ٹرانسپورٹرس نے اپنی گاڑیاں کھڑی کردیں، مال بھاڑا میں ۱۵؍ فیصد تک کا اضافہ ہوگیا، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پراثر پڑنا یقینی۔
۱۹؍لاکھ ٹرک جو ملک میں موجود ۹۵؍ لاکھ ٹرکوں کا ۲۰؍ فیصد ہیں، کو ٹرانسپورٹرس نے کھڑا کردیا ہے-تصویر:آئی این این
۱۰؍ دنوں میں ڈیزل کی قیمت میں ۸؍ روپے فی لیٹر تک کے اضافہ کی وجہ سے ملک میں سامان کے نقل وحمل پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ لاگت میں غیر معمولی اضافہ کی بنا پر ٹرانسپورٹرس نے ٹرک کھڑے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ ملک میں موجود۹۵؍ لاکھ ٹرکوں میں سے تقریباً۲۰؍فیصد یعنی۱۹؍لاکھ ٹرک سڑکوں سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ یہ اطلاع اکنامک ٹائمز کی رپورٹ میں دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اور کمی کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے مال برداری کے کرایہ بھی بڑھا دیا ہے۔ مغربی ہندوستان سے شمالی ہندوستان جیسے اہم روٹس پر کرایوں میں ۱۰؍ تا ۱۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔۳۰؍کلومیٹر تک کی مقامی ڈھلائی کے نرخ تو اس سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی جیب پر پڑے گا کیونکہ آنے والے دنوں میں پھل، سبزی اور راشن کی قیمتیں بڑھنا یقینی ہے۔ اس کی وجہ سے معیشت پر مزید مہنگائی کا دباؤ پڑ سکتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر چھوٹے ٹرک آپریٹرس ہوئے ہیں، جو ہندوستان کے بکھرے ہوئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کا۷۰؍فیصد سے زیادہ حصہ ہیں۔وہ لاگت میں اضافہ اورآمدنی میں کمی سے پریشان ہیں۔ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایران جنگ کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان صرف۱۰؍دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ۴؍بار بڑھا ئی ہیں۔ا س کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی اضافہ ۷ء۵؍ روپے سے ۸؍ روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔اس کے باوجود ڈیزل کی کمی بھی بڑا مسئلہ ہے۔ قومی شاہراہوں کے بعض پٹرول پمپوں پر ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔صنعتی ماہرین کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ تھوک ڈیزل خریدار ہیں، جو پہلے ادارہ جاتی قیمتوں پر ڈیزل خریدتے تھےمگر اب ۴۰؍تا ۴۲؍ روپے فی لیٹر کے بڑے فرق کے باعث ریٹیل پٹرول پمپوں کا رخ کر رہے ہیں۔اس سے ان پمپوں پر سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس کے قومی صدر ہریش سبر وال نے بتایا کہ’’کارکردگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ڈیزل پر خرچ کل لاگت کا۴۰؍ ےتا۴۵؍ فیصد حصہ ہوتا ہے۔ حکومت نے قسطوں میںقیمت بڑھائی ہے اور ہم یہ بوجھ برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔‘‘ بڑے ٹرانسپورٹرسبھی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔۶؍ہزار ٹرکوں والی وی آر ایل لاجسٹکس نے کہا ہے کہ ان کی کچھ گاڑیوں کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پمپ استعمال کرنے کے باوجود۶؍ سے ۸؍ گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ آل کارگو لاجسٹکس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو کیتن کلکرنی نے کہاکہ’’ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مزدوروں کی کمی نے کچھ علاقوں میںکام کے مسائل پیدا کر دیئے ہیں، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرس احتیاطاً زیادہ ایندھن ذخیرہ کر رہے ہیں۔‘‘۳۰؍کلومیٹر کے اندر مقامی ڈھلائی کے نرخوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چھوٹے ٹرانسپورٹرس کو سرمایہ کی شدید کمی کابھی سامنا ہے کیونکہ پٹرول پمپوں نے ادھار ایندھن دینا بند کر دیا ہے، جس سے انہیں پیشگی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔ ایک سینئر کار ٹرانسپورٹر نے کہا کہ ایندھن کی لاگت، جو پہلے مال برداری کی لاگت کا تقریباً ۴۵؍ فیصد تھی اب ۴۶؍ تا ۴۷؍ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے اسے چھوٹے ٹرانسپورٹرس کے وجود کیلئے خطرہ بتایا اور کہاکہ’’اگر وہ ختم ہو گئے تو پورا نظام بکھر جائے گا۔‘‘