• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنچ کی غیر اعلانیہ تبدیلی پر سپریم کورٹ میں زور دار بحث، ججوںکا اظہارِ ناراضگی

Updated: October 02, 2026, 1:51 PM IST | Agency | New Delhi

ججوں نے انتہائی سخت تبصرہ کیاکہ اس طرح پچھلے دروازے سے مقدمات کو دوسری بنچ میں منتقل کرنا عدالتی نظام کی شفافیت پر براہ راست شک پیدا کرتا ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے بغیر اطلاع کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بنچ تبدیل کرنے اور نئے ججوں کی بنچ کے ذریعہ پرانے فیصلوں کو پلٹنے کے معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس تعلق سے اب قانونی اور انتظامی حلقوں میں مباحثہ بھی  دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس معاملے پر حال ہی میں سپریم کورٹ کی ۲؍ الگ الگ ججوں کی بنچ اور کالجیم کی سطح پر بھی سنگین اعتراضات  کئے جا چکے ہیں۔ اصل بنچ کو بتائے بغیر کیس خصوصی بنچ کو منتقل کرنے پر جسٹس منوج مشرا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی خصوصی بنچ نے رجسٹری کی سخت سرزنش کی۔دراصل ’سینٹرل آرمڈ پولیس فورس‘ (سی اے پی ایف) میں ڈیپوٹیشن سے متعلق معاملے کی پہلے سے سماعت کر رہی باقاعدہ بنچ میں جسٹس اجول بھوئیاں اور جسٹس اتل چندورکر کو یہاں سے ہٹا کر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے معاملے کو دوسری اسپیشل بنچ کے سامنے فہرست بند کر دیا گیا۔ وہاں جسٹس بھوئیاں معاون جج ہیں۔ اس پر ججوں نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح پچھلے دروازے سے مقدمات کو دوسری بنچ میں منتقل کرنا عدالتی نظام کی شفافیت پر براہ راست شک پیدا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ یوپی پولیس بی جے پی کارکن کی طرح کام کر رہی ہے‘‘

کورٹ نے رجسٹری سے دریافت کیا کہ خصوصی بنچ کو اعتماد میں لئے بغیر یا  اطلاع دئیے بغیر معاملے کو اس طرح کیسے ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے؟ جج بدلتے ہی فیصلہ بدلنے کے رجحان یعنی ’بنچ ہوپنگ‘ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اس بات کو لے کر بھی بحث جاری ہے کہ جب کسی معاملے میں ججوں کی بنچ تبدیل ہوتی ہے تو نئے جج سابق ججوں کے قائم کردہ قانونی فیصلوں کو آسانی سے پلٹ دیتے ہیں۔آئین کے آرٹیکل ۱۴۱؍کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے تبصرہ کیا کہ ججوں کی بنچ تبدیل ہونے پر پرانے فیصلوں کو دوبارہ کھولنا یا پلٹ دینا آئین کے آرٹیکل ۱۴۱؍کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ کا حکم ملک کا قانون ہوتا ہے۔ 

متوقع چیف جسٹس بی وی ناگرتنا نے بھی اس رجحان پر اعتراض کرتے ہوئے عوامی طور پر اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ چہرے بدلنے سے عدالتی فیصلے نہیں بدلنے چاہئیں۔ اگر کسی قانون یا فیصلے پر شک ہے تو قائم شدہ اصول کے تحت اسے صرف بڑی بنچ کے پاس سماعت کے لئے بھیجنا ہی درست  طریقہ ہے  نہ کہ مساوی درجے کی بنچ کی جانب سے اسے براہ راست مسترد کر دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK