• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کے ڈی ایم سی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اُدھو سینا کو ملنے کے امکانات

Updated: February 05, 2026, 2:45 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی میں شیوسینا(ادھو )کا پلڑا بھاری۔

The mayor and deputy mayor have been elected in KDMC, now the opposition leader is to be appointed. Photo: INN
کے ڈی ایم سی میں میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ہوچکا ہے، اب اپوزیشن لیڈرکی تقرری کی جانی ہے۔ تصویر:آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کے بعد اب سیاسی حلقوں میں اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ ایوان میں حزب اختلاف کی قیادت کون کرے گا؟ قوانین کے مطابق میئر کے انتخاب کے بعد اب اسٹینڈنگ کمیٹی کی تشکیل اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کا عمل شروع ہونے والا ہے جس میں ادھو سینا کا پلہ بھاری نظر آ رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئندہ تعلیمی سال سے قبل بی ایم سی کو ۶؍اسکولی عمارتیں ملنےکی اُمید

حالیہ انتخابات میں ایوان کی تصویر واضح ہوچکی ہے اور اقتدار پر مہا یوتی کا قبضہ ہوچکا ہے۔ بی جے پی کی ۵۰؍اور شندے سینا کی ۵۳؍ نشستوں کے ساتھ حکمراں اتحاد مستحکم ہے جس کی بدولت شندے سینا کی ہرشالی تھویل میئر منتخب ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن میں ادھو سینا (۱۱)، منسے (۵)، کانگریس (۲) اور نیشنلسٹ کانگریس (شرد پوار) کے پاس ایک نشست ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں میں ادھو سینا سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ان کے حصے میں آنا تقریباً طے مانا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ادھو سینا نے پہلے ہی امیش بورگاؤنکر کو اپنا گروپ لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ بورگاؤں کر کے پاس کارپوریشن کے کام کاج کا وسیع تجربہ ہے اور وہ ایوان کی کارروائی سے بخوبی واقف ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارٹی جس رکن کو گروپ لیڈر نامزد کرتی ہے عام طور پر وہی اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے پہلی پسند ہوتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ میئر کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔ عیاں رہے کہ انتخابات کے دوران ادھو سینا کے ۴؍ کارپوریٹروں کے پراسرار طور پر غائب ہونے سے پارٹی کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ مدھور مہاترے انتخاب سے قبل لوٹ آئے تھے لیکن انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اسی طرح سوپنالی کینے اور راہل کوٹ بھی غیر حاضر رہے۔ ان تمام داخلی پیچیدگیوں کے باوجود عددی بنیاد پر ادھو سینا ہی اپوزیشن لیڈر کے عہدے کی سب سے بڑی دعویدار ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK