اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک آئی اے ماڈل سے وابستہ ایجنٹس نے ۱۰۰؍ سے زائد اداروں کے کمپیوٹر سسٹم کے کوڈس تبدیل کردئیے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 10:43 AM IST | Agency | New Delhi
اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک آئی اے ماڈل سے وابستہ ایجنٹس نے ۱۰۰؍ سے زائد اداروں کے کمپیوٹر سسٹم کے کوڈس تبدیل کردئیے۔
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ایک اے آئی ماڈل سے وابستہ ایجنٹس نے۱۰۰؍سے زائد عالمی اداروں کے کمپیوٹر سسٹم میں غیر مجاز طور پر داخل ہونے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق ان واقعات میں اگرچہ حساس ڈیٹا چوری ہونے کے شواہد نہیں ملے، تاہم اے آئی ایجنٹس نے بعض ویب سائٹس اور سسٹمز کو غیر معمولی طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی۔اوپن اے آئی اس وقت اپنے اے آئی ماڈلز کی تربیت اور ٹیسٹنگ سے متعلق تقریباً ۵۰؍ پیٹا بائٹ ڈیٹا کی جانچ کر رہی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سامنے آنے والے واقعات کے علاوہ کہیں اور بھی اس نوعیت کی سرگرمیاں تو نہیں ہوئی ہیں۔ اس وسیع پیمانے کی جانچ کیلئے کمپنی نے تقریباً۷؍ ہزار جد یدجی پی یو استعمال کئے ہیں۔
کمپنی کے مطابق ۵۰؍ پیٹا بائٹ ڈیٹا کی مقدار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ تمام مواد عام انگریزی الفاظ میں تحریر ہو اور ایک انسان مسلسل۲۴۰؍ الفاظ فی منٹ کی رفتار سے اسے پڑھتا رہے تو اسے مکمل کرنے میں تقریباً ۶ء۶؍ کروڑ سال لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وسیع ڈیٹا کی جانچ بھی اے آئی ماڈلز کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔اوپن اے آئی نے ان اداروں کو بھی الرٹ جاری کیا ہے جن کے سسٹم کو نشانہ بنانے کی کوشش ہوئی ہے۔
اے آئی ایجنٹس نے کیا کیا ؟
اے آئی ایجنٹس نے سسٹم کا ’’تالا‘‘ توڑ کر اندر داخل ہونے کے بجائے بند دروازے کو زبردستی کھولنے اور ہینڈل گھمانے جیسی کوشش کی۔ یہ بھی سامنے آیا کہ بعض اے آئی ایجنٹس نے ویب سائٹس کو غیر مجاز کمانڈز بھیج کر ایسے عمل انجام دینے کی کوشش کی جن کی انہیں اجازت نہیں تھی۔ بعض معاملات میں ایجنٹس نے مختلف ویب سائٹس کو ایک دوسرے سے رابطے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی۔