ایران -اسرائیل - امریکہ جنگ کا اثر۔۵۰؍فیصد ہوٹل بند ہوسکتے ہیں۔کچھ ہوٹلوںمیں متبادل کے طور پر کوئلے اور لکڑی کے چولہے پرکھانا بنانے کی تیاری۔
شہر کی ایک ہوٹل میں انڈکشن اسٹو (الیکٹرک چولہے) پر کھانے کی چیزیں بنائی جارہی ہیں۔ تصویر:آشیش راجے
ممبئی : ایران ، اسرائیل اور امریکہ جنگ سے کمرشیل گیس سلنڈر کی قلت ہونے لگی ہے جس سے ممبئی اورریاست کے دیگر اضلاع میں ہوٹل انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ ہوٹل اسوسی ایشن نےگیس نہ ہونے سے ممبئی کے ۲۰؍فیصد ہوٹل بند ہونے کا دعویٰ کیا ہے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ ایک دو دن میں ۵۰؍فیصد ہوٹل بند ہوسکتے ہیں۔ ہوٹل مالکان کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والی قلت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ کئی ہوٹلوں میں گیس کے متبادل کے طور پر الیکٹرک چولہا ،کوئلے اور لکڑی کے چولہے پر کھانا بنانے کی تیاری کی جارہی ہے جبکہ کچھ ہوٹلوں نے تو اس کا استعمال بھی شروع کردیا ہے۔
جنگ سے رسوئی اور کمرشیل گیس سلنڈرکی کمی کے تعلق سے ریاست میں ہوٹل اسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر سلنڈروں کی سپلائی بحال نہیں کی گئی تو آئندہ دنوں میں ہوٹل انڈسٹری ٹھپ پڑ سکتی ہے ۔ اس شعبے کے ماہرین کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق اگر ہوٹل بند ہو جاتے ہیں تو اس سے ممبئی میں دیگر کام کاج بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
چرنی روڈ پر واقع ایک ہوٹل کے مالک معظم دبیر نے اس نمائندے کو بتا یا کہ ’’ گزشتہ ۲؍دن سے کمرشیل سلنڈروں کی فراہمی بری طرح متاثر ہے ۔اتوار اور پیر کو ملنے والے کم سلنڈروں سے اپنی ضروریات کسی طرح پوری کی لیکن منگل کو ایک بھی سلنڈر نہ ملنے سےبڑی پریشانی ہوئی ۔ مجبوراً اپنے عملے کو گیس کے متبادل کے طور پر کوئلے اور لکڑی کے چولہے سے کھانا پکانے کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’کمرشیل گیس سلنڈر نہ ملنے سے کئی ہوٹل بند ہوگئے ہیں ۔ اگر آئندہ کچھ دنوں میں یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو دیگر ہوٹلوں کے بند ہونے کا بھی قوی امکان ہے ۔‘‘
ملنڈ کے ہوٹل ساگر کےمالک انوشیٹی نے بتا یا کہ ’’کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کا ملنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے ۔ کچھ جگہوں پر یہ دستیاب ہے لیکن اس کی قیمت زیادہ وصول کی جا رہی ہے جو سلنڈر ایک ہزار ۷۵۰؍روپے کاتھا ،اس کی قیمت ایک ہزار ۹۵۰؍کردی گئی ہے۔‘‘
انڈیا ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ اسوسی ایشن کے صدر وجے شیٹی کے مطابق ’’ممبئی کی فوڈ انڈسٹری میں کمرشیل گیس کی قلت تیزی سے پیدا ہورہی ہے ۔ ریستورانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو پہلے ہی کمرشل ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ ایسے میں کمرشیل گیس کی کم سپلائی سے ہمارے ۱۰؍ سے ۲۰؍ فیصد ہوٹل مالکان کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں ۔ آئندہ چند دنوں میں یہ تعداد ۶۰؍فیصد تک پہنچ سکتی ہے ۔ ہم نے مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کو خط لکھا ہے اور مہاراشٹر کے اس بحران کے حل کی اپیل کی ہے۔
ممبئی ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ اسوسی ایشن نے بھی کہا ہے کہ ہوٹلوں کو بند کرنے کا فیصلہ اسوسی ایشن نے نہیں کیا ہے۔ ہوٹلوں کو کھلا رکھنے یا بند رکھنے کا فیصلہ مکمل طور پر ہوٹل مالکان پر منحصر ہے۔ ہوٹل مالکان دستیاب اسٹاک کی بنیاد پر فیصلہ کر رہے ہیں۔‘‘
ممبئی میں زیادہ تر ہوٹل اور ریسٹورنٹ ایل پی جی کمرشیل گیس سلنڈر پر منحصر ہیں۔ روزمرہ کے کاروبار کیلئے کئی گیس سلنڈر درکار ہوتے ہیں ۔ اگر اس سپلائی میں خلل پڑتا ہے تو ہوٹل کا کچن بند کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ ہوٹل اسوسی ایشن کے مطابق کچھ ہوٹلوں نے پہلے ہی متبادل اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور مینو کارڈ پر اشیاء کو محدود کر دیا ہے۔