ہندوستانی فوڈ ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) (FSSAI) نے کھانے پینے کی مصنوعات کی پیکیجنگ، لیبل، ویب سائٹس اور اشتہارات میں استعمال ہونے والے مبینہ گمراہ کن ۱۰۰؍فیصددعوؤں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi
ہندوستانی فوڈ ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) (FSSAI) نے کھانے پینے کی مصنوعات کی پیکیجنگ، لیبل، ویب سائٹس اور اشتہارات میں استعمال ہونے والے مبینہ گمراہ کن ۱۰۰؍فیصددعوؤں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔
ہندوستانی فوڈ ریگولیٹر فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا(ایف ایس ایس اے آئی ) (FSSAI) نے کھانے پینے کی مصنوعات کی پیکیجنگ، لیبل، ویب سائٹس اور اشتہارات میں استعمال ہونے والے مبینہ گمراہ کن ۱۰۰؍فیصددعوؤں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔ ریگولیٹری کارروائی کے بعدایموے انڈیا، ایمامی انڈیا، بون بسکٹس، ایپس انڈیا ، جوزا فوڈس اور ماسٹر چوفوڈس نے ایسے دعوے واپس لے لیے یا ان میں اصلاح کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مشفق کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں رہنمائی فراہم کرتی ہے
ایف ایس ایس اے آئی نے فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کے لیبل، پیکیجنگ، پروموشنل مواد اور اشتہارات میں ’۱۰۰؍فیصد‘ جیسے دعوؤں کے استعمال سے گریز کریں، اگر یہ دعوے صارفین کے ذہن میں مصنوعات کے معیار، خالص پن یا برتری کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا کر سکتے ہوں۔ یہ کارروائی ایف ایس ایس اے آئی کی اس وسیع مہم کا حصہ ہے جس کے تحت فوڈ مصنوعات پر غلط یا غیر ثابت شدہ دعوؤں کی نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔
ایم وے انڈیا انٹرپرائزیزپرائیویٹ لمیٹڈ اپنی ایک ناریل کے تیل کی مصنوعات کے لیے ۱۰۰؍ فیصد کوکونٹ آئل کا دعویٰ استعمال کر رہی تھی۔ ایف ایس ایس اے آئی کی مداخلت کے بعد کمپنی نے ریگولیٹر کو بتایا کہ اس نے مصنوعات کی پیکیجنگ اور پروموشنل مواد سے ۱۰۰؍فیصد کا لفظ رضاکارانہ طور پر ہٹا دیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ پرانے اسٹاک کو، جس پر یہ دعویٰ درج تھا، سیلز چینلز سے ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’برہماستر ۲‘‘ آخرکار بننے جا رہی ہے! رنبیراور عالیہ کے ساتھ دپیکا کی شمولیت کا امکان
ایمامی لمیٹڈ کی زنڈو ہنی مصنوعات پر ’۱۰۰؍فیصد‘ کا دعویٰ استعمال کیا گیا تھا۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق کمپنی نے ریگولیٹر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس دعوے کے حوالے سے اصلاحی کارروائی کی۔ ایپس انڈیا اسی طرح نے اپنی شہد کی مصنوعات سے بھی اسی نوعیت کے ’۱۰۰؍فیصد‘ دعوے ہٹا دیے ہیں۔ بون بسکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی بون کمن فلیور جیرا بائٹ بسکٹس ۷۶؍گرام کی تشہیر میں ’۱۰۰؍فیصد‘ کا دعویٰ موجود تھا۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق کمپنی نے بعد میں اپنی ویب سائٹ سے یہ دعویٰ ہٹا دیا۔ کیرالا کی جوزا فوڈس نے اپنی مختلف بچوں کی غذائی مصنوعات سے ’ ۱۰۰؍فیصد‘ دعوے ہٹا دیے ہیں۔ دوسری جانب ماسٹر چاؤ فوڈس پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنی ریمن نوڈل مصنوعات سے ’۱۰۰؍فیصد‘ سے متعلق دعویٰ واپس لے لیا ہے۔
ایف ایس ایس اے آئی کی کارروائی کا مقصد کیا ہے؟
ریگولیٹر کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صارفین کو کھانے کی مصنوعات کے بارے میں درست، واضح اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جائیں۔ایف ایس ایس اے آئی نے پہلے بھی فوڈ کمپنیوں کو ’۱۰۰؍فیصد‘ جیسے دعوؤں کے استعمال کے بارے میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی تھی کیونکہ یہ اصطلاح بعض حالات میں صارف کو مصنوعات کی خالصیت یا معیار کے بارے میں غلط تاثر دے سکتی ہے۔