کورونا وائرس کی نئی قسم ’’امیکورن‘‘ کے سبب دنیا بھر میں ہلچل

Updated: November 28, 2021, 7:24 AM IST | Geneva

ڈبلیو ایچ او نےاسے وائرس کی سب سے خطرناک قسم قرار دیا، کورونا کی نئی لہر کا خدشہ ، امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی اہم ممالک نے افریقی ممالک کیلئے اپنی پروازیں بند کردیں

Corona screening of passengers is underway at an airport in South Africa (Photo: Agency)
جنوبی افریقہ کے ایک ایئر پورٹ پر مسافروں کی کورونا جانچ جاری ہے ( تصویر: ایجنسی)

)  دنیا بھر میں اس وقت کورونا کی ایک نئی قسم کے سبب ہلچل مچی ہوئی جو بہت ہی تیزی سے پھیلنے اور مریض کو تیزی سے نقصان پہنچانے کا مادہ رکھتی ہے۔  کورونا کی یہ نئی قسم جنوبی افریقہ میں پائی گئی ہے جسےماہرین نے  ’امیکرون‘ کا نام دیا ہے۔  ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس کی تصدیق کے بعد دنیا کے کئی اہم ممالک نے افریقی ممالک کی پروازیں بند کر دی ہیں۔ 
  اطلاع  کے مطابق بدھ کے دن  جنوبی افریقہ میں کورونا کے اس ویرینیٹ کی تصدیق کی گئی جس کے بعد معلوم ہوا کہ  اس نئی بیماری کی زد میں اسرائیل، بوٹسوانا، بلجیم  اور ہانگ کانگ  کے کچھ باشند ے بھی آئے ہیں  ۔  اس نئی ویرینیٹ کے تعلق سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتنی خطرناک ہے کہ ا س کے سامنے کورونا وائرس کے خلاف کئے گئے اب تک کے سارے اقدامات ناکافی ثابت ہوں گےاور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں کورونا کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔  اس خبر کے پھیلتے ہی دنیا کے کئی ممالک نے افریقی ممالک کی جانب سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔ سب سے  پہلے برطانیہ جنوبی افریقہ کے لئے اپنی پروازیں بند کر دیں۔ اس کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور اسواتینی کیلئے بھی اپنی جہازوں کی پروازیں بند کر دی ہیں۔  برطانیہ کے بعد جرمنی ، پھر کینیڈا اور امریکہ نے بھی افریقی ممالک کے سفر پر پابندی عائد کردی۔ اسرائیل، سنگاپور اور اٹلی نے افریقی ممالک کے باشندوں کو ریڈ لسٹ میں ڈال دیا ہے اور وہاں  سے آنے والے مسافروں کا اپنے یہاں داخلہ ممنوع قرار دیدیا ہے۔  جبکہ یورپی یونین  اس طرح کی پابندی پر غورکر رہا ہے جبکہ  آسٹریلیا فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا واقعی کورونا کی یہ قسم اتنی خطرناک ہے کہ اس   کے سبب افریقی ممالک کے سفر پر پابندی لگائی جائے؟ 
  ہندوستان میں حکومت نے تمام ریاستوں کیلئے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے جس کے بعد جنوبی افریقہ سے آنے والے باشندوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔  ادھر جینیوا میں چار سال بعد منعقد ہونے جا رہے عالمی ادارۂ تجارت ( ڈبلیو ٹی او)  کے اجلاس کو پھر ملتوی کر دیا ہے۔  اس میں کوئی ۱۶۰؍ ممالک کے وزرا شرکت کرنے والے تھے۔  واضح رہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب   یورپ میں ایک بار پھر کورونا کا اثر سے تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اور ان ممالک  میں  نئے سرے سے لاک ڈائون اور پابندیاں عائد کرنے پر غور کیا جا رہا  ہے۔  جبکہ یہاں بعض ممالک میں ان پابندیوں کے خلا ف احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ 
 نئی قسم کیا ہے 
  یاد رہے کہ اب تک کورونا وائرس کی کچھ مختلف قسمیں سامنے آ چکی ہیں جنہیں سائنسدانوں نے ایلفا، اس کے بعد ڈیلٹا کا نام دیا تھا۔ وائرس کی جس قسم میں  جینیاتی تبدیلی کی جتنی زیادہ صلاحیت ہوگی وہ اتنا ہی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔  اب تک ڈیلٹا کو سب سے خطرناک تصور کیا گیا تھا لیکن  جو نئی قسم سامنے آئی ہے اس میں ۵۰؍ جینیاتی تبدیلیوں کی صلاحیت ہے۔ اسے سائنسدانوں نے امیکورن کا نام دیا ہے۔  ان تبدیلیوں کے سبب اس وائرس پر ویکسین کا اثر کام نہیں کرتا۔  اس کا تکنیکی نام بی ڈاٹ ون ڈاٹ ون فائیو ٹو نائن ہے۔ یہ ڈیلٹا سے کئی گنا زیادہ خطرناک ہے۔ 
 یاد رہے کہ کورونا کی یہ قسم سب سے پہلے جنوبی افریقہ کے صوبے گوٹنگ  میں پائی گئی ۔ یہاں ایک یا ۲؍ نہیں بلکہ درجنوں مریض پائے گئے جن میں  اس ویرینٹ کی علامتیں پائی گئیں۔ یاد رہے کہ جنوبی افریقہ میں ویکسی نیشن کا تناسب صرف ۲۴؍ فیصد ہے جبکہ یورپ میں یہ تناسب بہت زیادہ ہے۔ اس کے باوجود بعض مغربی ممالک میں اس کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس  سے  اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ویرینٹ کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال ڈبلیوایچ او کی جانب سے اس سے بچنے کیلئے کوئی احتیاطی تدابیر یا ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK