• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی میں گزشتہ سال ۴؍ ہزار ۸۴۱؍ مسافر ٹرین حادثات کا شکار ہوئے !

Updated: February 05, 2026, 4:28 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

آرٹی آئی رضاکار نے کہا کہ ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور اوربلٹ ٹرین سے کہیں اہم قیمتی جانوں کو بچانا ہے۔ اس پرفوری توجہ دینے اورمیڈیکل انفرااسٹرکچر سے متعلق ہائی کورٹ کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایک طرف ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور بنانے کا بجٹ میں اعلان کیاگیاہے اور ممبئی کے ۸۰؍لاکھ مسافروں کو نظرانداز کرتے ہوئے بلٹ ٹرین پر خاص طور پرتوجہ مرکوز کی گئی ہے تو دوسری جانب آرٹی آئی رضاکار اور ممبئی سبربن ریل پسنجر اسوسی ایشن کےسابق ذمہ دار سمیر زویری کے ذریعہ حاصل کردہ تفصیلات میں چشم کشا انکشاف ہوا ہے جس کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ملک کی معاشی راجدھانی ممبئی میں ٹرینوں سے گر کر ۴؍ ہزار ۸۴۱؍ مسافر زخمی اور فوت ہوئےہیں۔ 
عدالت نے برسوں قبل ریلوے انتظامیہ کی سرزنش کی تھی اور ۲۰۰۹ء میں آر ایس ڈی او کی جانب سے ۱۸؍ ڈبے کی لوکل ٹرین کی ڈیزائن کرکے چلانے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب تک کچھ نہیں ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حادثات بدستورہو رہے ہیں۔ حادثا ت کےتدارک کے لئے پٹریوں کے ساتھ حفاظتی دیوار اور پلیٹ فارم کے آخر میں باڑھ لگانے جیسے آسان اقدامات کے ذریعے پٹریاں پارکرنے سے مسافروں کو روکا جاسکتا ہے۔ 
آرٹی آئی کے ذریعے ریلوے انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر ۴؍ہزار ۸۴۱؍حادثات رونما ہوئے۔ سینٹرل ریلوے میں ایک ہزار ۴۵۷؍ مسافروں کی موت ہوئی جبکہ ۱۵۶۵؍ شدید زخمی ہوئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کے ڈی ایم سی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اُدھو سینا کو ملنے کے امکانات

ویسٹرن ریلوے میں ایک ہزار ۸۱۹؍حادثات ہوئے۔ ان میں سے ۸۳۰؍مسافروں کی موت ہوئی اور ۹۸۹؍ شدید زخمی ہوئے۔ یہ اموات ٹرینوں سے گرکر، پٹریاں پار کرتے ہوئے، ٹرین اورپلیٹ فارم کے خلاء میں گر کر ہوئی ہیں اوریہی زخمی ہونے کے بھی اسباب ہیں۔ 
آرٹی آئی رضاکار سمیر زویری کےمطابق اس سے قطع نظر کہ حادثات میں کمی واقع ہوئی ہے مگر ریلوے کی جانب سے مزیداقدامات کی ضرورت ہے تاکہ حادثات پرمکمل طور پرقابو پایا جاسکے۔ 
بامبے ہائی کورٹ نے سمیر زویری کی طرف سے داخل کردہ مفاد عامہ کی عرضی میں ریلوے حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ ممبئی کے ہر مضافاتی اسٹیشن پر ایمرجنسی میڈیکل سینٹر قائم کرے لیکن صورتحال یہ ہے کہ سینٹرل ریلوے کے ۹۰؍ میں سے محض ۴؍ اسٹیشنوں پر اس کی تعمیل کی گئی ہے۔ ملاڈ اسٹیشن پر چند دن قبل ایک مسافر کے ذریعے دوسرے مسافرکو چھرا گھونپنے اور اس حملے میں متاثرہ کے شدید زخم کے سبب خون بہہ گیاتھا۔ اگر میڈیکل روم ہوتا توفوری ابتدائی طبی امداد مہیا کرکےاسپتال پہنچانے کے بعد اس کی جان بچائی جاسکتی تھی۔ 
اسی طرح اسٹیشنوں پرایمبولنس کی فراہمی کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے۔ سینٹرل ریلوے کے۹۰؍ میں سے محض ۱۵؍ اسٹیشنوں پر ہی ۱۰۸؍ نمبر کی ایمبولنس کھڑی رہتی ہیں جبکہ ویسٹرن ریلوے پر ۲۹؍ میں سے ۲۴؍ اسٹیشنوں پر ہی ایمبولنس ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ روزانہ ہونے والی قیمتی جانوں کے اتلاف کا بھی اس سے بآسانی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK