Updated: August 20, 2026, 6:03 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آسٹریلوی امدادی کارکن زومی فرینک کوم اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق نہیں کرے گا، آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اس فیصلے کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا ہےاور اسے تمام آسٹریلوی عوام کیلئے توہین آمیز قرار دیا۔
آسٹریلوی امدادی کارکن لالزومی ’’زومی فرینک کوم‘‘۔ تصویر: ایکس
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے جمعرات کو اسرائیل کے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ وہ غزہ میں آسٹریلوی امدادی کارکن لالزومی ’’زومی فرینک کوم‘‘ اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی فوجداری تحقیقات نہیں کرے گا۔ وونگ نے کہا کہ آسٹریلیا اسرائیلی سفیر ہلیل نیومین کو طلب کرے گا اور تل ابیب میں موجود اپنے سفیر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کو براہِ راست آسٹریلیا کے موقف سے آگاہ کریں۔یہ اسرائیلی فیصلہ آسٹریلیا کو عالمی یومِ انسانی ہمدردی کی شام کو موصول ہوا، جسے وونگ نے زومی کے اہلِ خانہ، امدادی کارکنوں اور تمام آسٹریلوی عوام کے لیے ’’خاص طور پر توہین آمیز‘‘قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں یہ فیصلہ عوامی اعلان سے چند لمحات قبل ملا، اس دن جب ہم ان لوگوں کو خراجِ تحسین عقیدت پیش کررہے ہیں جو دوسروں کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ عمل اس احتساب سے بہت دور ہے جس کا ہم مطالبہ کرتے رہے ہیں اور جس کے زومی کے عزیز حقدار ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری، ۹؍ فلسطینی شہید ۱۵؍زخمی
واضح رہے کہ فرینک کوم، جو۴۳؍ سالہ سابقہ میلبورن باشندہ تھیں، یکم اپریل۲۰۲۴ء کو ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں کے گروہ کا حصہ تھیں جب غزہ کے وسط میں خوراک پہنچاتے ہوئے ان کے قافلے خصوصی طور پر اسرائیلی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں اس واقعے نے عالمی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا اور جنگ زدہ علاقے میں امدادی عملے کی حفاظت کے لیے آزاد تحقیقات کے مطالبات تیز کر دیے۔ اسرائیل نے ابتدا میں اسے ’’سنگین غلطی‘‘قرار دیا اور دو افسران کو برطرف کیا، لیکن فوجی پراسیکیوٹر نے گزشتہ ہفتے کیس بند کرتے ہوئے کہا کہ کوئی مجرمانہ غفلت سامنے نہیں آئی۔ تاہم وونگ نے زور دیا کہ آسٹریلیا اس نتیجے کو تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ خالصتاً داخلی فوجی جائزہ کسی غیر جانبدار فوجداری تفتیش کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت مکمل شفافیت اور انصاف کے حصول کے لیے کوشاں رہے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت دی
دریں اثناء اس فیصلے سے دو طرفہ سفارتی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ آسٹریلیا اسرائیل کے فوجی آپریشن پر تنقید کرتے ہوئے اس کے وجود کے حق کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے بھی وونگ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کیس کی بندش کو ’’بنیادی اخلاقیات کا دھوکہ‘‘ قرار دیا۔ ادھر ورلڈ سینٹرل کچن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس حملے سے متعلق تمام اندرونی دستاویزات جاری کرے، اور خبردار کیا کہ اس طرح کا استثنیٰہر اس امدادی کارکن کو خطرے میں ڈالتا ہے جو تنازعات والے خطوں میں کام کرتا ہے۔