مدلل تحریری شکایت میں وزیراعظم کے خطاب کوانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قراردیا، کارروائی کی مانگ کی۔
نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئی
پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کیلئے پیش کئے گئے ۱۳۱؍ ویں آئینی ترمیمی بل کی ناکامی کے بعد ۱۸؍ اپریل کو قوم کے نام وزیراعظم کے خطاب کو ملک کی ۷۰۰؍ سمجھدار اور بااثر شخصیات نے ’انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔
ان میں ماہرین تعلیم، سماجی کارکنان اور سابق بیوروکریٹس شامل ہیں۔ مذکورہ خطاب کو ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذکورہ فکرمند شہریوں کے گروپ نے اپنے دستخط کے ساتھ الیکشن کمیشن کو شکایت بھیجی ہے جس میں کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ دستخط کنندگان نے کہا ہے کہ ’’ہم ہندوستان کے فکر مند شہری، آپ کی فوری توجہ اس جانب مبذول کراتے ہیں کہ۱۸؍ اپریل۲۰۲۶ء کو قوم سے خطاب کے ذریعے وزیر اعظم نے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی واضح اور سنگین خلاف ورزی کی ہے۔‘‘ ۷۰۰؍ افراد کی اس مشترکہ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم نے’’انتخابی مہم اور جانبدارانہ پروپیگنڈا‘‘کیلئے سرکاری مشینری اور ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا، جو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔شکایت میں انتخابی ضابطہ اخلاق کی اُن شقوں کا حوالہ دیا گیا ہے جن کی رو سے برسر اقتدار جماعت اپنے سرکاری عہدے، سرکاری ٹرانسپورٹ، عملے یا سرکاری دوروں کو انتخابی سرگرمیوں کے ساتھ نہیں جوڑ سکتی۔
انہوں نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ ’’ قوم کے نام مذکورہ خطاب وزیر اعظم نے اپنی سرکاری حیثیت میں کیا اور اسے سرکاری میڈیا کے ذریعے عوامی خرچ پر نشر کیا ، اس لئے یہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے سیکشن ۷؍کی پہلی شق کی دفعہ ’الف‘ اور ’ب ‘ نیز سیکشن۴؍ کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘