امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی کشیدگی اور حکومتی مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی میں شرکت سے معذرت کر لی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سمیت بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ان کا وہائٹ ہاؤس میں موجود رہنا زیادہ ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 4:59 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی کشیدگی اور حکومتی مصروفیات کے باعث اپنے بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی میں شرکت سے معذرت کر لی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سمیت بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر ان کا وہائٹ ہاؤس میں موجود رہنا زیادہ ضروری ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ اپنے بیٹے ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ عالمی حالات میں تیزی سے بدلتی صورتحال جاری ہے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وہ اپنے بیٹے کی بیٹینا اینڈرسن کے ساتھ شادی میں شریک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے اس کی وجہ’حکومتی معاملات سے متعلق حالات‘ بتائی، تاہم، مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم وقت میں میرے لئے واشنگٹن ڈی سی میں وہائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ضروری ہے۔
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا:’’اگرچہ میں اپنے بیٹے ڈان جونیئر اور ٹرمپ خاندان کی نئی رکن، اس کی ہونے والی اہلیہ بیٹینا، کے ساتھ ہونا چاہتا تھا لیکن حکومت سے متعلق حالات اور امریکہ سے میری محبت مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس اہم وقت میں واشنگٹن ڈی سی میں وہائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ضروری ہے۔ ڈان اور بیٹینا کو مبارک ہو! صدر ڈونالڈ جے ٹرمپ۔‘‘
ٹرمپ نے جمعرات کو وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی کا وقت ’مناسب نہیں ‘ کیونکہ ’ایران اور دیگر معاملات‘ زیر غور ہیں۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نیویارک میں خطاب کے بعد جمعہ کی شام وہائٹ ہاؤس لوٹ آئیں گے۔ پہلے ان کا ارادہ تھا کہ وہ ہفتہ وار تعطیلات اپنے نیو جرسی گالف کلب میں گزاریں گے اور اتوار کو واپس آئیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا اینڈرسن کی شادی بہاماس میں خاندان اور قریبی دوستوں کی محدود تعداد کی موجودگی میں ایک نجی تقریب کے طور پر متوقع ہے۔ Politico کے مطابق، ٹرمپ نے منگل کو ایران پر نئے حملے شروع کرنے کے بارے میں بات کی تھی لیکن بعد میں اپنے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کے مشورے پر منصوبہ روک دیا تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔ بعد ازاں اسی دن ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ اگلا حملہ ’شاید جمعہ یا سنیچر‘ یا ’اگلے ہفتے کے آغاز‘ میں ہو سکتا ہے۔ ایران کے علاوہ، کیوبا بھی ٹرمپ کی توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ واشنگٹن میں بعض حکام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کیوبا کے خلاف فوجی کارروائی بھی زیر غور ہو سکتی ہے۔