آر اینڈ ڈی) اور جدید مینو فیکچرنگ میں گہرے تعلق کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔
اس ماہ کے شروع میں اس تاریخی معاہدے کے ۲؍ سال مکمل ہونے کے موقع پر، کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ ’’یہ معاہدہ ہندوستان کے وسیع ہوتے ہوئے عالمی تجارتی نیٹ ورک کا حصہ ہےجو صنعتی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہوئے تمام شعبوں میں نئے مواقع کھول رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا ’’آج  ہم  سوئزرلینڈ، ناروے، لکٹنشٹائن اور آئس لینڈ کے ساتھ معاہدے کا جشن منا رہے ہیں۔ آج سے دو سال  قبل یعنی۲۰۲۴ء   میں ہم نے اس  معاہدے کو حتمی شکل دی تھی اور یہ تمام مواقع نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، کوریا، آسیان خطے، عمان، یو اے ای اور ماریشس کے ساتھ مل رہے ہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ ’’اب ہم کینیڈا  کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور ابھی مشرق وسطیٰ کے۶؍ جی سی سی ممالک کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا ہے۔‘‘
 
 
ایک سرکاری بیان کے مطابق ۱۰۰؍ بلین ڈالر سرمایہ کاری کے عزم اور اعلیٰ آمدنی والے یورپی ممالک تک ترجیحی رسائی کے ساتھ ٹی ای پی اے ہندوستان کے الیکٹرانکس سیکٹر کے لیے ایک اسٹرٹیجک اسپرنگ بورڈ پیش کرتا ہے۔موجودہ صنعتی نقطہ نظر کا اشتراک کرتے ہوئے، الیکٹرانکس اور کمپیوٹر سافٹ ویئر ایکسپورٹ پروموشن کونسل(ای ایس سی) کے وائس چیئرمین راجیش ایم ریونکر نے کہا کہ الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر اسپیس پر معاہدے کے اثرات اب تک ’لین دین سے زیادہ اسٹر ٹیجک ‘ رہے ہیں۔ 
 
 
پیوش گوئل کے مطابق ’’معاہدے نے یورپی ڈیپ ٹیک فرموں کیلئے ہندوستان میں ڈیزائن، آر اینڈڈی اور جدید مینوفیکچرنگ پارٹنر شپ کو بڑھانے کیلئے راستے کھول دیے ہیں، خاص طور پر صنعتی الیکٹرانکس، سینسر اور پاور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ مرحلہ ٹیکنالوجی کے تعاون، سپلائی چین انضمام اور ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور  ماحولیاتی نظام کے اندر ہدف شدہ سرمایہ کاری کیلئے ایک مضبوط بنیاد کی تشکیل کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت آئندہ۱۵؍ سال کے دوران ۱۰۰؍ بلین ڈالرکی پُرعزم سرمایہ کاری پائپ لائن کے ساتھ توقع ہے کہ اس شعبے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ جیسے ہی یہ سرمایہ کاری مکمل ہونے  لگے گی  تب امید ہے کہ  ہندوستان یورپی سیمی کنڈکٹر اور صنعتی الیکٹرانکس کمپنیوں کے لیے کلیدی ڈیزائن اور انجینئرنگ مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس تبدیلی سے اعلیٰ قدر کی مینوفیکچرنگ، جدت طرازی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روزگار پیدا کرنے میں تیزی آنے کا امکان ہے۔اس تبدیلی کے ابتدائی اشارے پہلے ہی نظر آ رہے ہیں ۔ آئس لینڈ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی  مہاراشٹر کے ایک فرم میں ۳۰؍ ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔یہ ترقی طبی الیکٹرانکس، اسمارٹ سینسرز، ایمبیڈڈ سسٹم، الیکٹرک گاڑی کے اجزاء اور میرین الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں ابھرتے ہوئے مواقع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK