• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: مدارس میں جمعہ کی چھٹی ختم، وزیر اعلیٰ دھامی کا یکساں تعلیمی نظام پر زور

Updated: October 22, 2026, 6:05 PM IST | Dehradun

اتراکھنڈ حکومت نے نئی ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی سے منظور شدہ مدارس میں جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ وار چھٹی لازمی قرار دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ محکمۂ تعلیم سے تسلیم شدہ تمام اداروں کو یکساں ضابطوں پر عمل کرنا ہوگا، جبکہ ناقدین نے سوال اٹھایا ہے کہ مدارس کی تعطیل تبدیل کرنے کے ساتھ اقلیتی طلبہ کی مذہبی ضروریات اور تعلیم کے تسلسل کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کی ریاست اتراکھنڈ میں مدارس کے ہفتہ وار تعطیل کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اب ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی (USAME) سے تسلیم شدہ مدارس میں جمعہ کے بجائے اتوار کو چھٹی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ۲۱؍ اکتوبر کو دہرادون میں ایک تقریب کے موقع پر اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تمام تعلیمی اداروں کے لیے یکساں نظام ہونا چاہیے اور انہیں ایک ہی سمت میں کام کرنا چاہیے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جب مدارس کو محکمۂ تعلیم سے تسلیم شدہ اسکولوں کے طور پر چلایا جارہا ہے تو ان پر بھی محکمۂ تعلیم کے قواعد اور ضابطے لاگو ہوں گے۔ یہ تبدیلی ریاست میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے انتظامی ڈھانچے میں وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ اتراکھنڈ حکومت نے سابقہ مدرسہ تعلیمی بورڈ کو ختم کرکے ایک نئی ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی قائم کی ہے، جس کے دائرے میں مسلمانوں کے علاوہ عیسائی، سکھ، جین، بدھ مت اور پارسی برادریوں کے تعلیمی ادارے بھی آتے ہیں۔ جولائی ۲۰۲۶ء میں نئے نظام کے آغاز کے بعد اداروں کو نئی شرائط کے مطابق منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس انتظام کے ذریعے تعلیمی معیار، نصاب اور ضابطوں میں یکسانیت پیدا کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: مظفر نگر تھپڑ معاملہ: متاثرہ مسلم طالب علم کی تعلیم کیلئے بالآخر۳۸ء۱؍ لاکھ روپے منظور کئے

ریاستی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سورجیت سنگھ گاندھی کے مطابق، نئے نظام کے تحت اب تک ۷۶؍ مدارس کو منظوری دی جاچکی ہے، جبکہ مزید ۱۱۴؍ اداروں کی درخواستیں محکمۂ تعلیم کے زیرِ غور ہیں۔ منظور شدہ ۷۶؍ مدارس میں سے ۴۴؍ ہری دوار، ۲۴؍ ادھم سنگھ نگر، ۶؍ دہرادون اور ۲؍ نینی تال میں واقع ہیں۔ حکام کے مطابق، یہ ادارے اب ہفتہ وار چھٹی سمیت محکمۂ تعلیم کے مقرر کردہ ضابطوں پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ ریاست میں سابقہ مدرسہ بورڈ کے تحت ۴۵۲؍ مدارس رجسٹرڈ تھے، اس لیے نئے نظام کے تحت منظوری کا عمل اداروں کے لیے اہم انتظامی مرحلہ بن گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کی چھٹی ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ طلبہ اور عملے کو نمازِ جمعہ سے محروم کردیا جائے گا۔ ڈاکٹر گاندھی کے مطابق، اتھارٹی نے مذہبی امور سے واقف افراد سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی دوپہر کی نماز عموماً ایک بجے سے ڈھائی بجے کے درمیان ادا کی جاتی ہے، اگرچہ مختلف مقامات پر وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق، محکمۂ تعلیم کے اسکولوں میں تدریسی اوقات صبح ۸؍ بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہوتے ہیں، اس لیے ان کا دعویٰ ہے کہ نئے نظام سے نمازِ جمعہ کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ تاہم، عملی طور پر مختلف اداروں کے اوقات اور مقامی حالات کے مطابق اس انتظام پر عمل درآمد اہم ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے پر کانگریس نے اعتراض کیا ہے۔ ریاستی کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر پرتیما سنگھ نے سوال اٹھایا کہ حکومت تعلیمی نظام کی بنیادی مشکلات حل کرنے کے بجائے مدارس، مساجد اور مزارات جیسے معاملات کو کیوں نمایاں کررہی ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن اس فیصلے کو محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی بحث کا حصہ بھی سمجھتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ اقلیتی اداروں کو تسلیم شدہ اسکولوں کے ضابطوں کے مطابق چلنا چاہیے اور کسی بھی ادارے کو مقررہ معیار سے انحراف کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یہ بھی پڑھئے: منی پور میں تشدد، شدید احتجاج، وزیراعلیٰ کو گھیرنے کی کوشش

مدارس کے انتظامی نظام میں تبدیلی کے ساتھ غیر منظور شدہ اداروں کا معاملہ بھی زیرِ بحث ہے۔ محکمۂ اقلیتی بہبود کے سکریٹری پراگ مدھوکر دھاکٹے کے مطابق، گزشتہ سال کارروائی کے دوران ۲۵۰؍ غیر رجسٹرڈ مدارس کو سیل کیا گیا تھا۔ حکام نے اس کارروائی کی وجہ ضروری منظوری اور رجسٹریشن کا نہ ہونا بتائی تھی۔ اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ ایسے اداروں میں زیرِ تعلیم بچوں کی تعلیم کس طرح جاری رہی اور ان کے لیے متبادل انتظامات کیا کیے گئے۔ اس معاملے میں مختلف رپورٹس میں مدارس کی منظوری اور بندش کے اعداد و شمار مختلف انداز میں پیش کیے گئے ہیں، اس لیے ان اعداد کو ایک ہی زمرے میں شمار کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد بحث صرف جمعہ یا اتوار کی چھٹی تک محدود نہیں رہی۔ ایک طرف حکومت تعلیمی اداروں کے لیے مشترکہ قواعد اور معیاری تعلیم کو اپنی پالیسی کی بنیاد قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف ناقدین اقلیتی اداروں کی مذہبی ضروریات، منظوری کے عمل اور طلبہ کی تعلیمی سلامتی سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اس تناظر میں فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اداروں کے اوقات، نمازِ جمعہ کی ادائیگی اور نئے نظام کے تحت منظوری کے عمل کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK