Inquilab Logo Happiest Places to Work

حلب: ۹۱؍ سالہ کتاب فروش، ۴۰؍ برس میں ۱۰؍ لاکھ نایاب و فراموش شدہ کتب جمع کیں

Updated: August 20, 2026, 6:10 PM IST | Aleppo

شام کے تاریخی شہر حلب میں ۹۱؍ سالہ کتاب فروش رزق اللہ عبد گزشتہ ۴۰؍ برس سے ایسی کتابیں جمع کرنے اور محفوظ رکھنے میں مصروف ہیں جنہیں دنیا تقریباً بھلا چکی ہے۔ حلب کے طلیل علاقے میں واقع ان کی چھوٹی سی دکان میں عربی، فرانسیسی، انگریزی اور جرمن زبانوں کی تقریباً ۱۰؍ لاکھ کتابوں کا ذخیرہ موجود ہے جس میں قدیم قلمی نسخے، لیتھوگرافی سے چھپی کتابیں اور ایک صدی سے زیادہ پرانی مطبوعات بھی شامل ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جنگوں، سیاسی بحرانوں اور بدلتے زمانے کے درمیان شام کا قدیم شہر حلب اپنی ایک خاموش مگر بے حد قیمتی یادداشت محفوظ کیے ہوئے ہے۔ شہر کے طلیل علاقے کی ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان میں ۹۱؍  سالہ رزق اللہ عبد روزانہ اپنی عمر کے برخلاف غیر معمولی سرگرمی کے ساتھ کتابوں کے درمیان وقت گزارتے ہیں۔ تقریباً چار دہائیوں سے ان کا مشن ایک ہی ہے: ایسی کتابوں کو تلاش کرنا، خریدنا اور محفوظ رکھنا جن کے ختم ہوجانے کا خطرہ ہے۔ عبد کے مطابق ان کا ذاتی ذخیرہ اب تقریباً ۱۰؍ لاکھ کتابوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کتابوں میں عربی کے ساتھ فرانسیسی، انگریزی اور جرمن زبانوں کے نایاب نسخے بھی شامل ہیں۔ دکان کی الماریوں میں عام کتابوں کے ساتھ ایسے قلمی نسخے، لیتھوگرافی ایڈیشن اور ایک صدی سے زیادہ پرانی مطبوعات بھی موجود ہیں جو آج کی کئی جدید لائبریریوں میں تلاش کرنا مشکل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: شام کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے پر امریکہ اسرائیل سے ناراض

کتابوں کی حالت ہر جگہ یکساں نہیں۔ بعض کے سرورق بوسیدہ ہوچکے ہیں، کہیں صفحات غائب ہیں اور کئی کتابوں کی جلدیں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ چکی ہیں۔ لیکن عبد کے لیے ان خامیوں سے زیادہ اہم ان کتابوں کا تاریخی اور ثقافتی مقام ہے۔ وہ انہیں صرف پرانی اشیا نہیں سمجھتے بلکہ ایسے شواہد تصور کرتے ہیں جو گزرے ہوئے زمانوں کی زندگی، علم اور فکری روایت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ عبد نے انادولو سے گفتگو میں کہا کہ نایاب کتابوں کو ختم ہونے سے بچانا ان کے لیے ایک ذمہ داری ہے۔ ان کے بقول وہ ان کتابوں کو جمع اور محفوظ کرتے ہیں جن کی اب لوگوں کو زیادہ پروا نہیں، جنہیں چھوڑ دیا گیا ہے یا جن کے معدوم ہوجانے کا خطرہ ہے، اور پھر انہیں ان افراد کے لیے دستیاب رکھتے ہیں جو ان سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ کتب فروشی کو صرف ایک کاروبار کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے لیے یہ حلب کی ثقافتی یادداشت اور علمی ورثے کو آئندہ نسل تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ اسی جذبے کے تحت وہ اپنی دکان میں آنے والے طلبہ، محققین اور کتابوں کے شوقین افراد کی مدد بھی کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے لوگ بھی یہاں پہنچتے ہیں جو برسوں سے کسی خاص کتاب کی تلاش میں ہوتے ہیں اور انہیں وہ نسخہ عبد کے ذخیرے میں مل جاتا ہے۔ خیال رہے کہ حلب دنیا کے قدیم ترین تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علمی و ثقافتی ورثہ صدیوں پر محیط ہے۔ ایسے شہر میں ایک نجی کتابی ذخیرے کی اہمیت محض کتابوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس مواد کی نوعیت سے بھی طے ہوتی ہے جو اس میں محفوظ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز کے متعلق ٹرمپ کے دعوے پر ایران نے کیلیفورنیا کو اپنا ’’نیا علاقہ‘‘ قرار دیا

عبد کے پاس موجود بعض کتابوں کی اب اشاعت نہیں ہوتی۔ بعض پرانی اشاعتیں جدید لائبریریوں کے کیٹلاگ میں بھی آسانی سے نہیں ملتیں۔ اس طرح ان کی دکان ایک ایسے غیر رسمی آرکائیو کا کردار ادا کر رہی ہے جہاں مختلف زمانوں، زبانوں اور علمی روایتوں کے آثار ایک ہی جگہ جمع ہوگئے ہیں۔ ان کی کتابوں کی زبانوں کا تنوع بھی قابلِ توجہ ہے۔ عربی، فرانسیسی، انگریزی اور جرمن زبانوں کے ذخیرے حلب کے تاریخی طور پر مختلف تہذیبوں اور علمی حلقوں سے روابط کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ عبد کے نزدیک کسی کتاب کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ آج اسے کتنے لوگ پڑھنا چاہتے ہیں؛ اگر وہ کتاب کسی زمانے کے علم یا ثقافت کی نمائندگی کرتی ہے تو اسے محفوظ رہنا چاہیے۔ 

رزق اللہ کی عمر ۹۱؍ سال ہے، اور وہ اس عمر میں بھی عبد اپنی دکان سے وابستہ ہیں۔ وہ خریداروں کے لیے کتابیں تلاش کرتے ہیں، نایاب نسخوں کو سنبھالتے ہیں اور اپنے ذخیرے میں مزید کتابیں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کتابوں سے ان کی وابستگی ہی انہیں آج بھی کام جاری رکھنے کی طاقت دیتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ انہیں مزید کتابیں جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کی طاقت عطا کرے۔ لیکن اس کتابی سفر کے پیچھے ایک ذاتی غم بھی ہے۔ عبد نے بتایا کہ ان کا ایک بیٹا ۲۰۱۲ء میں لاپتا ہوگیا تھا اور اس کے بعد سے خاندان کو اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بیٹے کے بارے میں حقیقت جاننا ان کی بڑی خواہشات میں شامل ہے۔ حلب کی اس چھوٹی سی دکان میں رکھی لاکھوں کتابیں اسی خاموش عزم کی گواہی دیتی ہیں کہ وقت گزر سکتا ہے، شہر بدل سکتے ہیں اور نسلیں رخصت ہوسکتی ہیں، مگر اگر کتاب محفوظ رہے تو کسی زمانے کی آواز دوبارہ سنی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK