Updated: July 12, 2026, 10:25 PM IST
| Damascus
شامی صدر احمد الشرع نے نو منتخب پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران شام کی تاریخ میں نیا باب شروع کرنے کا مطالبہ کیا، صدر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کو ذمہ داری اور اہلیت کا نمونہ بنائیں، اور اس کے ساتھ مکالمے، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کے احترام کو فروغ دیں۔
شامی صدر احمد الشرع۔ تصویر: ایکس
شام کی نئی منتخب پارلیمنٹ نے اتوار کے دن اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس میں صدر احمد الشرع نے ملک کی تاریخ میں ایک نیا باب شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر صدر نے عوامی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ آج شام اپنی تاریخ کا ایک نیا باب لکھ رہا ہے، جو اس کی تہذیب، اقدار اور ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئیے، مل کر جدید شام کی تاریخ بنائیں۔‘‘ صدر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ کو ذمہ داری اور اہلیت کا نمونہ بنائیں، اور اس کے ساتھ ساتھ مکالمے، قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں کے احترام کو فروغ دیں۔یہ اجلاس شام کی سیاسی زندگی میں ایک اہم سنگ میل ہے، کیونکہ یہ عوام کی نئی امیدوں کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی عالمی سطح پر رسوائی، دوسرے بیٹے نے بھی باپ کا نام ہٹا دیا
مزید برآں صدر الشرع نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ شام کو اپنی تاریخ کے روشن پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے اور ماضی کی تلخ یادوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔شام عرب نیوز ایجنسی (سانا) کے مطابق صدر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے قانون سازی کے عمل کو شفاف اور جامع بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ صدر نے کہا کہ جدید شام کی تعمیر کے لیے ہمیں اپنی تہذیبی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے نئے صدارتی طیارے کی خفیہ معلومات لیک، نیویارک ٹائمز کے۴؍ صحافی عدالت طلب
بعد ازاں اس موقع پر صدر الشرع نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ شام کی تعمیر نو میں معاونت کرے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ خود مختاری اور داخلی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ عوام کے اعتماد کا محافظ ہے، اس لیے اسے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانا چاہیے۔ آخر میں صدر نے تمام اراکین سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں اور ملک کی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔یہ پہلا اجلاس شام کی نئی سیاسی سمت کا تعین کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے، اور صدر کے الفاظ نے مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل پیش کیا ہے۔ انہوں نے مکالمے اور قانون کی حکمرانی کو اہم ستون قرار دیا، جس سے شہریوں میں امید کی لہر دوڑ گئی ہے۔