Updated: October 22, 2026, 6:06 PM IST
| Muzaffarnagar
۲۰۲۳ء میں اتر پردیش کے مظفر نگر کے ایک اسکول میں مسلم طالب علم کو ہم جماعت بچوں سے تھپڑ مروانے کے واقعے کے تقریباً ڈھائی سال بعد ریاستی حکومت نے متاثرہ بچے کی تعلیم کے اخراجات کے لیے ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے کی یک وقتی گرانٹ منظور کی ہے۔ یہ رقم سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد منظور کی گئی ہے اور اس سے اسکول کی بقایا فیس، یونیفارم، کتابوں، اسٹیشنری، آمدورفت اور دیگر تعلیمی ضروریات کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد طالب علم کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مالی انتظام کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر آگئی ہے۔
یہ واقعہ اگست ۲۰۲۳ء میں مظفر نگر ضلع کے گاؤں کھبّاپور کے نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا تھا۔ اس وقت اسکول کی پرنسپل نے ایک مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کے لیے اس کے ہم جماعت بچوں کو ہدایت دی تھی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ ویڈیو میں بچوں کو مسلم طالب علم کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جب کہ بچے کی مذہبی شناخت سے متعلق تبصروں نے اسکولوں میں امتیازی سلوک اور بچوں کے ساتھ برتاؤ کے معاملے پر تشویش پیدا کردی تھی۔ واقعے کے بعد قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این ایچ آر سی) نے میڈیا رپورٹس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا، جہاں عدالت نے متاثرہ بچے کی تعلیم اور تحفظ کے حوالے سے ریاستی حکومت کی ذمہ داری پر زور دیا۔ عدالت کی ہدایات کے مطابق، اس وقت کے بنیادی شکشا ادھیکاری شبھم شکلا کے انتظامات کے تحت بچے کا داخلہ مظفر نگر شہر کے شارڈین اسکول میں کرایا گیا، تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔
یہ بھی پڑھئے: سونیا گاندھی نے انسٹاگرام جوائن کیا، اپنی نئی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کی
ابتدا میں بنیادی تعلیم محکمہ نے بچے کی تعلیم اور دیگر ضروری اخراجات برداشت کیے تھے، لیکن بعد میں سید مرتضیٰ میموریل ٹرسٹ نے اسکول فیس ادا کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی۔ تاہم، ٹرسٹ کی جانب سے فیس کی ادائیگی میں تاخیر کی اطلاعات کے باعث بچے کے تعلیمی اخراجات کے انتظامات میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوگئی تھی۔ اس مسئلے کے حل کے لیے بنیادی شکشا ادھیکاری سندیپ کمار نے ریاستی حکومت سے خصوصی بجٹ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ سندیپ کمار کے مطابق، حکومت نے اب بچے کی تعلیم کے لیے ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے منظور کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت نے اب براہِ راست ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے منظور کر لیے ہیں۔‘‘ اس رقم سے اسکول کی بقایا فیس ادا کی جائے گی اور یونیفارم، موزے، اسٹیشنری، کتابوں اور دیگر تعلیمی سامان کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اسکول آنے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی اسی انتظام کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ وزیراعلیٰ بھگونت مان کو دہلی ایئرپورٹ پر ۳؍ گھنٹے حراست میں رکھاگیا،۵۰؍ ہزار جرمانہ وصول کیاگیا‘‘
مئی ۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ بچے کی اسکولی تعلیم مکمل ہونے تک ٹیوشن فیس، یونیفارم، کتابوں اور آمدورفت کے اخراجات برداشت کرنا ریاستی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا تھا کہ بچے کی تعلیم کے اخراجات کی ذمہ داری کسی دوسرے ادارے یا فلاحی تنظیم پر منتقل کرکے ریاست اپنی ذمہ داری سے دست بردار نہیں ہوسکتی۔ تازہ منظوری اسی معاملے میں بچے کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے مالی انتظام کی اہم پیش رفت ہے۔