معطل شدہ اراکین کا پارلیمنٹ احاطہ میں  ۵۰؍ گھنٹے کا دھرنا

Updated: July 28, 2022, 12:38 AM IST | new Delhi

مہنگائی کیخلاف آواز بلند کرنے پردی گئی ’سزا‘ حکومت کیلئے مصیبت بن گئی، ۷؍ پارٹیوں  کے اراکین رات بھر ڈٹے رہے، مودی سرکار نے کہا معافی مانگ لو تو معطلی ختم ہوجائیگی مگر اپوزیشن نے پیشکش ٹھکرا دی

Members who have been suspended can be seen protesting in front of Gandhiji`s statue in the Parliament complex. (Photo: PTI)
وہ اراکین جو معطل کئے گئے ہیں پارلیمنٹ کامپلکس میں گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مہنگائی اور جی ایس ٹی کے خلاف احتجاج کرنے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوان سے ۳؍  دنوں  میں اپوزیشن کے ۲۴؍ اراکین کی معطلی حکومت اور  حزب اختلاف کے درمیان ٹکراؤ کی نئی وجہ بن گئی ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت کا مطالبہ ہے کہ جن اراکین کو معطل کیاگیاہے، وہ معافی مانگیں اور آئندہ  اس طرح  احتجاج نہ کرنے کا وعدہ کریں تو دوسری جانب  اپوزیشن نےمعافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے  حکومت پر اپوزیشن کی آواز دبانے  کا الزام عائد کیا ہے اور  پارلیمنٹ کے احاطہ میں ہی  مہاتما گاندھی کی مورتی کے سامنے ۵۰؍ گھنٹوں کا احتجاج شروع کردیا ہے۔ 
معطلی واپس لینے کا مطالبہ، نائیڈو کا انکار
 پیر کو کانگریس کے ۴؍ اراکین کو لوک سبھا سے اور منگل کو ٹی ایم سی، ڈی ایم کے، ٹی آر ایس، سی پی آئی اور سی پی ایم  کے  ۱۹؍ اراکین کو راجیہ سبھا سے معطل کرنے کے بعد بدھ کو عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ کو بھی معطل کردیا۔اس طرح  ۳؍ دنوں  میں  ۲۴؍ اراکین پارلیمان کو معطل کیاگیا۔ راجیہ سبھا کے اراکین کو اس ہفتے کے بقیہ دنوں کیلئے معطل کیاگیا ہے جبکہ  لوک سبھا سے کانگریس کے چاروں اراکین کو پورے مانسون اجلاس  کیلئے معطل کردیاگیاہے۔  بدھ کو اپوزیشن  لیڈر ملکارجن  کھرگے  نے راجیہ سبھا کے چیئر مین وینکیا نائیڈو سےملاقات  کرکے اراکین کی معطلی واپس لینے کی مانگ کی۔   ذرائع کے مطابق جواب میں  نائیڈو نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کو ’’اپنی غلطی کی شدت کا احساس کرتے ہوئے  ا س پر معذرت کا اظہار کرنا چاہئے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اسی صورت میں وہ نرمی  برتنے کے بارے میں سوچ سکیں گے۔ 
گاندھی کے مجسمے کے سامنے۵۰؍ گھنٹے کا احتجاج 
  بہرحال حکومت کے اس مطالبے کو منظور کرنے کیلئے  اپوزیشن کا کوئی رکن اسمبلی تیار نہیں ہوا۔  معطل اراکین  نے کہا کہ  معافی تو حکومت کو مانگنی چاہئے جو مہنگائی جیسے اہم مسئلے پر گفتگو کیلئے تیار نہیں ہورہی ہے۔  راجیہ سبھا سے معطل کئے گئے اپوزیشن کے ۲۰؍ اراکین   نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں گاندھی جی کےمجسمہ کے سامنے مسلسل ۵۰؍ گھنٹے کااحتجاج شروع کردیا ہے۔ یہ احتجاج رات کو بھی جاری  رہے گا۔ معطل کی گئی  ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ ڈولا سین نے بتایا کہ اراکین نے گاندھی جی کے مجسمہ کے پاس چکری احتجاج کا فیصلہ کیا ہے جو رات کو بھی جاری رہے گا۔ 
 لوک سبھا کے اراکین کی بحالی کیلئے بھی معافی کی مانگ
    اس بیچ  این سی پی ،ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس نے  لوک سبھا میں کانگریس کے ۴؍ اراکین کی معطلی  کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ وہ اب    چاہِ ایوان کے سامنے احتجاج نہیں کریں گے، ان کی معطلی ختم کی جائے۔ این سی پی کی  رکن  پارلیمنٹ سپریا سُلے نے اپیل کی کہ کانگریس کے جن ۴؍ اراکین کو  پورے اجلاس کیلئےمعطل کر دیا گیا ہے،  ان کی معطلی کو ختم کر کے  انہیں  ایوان میں واپس لایا جائے۔ اگر حکومت مہنگائی پر بات کرنے کو تیار ہے تو ہم بھی بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ترنمول کانگریس کے سدیپ بندھوپادھیائے اور ڈی ایم کے کے اے راجہ نے بھی اس کی تائید کی۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ معطلی کو ختم کرنے کا فیصلہ اسپیکر کریں گے، لیکن کیا سُلے،  راجہ اوربندھوپادھیائے اس بات کی گارنٹی لیں گے کہ مذکورہ اراکین دوبارہ ایسا سلوک نہیں کریں گے۔  جوشی کے مطابق’’ان کی معطلی واپس لی جاسکتی ہے،اگر وہ صدر نشیں سے معافی مانگ لیں اور  یہ وعدہ کریں کہ آئندہ ایوان میں پلے کارڈ لے کر نہیں آئیں گے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ  کیاکہ ’’ہم مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ  ہم مہنگائی پربحث کیلئے تیار ہیں۔ آج وزیر مالیات نرملا سیتارمن کورونا سے صحت یاب ہونے کےبعد اپنے دفتر میں لوٹ آئی ہیں۔ اگر اپوزیشن چاہے تو ہم آج سے ہی  مباحثے کاآغاز کرسکتے ہیں۔ ‘‘

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK