Inquilab Logo Happiest Places to Work

وجے ہزارے مہارت ،صبر اور مستقل مزاجی سےکرکٹ کے ہیرو بنے

Updated: March 11, 2026, 10:54 AM IST | Agency | Mumbai

وجے ہزارے ہندوستانی کرکٹ کے ابتدائی عظیم بلے بازوں میںشمارکیےجاتے ہیں۔ ان کا پورا نام وجے سیموئل ہزارے ہے،وہ ۱۱؍مارچ ۱۹۱۵ءکومہاراشٹر کے سانگلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک بہترین دائیں ہاتھ کےبلے باز تھے اور اپنی مہارت، صبر، اور مستقل مزاجی کی بدولت ہندوستانی کرکٹ کے ابتدائی ہیروز میں شامل ہوئے۔

Vijay Hazare Is A Great Cricketer. Photo;iNN
وجے ہزارے ایک عمدہ کرکٹ کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این
وجے ہزارے ہندوستانی کرکٹ کے ابتدائی عظیم بلے بازوں میںشمارکیےجاتے ہیں۔ ان کا پورا نام وجے سیموئل ہزارے ہے،وہ ۱۱؍مارچ ۱۹۱۵ءکومہاراشٹر کے سانگلی میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک بہترین دائیں ہاتھ کےبلے باز تھے اور اپنی مہارت، صبر، اور مستقل مزاجی کی بدولت ہندوستانی کرکٹ کے ابتدائی ہیروز میں شامل ہوئے۔وجے ہزارے کا تعلق ایک تعلیمی گھرانے سے تھا، لیکن ان کا رجحان کرکٹ کی طرف تھا۔انہوں نے اپنےکرکٹ کا آغاز فرسٹ کلاس کرکٹ سےکیا اور جلد ہی اپنی بلے بازی کی صلاحیتوں سے سب کومتاثر کیا۔ ۱۹۳۴ءمیںانہوں نے مہاراشٹر کی ٹیم کی طرف سےرنجی ٹرافی میں قدم رکھا اور اپنے شاندار کھیل سے قومی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔وجے ہزارے کا فرسٹ کلاس کرکٹ کریئرانتہائی شانداررہا۔انہوں نے ۲۳۸؍فرسٹ کلاس میچز میں۱۸؍ہزار ۷۴۰؍رن بنائے،جس میں ۶۰؍سنچریاں اور۶۶؍نصف سنچریاں شامل ہیں۔ وہ ان چند بلے بازوں میں سے ایک تھے جو کسی بھی قسم کی پچ پر بہترین بلے بازی کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
 
 
وجےہزارےنے۱۹۴۶ءمیںانگلینڈ کیخلاف اپنے ٹیسٹ  کرکٹ کاآغازکیا۔وہ اس دور میں کھیل رہےتھے جب ہندوستانی کرکٹ ابھی ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔اس وقت کرکٹ کے زیادہ مواقع دستیاب نہیں تھے، لیکن وجے ہزارے نے اپنی بہترین تکنیک، تحمل اور مہارت سے خود کو منوایا۔
 
 
انہوں نے۳۰؍ٹیسٹ میچزمیں۲؍ہزار ۱۹۲؍رنز بنائے، جس میں۷؍سنچریاں اور۹؍نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کا بیٹنگ اوسط ۴۷ء۶۵؍تھا، جو اس دور میں ایک بڑی کامیابی تھی۔وجے ہزارے کی سب سےیادگار کارکردگی ۴۸۔۱۹۴۷ءمیںآسٹریلیا کے خلاف آئی، جب انہوں نے ڈان بریڈمین کی قیادت میں کھیلنے والی آسٹریلوی ٹیم کےخلاف دونوں اننگز میں سنچری اسکورکی۔ وہ ہندوستان کے پہلے بلے باز تھے جنہوں نے آسٹریلیا کے خلاف دونوں اننگز میں سنچریاں بنائیں۔اسی طرح، ۵۲۔ء۱۹۵۱ءمیںانگلینڈ کےخلاف، وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنے والے چوتھے کپتان بنے۔ان کی قیادت میں ہندوستان نے اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی، جو کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ تھا۔۵۲۔۱۹۵۱ء میں وجے ہزارے ہندوستانی ٹیم کے کپتان بنے اور ان کی قیادت میں ہندوستان نے انگلینڈ کے خلاف مدراس (اب چنئی) میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا۔ یہ ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک تاریخی لمحہ تھا،کیونکہ یہ ہندوستان کی پہلی ٹیسٹ جیت تھی، جس نے بعد میں کرکٹ میں ہندوستان کی کامیابیوں کے دروازے کھولے۔وجے ہزارے ایک بہترین بلے باز ہونے کے ساتھ ایک عمدہ گیند باز بھی تھے۔انہوں نے اپنے ٹیسٹ کریئرمیں ۲۰؍وکٹیں حاصل کیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے۵۰؍کے قریب وکٹ ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مکمل آل راؤنڈر تھے۔ وجےہزارے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے وجے ہزارے ٹرافی کا آغاز کیا گیا، جو ہندوستان میں لسٹ اے کرکٹ (۵۰؍ اوورز کے فارمیٹ) کا ایک مشہور ٹورنامنٹ ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ریاستی سطح پر کھیلا جاتا ہے اور ہندوستان کے بہترین گھریلو کھلاڑیوں کو موقع فراہم کرتا ہے۔وجے ہزارے نے۱۹۵۳ءمیں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کرکٹ سے جڑے رہے اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں دلچسپی لیتے رہے۔ ۱۸؍دسمبر۲۰۰۴ءکو ۸۹؍سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا، لیکن وہ ہندوستانی کرکٹ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK