راہل گاندھی کا اعلان، عوامی احتجاج سے کانگریس کو تقویت ،الیکشن کمیشن پر ای سی آئی نیٹ کے تعلق سے دروغ گوئی کا الزام لگایا، متنبہ کیا کہ ملک میں ووٹرس کی تعداد ۲۰۱۵ء سے کم کردی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 11:59 AM IST | Agency | New Delhi
راہل گاندھی کا اعلان، عوامی احتجاج سے کانگریس کو تقویت ،الیکشن کمیشن پر ای سی آئی نیٹ کے تعلق سے دروغ گوئی کا الزام لگایا، متنبہ کیا کہ ملک میں ووٹرس کی تعداد ۲۰۱۵ء سے کم کردی گئی ہے۔
ووٹ چوری کے خلاف اور گیانیش کمار کے استعفیٰ کیلئے ممبئی سے دہلی تک غیر معمولی احتجاج نے جہاں حکومت کے ایوانوں میں لرزہ طاری کردیا ہے وہیں کانگریس کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں اور ووٹ چوری کے معاملہ کو سب سے پہلے اٹھانےوالے راہل گاندھی نے جمعہ کو حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’ لاٹھی سے بھیڑ کو روکا جاسکتاہے، سوال نہیں، گیانیش کمار کو جانا ہوگا اور اس سسٹم کو بھی جانا ہوگا جو انہیں لایا ہے۔‘‘ اس بیچ کانگریس اور اپوزیشن نے گاندھی جینتی پر گاندھیائی اصولوں پر احتجاج کرنےوالوں کے خلاف پولیس کی کارروائی کی پرزور مذمت کی۔
راہل نے احتجاج کا موازنہ گاندھیائی احتجاج سے کیا
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہندی میں ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’گاندھی جینتی کے موقع پر ہزاروں نوجوانوں نے بغیر کسی تشدد کے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔‘‘ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ طلبہ کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچایا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مودی-شاہ حکومت کا جواب یہ ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو سڑکوں سے گھسیٹ کر لے جایا جا رہا ہے اور سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کا واحد قصور یہ ہے کہ انہوں نے ووٹ چوری پر سوال اٹھانے کی جرأت کی۔
یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا انسانی فن اور اے آئی تخلیقات میں فرق کرنے پر زور
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ احتجاج مہاتما گاندھی کے سچ بولنے اور پُرامن طریقے سے جدوجہد کرنے کے نظریہ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باپو نے ہمیں یہی سکھایا تھا کہ سچ بولو اور پُرامن طریقے سے لڑائی لڑو، اور یہی بات اس حکومت کو سب سے زیادہ خوف زدہ کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاٹھی کے ذریعے بھیڑ کو روکا جا سکتا ہے، لیکن کسی سوال کو نہیں۔ گیانیش کمار کو جانا ہوگا اور جس نظام نے انہیں اس عہدے پر پہنچایا ہے، وہ بھی ختم ہوگا۔
دہلی اور ممبئی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی مظاہرے
یہ احتجاج سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کی جانب سے ملک گیر سطح پر کی جانے والی وسیع تر تحریک کا حصہ تھے، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ملک کے کئی دیگر شہروں، جن میں احمد آباد، لکھنؤ اور پٹنہ شامل ہیں، میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری
ملک میں ووٹروں کی تعداد کم کی جارہی ہے
اس بیچ کانگریس نے ایس آئی آر کو’ ’شاہ کی ایما پرحق رائے دہی سے محرومی ‘‘قرار دیا اور الزام لگایا کہ ملک میں ووٹروں کی تعداد ۲۰۱۵ء کی تعداد سے کم کی جارہی ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری ا جئے رام رمیش نےبتایا کہ ایکس پوسٹ میں الیکشن کمیشن پر ای سی آئی نیٹ کے تعلق سے دروغ گوئی کا بھی الزام عائد کیااور کہا کہ جان بوجھ کر اہل ووٹرس کو انتخابی فہرستوں سے نکالا جارہاہے۔
نئی دہلی میں جہاں نیہا بورا نے اعلان کیا ہے کہ سنیچر کو پھر احتجاج کیا جائےگا وہیں ممبئی میں سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی مودی سرکار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ۳؍ دن احتجاج نہیں کریںگے بلکہ ۳؍ مہینوں کے احتجاج کیلئے تیار ہیں۔‘‘ ملک بھر میں احتجاج میں عوام کی امڈنے والی بھیڑ نے سی جے پی کے حوصلے بلند کردیئے ہیں۔