Inquilab Logo Happiest Places to Work

۸۶؍لاکھ طلبہ نے سرکاری اسکولوں کو خیر باد کہہ دیا! وزارت تعلیم کی رپورٹ

Updated: July 09, 2026, 9:39 AM IST | Agency | New Delhi

ان طلبہ نے پرائیویٹ اسکولوں میں داخلہ لے لیا،وزارت تعلیم کی ’یوڈائس رپورٹ‘ ،۲۰۲۳ء سے۲۰۲۶ء کے درمیان سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوئی ۔

Students.Photo:INN
طلبہ۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان میں سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سے متعلق ایک اہم تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ’یو ڈائس (یونیفائیڈڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن) ۲۶۔۲۰۲۵ء رپورٹ کے مطابق گزشتہ۲؍ برسوں کے دوران سرکاری اسکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے جبکہ پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں کرا رہے ہیں۔ ’یو ڈائس کی  رپورٹ‘ کے مطابق تعلیمی سال۲۰۲۳ء سے۲۰۲۶ء کے درمیان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کی تعداد میں تقریباً ۸۶؍ لاکھ کی کمی درج کی گئی ہے۔ یہ تبدیلی ملک کے اسکولی تعلیمی نظام کے  لئے اہم  اشاریہ  ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کی کمی اس با ت کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلے کا رجحان پہلے کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔
 
 
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی مدت کے دوران سرکاری امداد سے محروم تسلیم شدہ پرائیویٹ اسکولوں میں ۸۸؍ لاکھ سے زیادہ نئے طلباء و طالبات کا داخلہ ہوا۔ یعنی جس عرصے میں سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد گھٹی، اسی دوران پرائیویٹ اسکولوں میں بڑی تعداد میں نئے طلبا شامل ہوئے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اب بہت سے خاندان اپنے بچوں کی تعلیم کے  لئے پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ’یو ڈائس‘  ملک کے تمام اسکولوں سے متعلق ایک جامع ڈیٹا نظام ہے۔ اس میں ہر سال اسکولوں کی تعداد، طلبہ کے داخلے، اساتذہ کی معلومات، اسکولوں میں دستیاب سہولتیں اور تعلیم سے متعلق کئی اہم اعداد و شمار شامل کئے جاتے ہیں۔ حکومت اسی رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کم ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ تاہم  ماہرین کا ماننا ہے کہ بہتر تعلیم، انگریزی ذریعۂ تعلیم، جدید سہولتیں، ڈیجیٹل کلاس روم، بہتر نتائج اور ہم نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے بہت سے والدین پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں۔
 
 
دوسری جانب کئی ریاستوں میں سرکاری اسکولوں کا انضمام، طلبہ کی کم تعداد اور آبادی میں تبدیلی جیسے عوامل بھی ان اعداد و شمار کو متاثر کر تے ہیں۔’یو ڈائس  رپورٹ‘ سامنے آنے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان اعداد و شمار کا تجزیہ کریں گی اور سرکاری اسکولوں کو مزید بہتر بنانے کے  لئے نئی اسکیمیں شروع کر سکتی ہیں۔ تعلیمی نظام کو بہتر بنانے، طلبا کو معیاری سہولیات فراہم کرنے اور سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھانے کے  لئے آئندہ دنوں میں کئی اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں طرح کے اسکولوں میں معیاری تعلیم کی دستیابی سب سے زیادہ ضروری ہے تاکہ ہر بچے کو بہتر مستقبل بنانے کا یکساں موقع مل سکے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK