ریلائنس انڈسٹریز اسٹاک مارکیٹ کی سرفہرست بلیو چپ کمپنی نہیں رہی

Updated: January 14, 2021, 8:05 AM IST | Agency | Mumbai

اب ایچ ڈی ایف سی بینک کو یہ اعزاز حاصل ہو گیا، ریلائنس انڈسٹریز کے پاس گزشتہ ۸؍ ماہ سے یہ خطاب تھا ،شیئر مارکیٹ میں ہونے والی گراوٹ کا اثر

Mukesh Ambani .Picture :INN
مکیش امبانی۔ تصویر:آئی این این

مکیش امبانی کی قیادت والی ریلائنس انڈسٹریز گزشتہ ۸؍ ماہ سے شیئر مارکیٹ کی سر فہرست بلیو چپ کمپنی تھی لیکن گزشتہ چند روز میں مارکیٹ میں ہونے والی اتھل پتھل نے  ریلائنس سے یہ اعزاز چھین لیا ہے ۔ اب ایچ ڈی ایف سی بینک کو سرفہرست بلیو چپ کمپنی ہونے کا اعزاز مل گیا ہے۔ریلائنس انڈسٹریز کے لئے یہ ایک بڑا جھٹکا ہے لیکن  ایچ ڈی ایف سی بینک کے لئے یہ بہت بڑا موقع ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ۳؍ روز میں ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرس میں ۹ء۸۲؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کمپنی کے ٹریک ریکارڈ کے لحاظ سے کافی بڑی ہے ۔ اسی وجہ سے ایچ ڈی ایف سی بینک کو ریلائنس سے آگے جانے کا موقع مل گیا ہے اور اب ریلائنس دوسرے پائیدان پر کھسک گئی ہے۔ ایچ ڈی ایف سی بینک ملک کا سب سے بڑا اور قابل بھروسہ پرائیویٹ بینک ہے ۔ اس کے اسٹاکس ہمیشہ بہتر پوزیشن میں ہوتے ہیں۔   واضح رہے کہ ایک وقت میں نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں ریلائنس انڈسٹریز کا کیپ ۱۵؍ فیصد سے زیادہ تھا لیکن لاک ڈائون کی وجہ سے اس کےمارکیٹ کیپ میں کمی آئی ہے اور اب گزشتہ ۳؍ روز کی ہلچل نے اسے مزید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ ۲۰۲۰ء کی ابتدا میں ایچ ڈی ایف سی بینک ہی بلیو چپ کمپنیوں کی فہرست میںٹاپ پر تھی لیکن لاک ڈائون نے اسے بھی کافی نقصان پہنچایا۔ اس دوران اس میں سرمایہ کاری کم ہو گئی تھی جس کی وجہ سے  یہ اعزاز  ریلائنس کو مل گیا تھا لیکن اب دوبارہ ایچ ڈی ایف سی بینک اس پر قابض ہو گئی ہے۔  گزشتہ برس اپریل سے ستمبر کے درمیان ریلائنس انڈسٹریز کے شیئرس میں ۱۶۹؍ فیصد کا اچھال آیا جو اس کے لئے اب تک کا سب سے زیادہ اچھال تھا ۔ اسی کی بدولت  ریلائنس نے نفٹی میں اپن کھویا ہوا رتبہ حاصل کرلیا تھا ۔ اس دوران کمپنی کے جیو وینچرس نے اسے سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے والی کمپنیوں کی فہرست میں بھی لا کھڑا کیا تھا ۔ مکیش امبانی نے جیو وینچرس میں اپنی حصہ داری فروخت کرکے نہ صرف کمپنیوں کے لئے ۲؍ لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا انتظام کیا بلکہ اسے قرض کے دلدل سے بھی باہر نکالنے کا کام کیا ۔  اس کے بعد سے ہی ریلائنس کے شیئرس میں زبردست اچھال تھا ۔ یاد رہے کہ ۱۱؍ ستمبر کو ریلائنس کے  شیئرس ۲۳۶۰؍ کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے تھے لیکن اس کے بعد کمپنی کے شیئرس میں گراوٹ شروع ہو گئی اور اس کی سب سے بڑی وجہ فیوچر گروپ اور امیزون کے درمیان ہونے والی ڈیل اور اس میں ریلائنس کا بھی شامل ہو جانا ہے۔ اس تنازع نے ریلائنس کے شیئرس پر اچھا خاصا اثر ڈالا اور اس کے بعد ریلائنس انڈسٹریز کے شیئر س میں مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے۔ کسی دن حالانکہ یہ اوپر بھی جاتے ہیں لیکن روزانہ کے کاروبار میں تھوڑی تھوڑی گراوٹ جاری رہتی ہے۔ 

reliance Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK