Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناگپور میں  سنسنی خیز قتل کے معاملے میں  انجینئرنگ کالج کے ۳؍طالب علم گرفتار

Updated: April 06, 2026, 11:52 AM IST | Nagpur

ملزمین نے نشے میں  دھت شخص کی مدد کی لیکن جب اس کی اہلیہ نے فون پر ناراضگی جتائی تو طلبہ نے نقد رقم، موبائل اور آلٹو کار ہتھیانے کیلئے قتل کردیا۔

The arrested accused and the Crime Branch team can be seen in the picture. Photo: INN
تصویر میں  گرفتار ملزمین اور کرائم برانچ کی ٹیم دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

یہاں ایک سنسنی خیز قتل کے معاملے میں انجینئرنگ کے ۳؍ طلبہ کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمین نے پہلے ایک نشے میں دھت ڈرائیور کی مدد کی، لیکن چند ہی گھنٹوں بعد اس کا قتل کرکے لاش کو چھپادیا اور مقتول کی سرخ رنگ کی آلٹو کار، نقد رقم اور موبائل فون لے کر فرار ہوگئے۔ جب اس قتل کی واردات کا پردہ فاش ہوا تو سب حیران رہ گئے کہ انجینئرنگ کے طلبہ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ پولیس کو بھی کیس حل کرنے میں کافی محنت کرنا پڑی، تاہم طلبہ کے جوتوں پر لگے خون کے نشانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج نے اس قتل کا راز کھول دیا۔ 
ناگپور پولیس کی کرائم برانچ یونٹ ون کے ذرائع کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی دیر رات مشرقی ناگپور کے وردھمان نگر علاقے میں پیش آیا۔ وردھمان نگر فلائی اوور کے پاس گزررہے انجینئرنگ کے ۳؍طلبہ نے ۴۴؍سالہ سوچت بھوجاپورے کو آلٹو کار کی اسٹیئرنگ وہیل پر جھکا ہوا پایا۔ انہوں نے دیکھا کہ بھوجاپورے نشے میں  بری طرح دھت ہے۔ پہلے توانہوں  نے بھوجاپورے کی گاڑی کو محفوظ جگہ پر پارک کرنے میں مدد کی۔ پھر انہوں  نے بھوجاپورے کی بیوی کو فون کال بھی کیا لیکن بھوجاپورے کی بیوی نے شوہر کے نشہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ پولیس کے مطابق اسی دوران تینوں  طلبہ کے دل میں لالچ آ گیا۔ انہوں نے سوچت بھوجاپورے کی کار، اس کے موبائل فون اور نقدی لوٹنے کا فوراًمنصوبہ بنایا اور اسے سنسنان مقام پر لے جاکر اس کا بے دردی سے قتل کر دیا۔ بعد ازیں  اس کی لاش جھاڑیوں  میں  چھپاکر فرار ہوگئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بسوا شرما کی اہلیہ کے پاس ۳؍ ملکوں کے پاسپورٹ!

معلوم ہوکہ جمعہ کو کھڑگاؤں روڈ پر شمشان گھاٹ کے قریب جھاڑیوں میں ۴۴؍ سالہ بھوجاپورے کی برہنہ لاش ملی۔ اس کا سر بری طرح کچلا ہوا تھا۔ ادھرسوچت بھوجاپورے کے والد اوپاس راؤ نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ پولیس نے تفتیش کے دوران تصدیق کی کہ یہی لاش سوچت کی ہے۔ کاوڈی پولیس اسٹیشن علاقے میں لاش ملنے کے صرف۱۲؍ گھنٹوں کے اندر پولیس نے اس قتل کا معمہ حل کر لیا۔ 
پولیس کے مطابق تینوں  ملزمین بی ٹیک کے دوسرے سال کے طالب علم ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کے نام آرین شینڈے(۲۲)، رِشبھ کامبلے(۲۰)  اور انوج رمیش(۱۹) ہیں۔ آرین کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہے اور کرائے کے مکان میں رہتا ہے، جبکہ رِشبھ اور انوج میکانیکل انجینئرنگ کے طالب علم ہیں۔ پولیس کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ قتل کا مقصد کار اور مہنگے موبائل فون حاصل کرنا تھا، جبکہ تینوں طلبہ خوشحال خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے اور یہ چیزیں آسانی سے خرید سکتے تھے۔ کامبلے کے خاندان کا اپنا بنگلہ ہے، جبکہ آرین کے والد سرکاری اسکول میں ٹیچر ہیں اور والدہ میونسپل کارپوریشن میں ملازم ہیں۔ پولیس کے مطابق، جب طلبہ نے بھوجاپورے کو اس کے گھر چھوڑنے کی کوشش کی اور اس کی بیوی سے رابطہ کیا، تو اس نے ناراضی کا اظہار کیا اور اسے واپس لانے پر غصہ کیا۔ اس سرد ردعمل سے طلبہ کو لگا کہ شاید اس شخص کی کسی کو پرواہ نہیں۔ لالچ میں آکر تینوں نے بھوجاپورے کو سنسان مقام پر لے جا کر گاڑی سے باہر نکالا اور پتھروں سے اس کا سر کچل کر قتل کر دیا۔ شناخت چھپانے کیلئے اسکے کپڑے اتار کر لاش جھاڑیوں میں پھینک دی، جبکہ کار اور موبائل لے کر فرار ہو گئے۔ ناگپور کرائم برانچ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تکنیکی نگرانی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال ریکارڈ کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ خاص طور پر آرین کو ٹریس کیا گیا کیونکہ اسی نے متاثرہ کی بیوی کو فون کیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے جرم قبول کر لیا بعد میں کار بھی برآمد کر لی گئی۔ تینوں طلبہ کے خلاف قتل کا کیس درج کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا اور پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK