سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، لڑکے اور اس کے ہل خانہ کے خلاف مقدمہ کالعدم۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 1:24 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، لڑکے اور اس کے ہل خانہ کے خلاف مقدمہ کالعدم۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ محض اس بنیاد پر کسی شخص کے خلاف خودکشی کیلئےاکسانے کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا کہ اس نے لیو اِن رلیشن میں رہنے کے بعد تعلق ختم کردیا یا شادی سے انکار کردیا اور اس کی وجہ سے دوسرے فریق نے خودکشی کرلی۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے یہ بات تلنگانہ کے ایک معاملے میں کہیں۔ عدالت نے متوفی خاتون کے ساتھی، اس کے والدین، بہن اور دیگر افراد سمیت ۶؍ملزمین کے خلاف جاری کارروائی کو منسوخ کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: کل کے احتجاج کو روکنے کیلئے دہلی چھاؤنی میں تبدیل
سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملزمین نے خاتون کو خودکشی کیلئے مجبور کرنے یا اکسانے کا ارادہ کیا تھا یا انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کی جانب سے شادی سے انکار کے نتیجے میں وہ اپنی جان لے سکتی ہے۔ بنچ نے کہاکہ ’’لوگ مختلف حالات میں مختلف انداز سے ردعمل دیتے ہیں اور اگر کسی رشتے کے خاتمے کے بعد خودکشی ہوجائے تو اسے ہر صورت خودکشی کے لیے اکسانا قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘ استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ خاتون اور پہلے ملزم کی بچپن سے دوستی تھی اور دونوں باہمی رضامندی سے رشتے میں تھے۔ وہ تقریباً ۳؍ماہ تک ایک ساتھ بھی رہے ۔ ابتدا میں شادی کی بات ہوئی تھی، لیکن بعد میں ملزم نے شادی سے انکار کردیا۔ الزام تھا کہ اس فیصلے پر اس کے اہل خانہ اور دیگر افراد کا دباؤ تھا۔ بعد میں خاتون نے اپنی بہن سے کہا کہ اگر اگلے دن شادی نہیں ہوئی تو وہ اپنی جان لے لے گی۔ ملزم کے گھر پر بحث و تکرار کے بعد اس نے خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اور خودکشی کرلی۔ ٹرائل کورٹ اور تلنگانہ ہائی کورٹ نے ملزمین کے خلاف کیس ختم کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ الزام کو مکمل طور پر درست مان بھی لیا جائے تب بھی ان سے خاتون کو خودکشی کیلئے اکسانے کا کوئی عمل ثابت نہیں ہوتا۔