۴۳؍ ہزار سے زائد سیکوریٹی اہلکار وں کی تعیناتی، جموں کشمیر، چھتیس گڑھ اور بنگال کے حساس علاقوں سے جوانوں کو بھی راجدھانی منتقل کیا گیا، پڑوسی ریاستوں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت، ریاست کی سرحد پر نظر، ریلوے اور میٹرواسٹیشنوں کو بند کرنے کی تیاری۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 1:19 PM IST | Agency | New Delhi
۴۳؍ ہزار سے زائد سیکوریٹی اہلکار وں کی تعیناتی، جموں کشمیر، چھتیس گڑھ اور بنگال کے حساس علاقوں سے جوانوں کو بھی راجدھانی منتقل کیا گیا، پڑوسی ریاستوں کو بھی الرٹ رہنے کی ہدایت، ریاست کی سرحد پر نظر، ریلوے اور میٹرواسٹیشنوں کو بند کرنے کی تیاری۔
مرکزی حکومت چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ، ایس آئی آر کی منسوخی اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے قانون میں تبدیلی کیلئے ۱۰؍ اکتوبر کے دہلی میں احتجاج کو روکنے کیلئے کیل کانٹوں سے لیس ہوگئی ہے۔ پوری دہلی کو چھاؤنی میں تبدیل کرنے کیلئے دہلی پولیس کے ۲۰؍ ہزار اہلکاروں کے علاوہ سی اے پی ایف کے ۲۳؍ ہزار جوانوں کو دہلی منتقل کرنے کا حکم جاری کیاگیا ہے۔ ان میں ، بی ایس ایف، سی آر پی ایف اور دیگر نیم فوجی دستوں کے نوجوان شامل ہیں۔ یہ منتقلی جموں کشمیر کے ساتھ ہی چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال ماؤنوازوں سے متعاثر حساس علاقوں سے بھی ہورہی ہے۔
۱۲؍ اکتوبر تک تعیناتی، سی آئی ایس ایف بھی شامل
وزارت داخلہ نے۸؍ سے۱۲؍اکتوبر تک سی اے پی ایف کی۲۲۱؍کمپنیاں تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس کو مزید۱۱۰؍کمپنیاں فراہم کی گئی ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام دستوں (سی اے پی ایف) کی ایک کمپنی میں کم وبیش ۱۰۰؍ جوان ہوتے ہیں۔ دہلی پولیس کو جو ۱۱۰؍ اضافی کمپنیاں فراہم کی گئی ہیں ان میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی۸۵، سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی۱۰، انڈو تبتین بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی ۷-۷؍ اور سینٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی ایک کمپنی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق احتجاج کے دوران مزید۲۰؍ ہزار دہلی پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔
یوپی اور ہریانہ الرٹ، سرحدوں پر جانچ، میٹرو بند
اتر پردیش اور ہریانہ سمیت پڑوسی ریاستوں کو بھی ملک گیر احتجاج کے پیش نظر الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع کے مطابق دہلی کی سرحدوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ٹرمینل پر سیکوریٹی اہلکار سخت نگرانی رکھیں گے۔ کئی سطحوں کی بیریکیڈنگ کی جائے گی اور سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی کنٹرول روم سے کی جائے گی۔ حکام نے بتایا کہ دارالحکومت میں چہرہ شناخت کرنے والے کیمرے بھی نصب کئےجائیں گے۔ضرورت پڑنے پر نئی دہلی علاقے کے تمام میٹرو اسٹیشن بند کئےجا سکتے ہیں اور بازار بھی بند کرائے جا سکتے ہیں۔
پوری دہلی میں حکم امتناعی
مظاہرین کو حراست میں لینے کیلئے دفعہ ۱۶۳(سابقہ ۱۴۴) کا سہارا لیا جائےگا۔اس کیلئے ریاست بھر میں حکم امتناعی نافذ رہےگا اور اس کے تحت ایگزیکٹو مجسٹریٹ امن و امان برقرار رکھنے کا حوالہ دیکر فوری احکامات جاری کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی احتجاج یا عوامی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
’ دی ٹیلی گراف‘ نے وزارت داخلہ کے ایک سیکوریٹی افسر سے بات کی جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’۱۰؍ اکتوبر سے دہلی میں جاری رہنے والے احتجاج کے پیش نظر مرکزی ریزرو پولیس فورس کے تقریباً۱۲؍ہزار اہلکاروں کو مغربی بنگال، جموں کشمیر اور چھتیس گڑھ سے ہوائی جہاز کے ذریعے دہلی لایا جا رہا ہے تاکہ سیکوریٹی انتظامات مضبوط کئے جا سکیں۔ حالیہ برسوں میں دہلی میں یہ سیکوریٹی فورسیز کی یہ سب سے بڑی تعیناتیوں میں سے ایک ہوگی، کیونکہ بڑی تعداد میں مظاہرین کے آنے کا کااندیشہ ہے۔ ‘‘