• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’گھوس خور پنڈت‘‘ تنازع: نیٹ فلکس کو قانونی نوٹس موصول، فلم کی ریلیز روکنے کے لیےرِٹ پٹیشن

Updated: February 05, 2026, 5:32 PM IST | Mumbai

منوج باجپائی کی اداکاری سے سجی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ مبینہ طور پر مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، کیونکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو قانونی نوٹس موصول ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، فلم کی ریلیز پر روک لگانے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔

Manoj Bajpayee.Photo:INN
منوج پاجپائی۔ تصویر:پی ٹی آئی

منوج باجپائی کی آنے والی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ نیٹ فلکس کی جانب سے اعلان کے بعد ہی تنازعے میں گھِر گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور فلمسازوں کو قانونی نوٹس جاری کیا گیا ہے  لیکن آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر یہ فلم تنازع کا شکار ہوئی؟ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔
کیا منوج باجپائی کی فلم  ’’گھوس خور پنڈت‘‘ قانونی مشکلات میں ہے؟ 
اے این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہلی ہائی کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں نیٹ فلکس کی آنے والی فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ کی ریلیز اور اسٹریمنگ پر روک لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔ مبینہ طور پر، درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ فلم کا عنوان اور مواد ہتک آمیز اور فرقہ وارانہ طور پر اشتعال انگیز ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایڈووکیٹ وینیت جندل کے ذریعے دائر کی گئی اس درخواست میں  ’رِٹ آف منڈی مس ‘ جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے، جس کے تحت متعلقہ حکام کو فلم کی اسٹریمنگ روکنے اور اسے برقرار رکھنے کی ہدایت دی جائے، ساتھ ہی دیگر متعلقہ راحت بھی طلب کی گئی ہے۔ یہ درخواست مہندر چترویدی کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جنہوں نے خود کو ایک اچاریہ بتایا ہے جو ہندوستانی کتابوں، فلسفے اور روحانی روایات کے مطالعے، تعلیم اور فروغ کے لیے وقف ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:سی سی آئی کا ایوی ایشن شعبے میں مارکیٹ پر غلبے کے غلط استعمال پر انڈیگو کے خلاف تفصیلی جانچ کا حکم

درخواست میں کیے گئے دعوؤں کے مطابق، لفظ ’پنڈت‘ کو بدعنوانی اور رشوت ستانی سے جوڑا گیا ہے، جس سے برہمن برادری کی عزت و وقار اور خود درخواست گزار کے پیشے کو نقصان پہنچتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیٹ فلکس انڈیا نے فلم کا اعلان اور تشہیر کی ہے اور ایسا پروموشنل مواد جاری کیا ہے جس میں مبینہ طور پر ’پنڈت‘ کی اصطلاح کو غیر اخلاقی اور بدعنوان طرزِ عمل سے جوڑا گیا ہے۔

گھوس خور پنڈت کی ریلیز روکنے سے متعلق درخواست کی مزید تفصیلات
درخواست میں آئین کی دفع  ۱۹(ایک)(اے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی، آرٹیکل ۱۹(۲) کے تحت مناسب پابندیوں کے تابع ہے اور اس میں نفرت انگیز تقاریر، ہتکِ عزت یا ایسا مواد شامل نہیں ہو سکتا جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی نظم و نسق کو متاثر کرے۔درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مرکزی حکومت او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر تخلیقی آزادی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر ضابطہ جاتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سرفراز خان اسپتال داخل، رنجی کوارٹر فائنل نہیں کھیل پائیں گے

درخواست گزار نے یونین آف انڈیا اور نیٹ فلکس انڈیا کو ہدایت دینے کی استدعا کی ہے کہ فلم کی ریلیز اور اسٹریمنگ پر روک لگائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی، کیس کی سماعت مکمل ہونے تک متنازع مواد کی ریلیز پر عبوری پابندی عائد کرنے اور مرکزی حکومت کو ڈیجیٹل اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے متعلق قابلِ اطلاق قوانین کے تحت نیٹ فلکس انڈیا کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK