عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، افغانستان نے ۹؍شہریوں کےجاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 2:00 PM IST | Agency | Kabul
عسکریت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، افغانستان نے ۹؍شہریوں کےجاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا۔
پاکستان نے افغانستان میں تازہ فضائی حملے کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت نے کہا ہے کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم نو شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کو کہا کہ قابل اعتماد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارت کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں ۲۲؍ عسکریت پسندوں کے مارے جانے اور ان ٹھکانوں پر ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔پاکستان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کنڑ اور ہلمند صوبوں میں تین مکانات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ۹؍ افراد جاں بحق اور۱۱؍ دیگر زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:فلائی دبئی کی پرواز کوہائی جیکنگ سے بچانے والے اسمیت مچھار ہیرو قرار
مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ہم اس کارروائی کو جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جرم قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کرتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فضائی حملے مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے تین بجے شروع ہوئے اورتقریباً۳۰؍ منٹ تک جاری رہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ایک بم ایک مکان پر گرا، جس میں ایک خاندان کے کئی افراد جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے۔پاکستان نے کہا کہ اس کا آپریشن مکمل منصوبہ بندی اور محتاط انداز میں کیا گیا اور شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے:بنچ کی غیر اعلانیہ تبدیلی پر سپریم کورٹ میں زور دار بحث، ججوںکا اظہارِ ناراضگی
کئی ماہ کی نسبتاً کشیدگی کے بعد ایک بار پھر تناؤ بڑھ گیا
اسلام آباد مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروپوں کو افغان سرزمین سے سرگرمیاں انجام دینے اور پاکستان کے اندر حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔تاہم افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل کا موقف ہے کہ پاکستانی سرحدوں کے اندر بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی مکمل طور پر داخلی معاملہ ہے، جس کی وجہ ملکی سیکوریٹی اور سیاسی ناکامیاں ہیں، نہ کہ سرحد پار سے کسی قسم کی سہولت کاری۔ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات رواں سال کے آغاز میں ہلاکت خیز جھڑپوں اور سرحد پار حملوں کے بعد تیزی سے خراب ہوئے تھے۔