• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم آپ اور خاندان سے اتنی محبت نہیں کرتے تھے جتنی کوریا سےکرتے ہیں: خودکشی نوٹ

Updated: February 05, 2026, 5:23 PM IST | Ghaziabad

غازی آباد میں تین نابالغ بہنوں نے گزشتہ روز اپنی عمارت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی۔ آٹھ صفحات پر مشتمل خودکشی نوٹ سے کوریائی ثقافت اور ایک آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم کا جنون سامنے آیا ہے، پولیس اس کے ’’آخری ٹاسک‘‘ سے ممکنہ تعلق کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Ghaziabad is the building from which three sisters committed suicide by jumping from the 9th floor. Photo: X
غازی آباد کو وہ عمارت جس کی ۹؍ ویں منزل سے کود کر تین بہنوں نے خودکشی کی تھی۔ تصویر: ایکس

اتر پردیش کے غازی آباد میں تین نابالغ بہنوں کی خودکشی کے معاملے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس میں ان کا کوریائی ثقافت اور آن لائن ٹاسک پر مبنی گیم کے جنون کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ تین لڑکیاں، جن کی عمریں۱۲؍، ۱۴؍، ۱۶؍، سال تھیں، منگل ۴؍ فروری کی صبح اپنی رہائشی عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر ہلاک ہو گئیں۔خودکشی کے نوٹ میں، لڑکیوں نے کوریائی ثقافت کے لیے اپنی محبت اور اس کی اہمیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا اور انہیں ان اداکاروں اور موسیقی سے گہرا جذباتی تعلق محسوس ہوتا تھا جس کی وہ پیروی کرتی تھیں۔لڑکیاں ایک کوریائی ٹاسک بیسڈ گیم بھی کھیلتی تھیں اور اس کی عادی تھیں۔ لڑکیاں روزمرہ کی سرگرمیاں بھی ایک ساتھ کرتی تھیں، بشمول باتھ روم جانا۔لڑکیوں نے ایک ڈائری میں آٹھ صفحات پر مشتمل خودکشی نوٹ چھوڑا، جس میں انہوں نے معذرت کی اور ایک روتے ہوئے کارٹون بھی بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: غازی آباد واقعہ کے بعد گیم کی لت موضوع بحث

دریں اثناء انہوں نے کہا، ’’ان کی چھوڑی ہوئی ڈائری میں ان کی طرز زندگی اور ٹاسک بیسڈ گیم کے جنون کے بارے میں بہت تفصیلات ہیں۔نوٹ میں لکھا تھاایک سچی زندگی کی کہانی۔ اس ڈائری میں جو کچھ بھی لکھا ہے، وہ سب پڑھ لو، کیونکہ یہ سب سچ ہے۔ میں واقعی معذرت خواہ ہوں، معاف کرنا پاپا۔بعد ازاں ڈائری میں، انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں ان کے والدین نے مارا پیٹا اور شادی کی دھمکیاں بھی دیں۔  لڑکیوں نے خودکشی کے نوٹ میں لکھا’’کیا ہمیں اس دنیا میں اسلئے زندہ رہنا چاہیے تاکہ آپ ہمیں ماریں؟ نہیں، موت بہتر ہو گی... شادی کا ذکر سنتے ہی ہم پر تشویش طاری ہو جاتی ہے۔ ہمیں کوریائی لوگ پسند ہیں اور ہم ان سے محبت کرتے ہیں، اور ہم ہندوستانی مردوں سے شادی کبھی قبول نہیں کر سکتے۔‘‘نوٹ میںمزید لکھا گیا، ’’آپ ہمیں کوریائی چھوڑنے پر کیسے مجبور کریں گے؟ کوریائی ہماری زندگی تھی، تو آپ ہمیں ہماری زندگی چھوڑنے پر کیسے مجبور کر سکتے ہیں؟ آپ نہیں جانتے تھے کہ ہم ان سے کتنی محبت کرتے تھے۔ اب آپ نے ثبوت دیکھ لیا۔ اب ہم پر یقین آیا کہ کوریائی اور کےپاپ ہماری زندگی ہیں۔ ہم آپ اور خاندان سے اتنی محبت نہیں کرتے تھے جتنی ہم کوریائی اداکار اور کے-پاپ گروپ سے کرتے تھے۔ کوریائی ہماری زندگی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دہلی: صرف۱۵؍ دنوں میں۸۰۰؍ سے زائد افراد لاپتہ،۵۰۹ ؍خواتین اور۱۹۱؍ نابالغ شامل

لڑکیوں کے والد،چیتن کمار نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا کہ خاندان کو ان کی خطرناک آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں علم نہیں تھا۔  انہوں نے کہا’’۵۰؍ ٹاسک تھے۔ کل آخری تھا۔ ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا، کل آخری ٹاسک تھا۔ انہوں نے ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ ہم نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ ان کی زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘دریں اثنا، پولیس نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا ان کی خودکشی کا تعلق گیم میں آخری ٹاسک کے حصے کے طور پر دی گئی ہدایات سے ہو سکتا ہے۔ایک افسر نے کہایہ حادثاتی نہیں لگتا۔ ہم ہر زاویے کی جانچ کر رہے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK