Updated: October 22, 2026, 1:11 PM IST
| New Delhi
مصنوعی ذہانت جہاں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کو تیز اور آسان بنا رہی ہے، وہیں درسی مواد کو گہرائی سے سمجھنے اور یاد رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایک عالمی سروے کے مطابق، ہندوستانی طلبہ اے آئی کے فوائد تسلیم کرنے کے باوجود روایتی مطالعے اور تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو مستقبل کی کامیابی کیلئے ضروری سمجھتے ہیں۔
ایک ٹیکنالوجی کمپنی ایچ پی (HP) کے سروے کے مطابق، ہندوستان کے زیادہ تر طلبہ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) انہیں کام تیزی سے مکمل کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم انہیں تشویش ہے کہ اس کے استعمال سے وہ درسی مواد کو گہرائی سے سمجھنے اور سیکھنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق، ہندوستان کے ۸۲؍ فیصد طلبہ مطالعے کے دوران سیکھی گئی باتوں کو یاد رکھنے کیلئے روایتی طریقوں، مثلاً ہاتھ سے نوٹس لکھنے یا انہیں پرنٹ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایچ پی فیوچرز ۲۰۲۶ (HP Futures 2026) کے عالمی سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستانی طلبہ تعلیم پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کو سمجھنے کے باوجود مستقبل کی ملازمتوں میں کامیابی کیلئے تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی سوچ جیسی دیرپا مہارتوں کے ساتھ اے آئی کے اہم کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً ۷۸؍ فیصد طلبہ کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتیں ختم کرنے کے مقابلے میں زیادہ نئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ ۸۷؍ فیصد طلبہ پُراعتماد ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے پیشہ ورانہ کریئر میں اے آئی ٹولز کو مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کر سکیں گے۔ سروے کے مطابق، ہندوستان طلبہ اپنے تعلیمی نظام پر بھی بھرپور اعتماد رکھتے ہیں۔ ان میں سے ۹۲؍ فیصد کا ماننا ہے کہ ان کی تعلیم انہیں ملازمتوں کی منڈی میں داخل ہونے کیلئے تیار کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۳؍ ہفتوں میں دوسری بار ہندوستان میں بلاک
ایچ پی، گلوبل لرننگ کونسل اور ایجوکیشن لیڈرز فورم کی قیادت میں تیار کی گئی اس رپورٹ میں تعلیم، پالیسی سازی اور مستقبل کے روزگار سے متعلق ۵۸؍ ماہرین نے شرکت کی۔ اس کا مقصد اس بات پر غور کرنا تھا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کام کی دنیا کیلئےنوجوانوں کو تیار کرنے میں تعلیمی نظام کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سروے میں دنیا بھر کے ۶؍ ہزار سے زائد طلبہ کی رائے شامل کی گئی، جن میں بھارت کے ۷۵۸؍ طلبہ بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں ہندوستان سمیت مختلف ممالک کے پالیسی سازوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایک واضح منصوبہ تیار کریں، جس کے تحت تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور دیگر دیرپا مہارتوں کو تعلیمی نظام کا بنیادی حصہ بنایا جائے، نہ کہ انہیں اختیاری مضامین یا غیر نصابی سرگرمیوں تک محدود رکھا جائے۔ رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ تعلیم میں خواندگی، حساب کتاب اور بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو مرکزی اہمیت حاصل رہے، جبکہ تدریس کیلئے عملی اور تخلیقی طریقوں کو بھی فروغ دیا جائے۔