پوائی کے اسٹوڈیو میں آڈیشن کیلئے بلاکر یرغمال بنالیا تھا ،سبھی کوبچا لیا گیا ، سرکار سے ایک کروڑ روپےکا بل پاس نہ ہونے سے پریشان روہت آریہ کے انکائونٹر پر سوال
EPAPER
Updated: October 31, 2025, 3:46 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
پوائی کے اسٹوڈیو میں آڈیشن کیلئے بلاکر یرغمال بنالیا تھا ،سبھی کوبچا لیا گیا ، سرکار سے ایک کروڑ روپےکا بل پاس نہ ہونے سے پریشان روہت آریہ کے انکائونٹر پر سوال
جمعرات کو مغربی مضافات کے پوائی علاقے میں ایک سنسنی خیز واردات ہوئی جس میں ایک شخص نے ۱۷؍ بچوں اور ایک معر شخص سمیت ۱۹؍ افراد کو یرغمال بنالیا تھا البتہ فائر بریگیڈ کی مدد سے پولیس عمارت میں داخل ہوئی اور اغوا کرنے والے کو انکائونٹر میں ہلاک کرکے تمام بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کردیا۔ جس شخص نے بچوں کو یرغمال بنایا تھا اس کا نام روہت آریہ (۵۰) ہے۔ اگرچہ اس کے انکائونٹر کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ متوفی کا ایک کروڑ روپے کا بل ریاستی سرکار ادا نہیں کررہی تھی لیکن اس نے بچوں کو یرغمال بنانے کے بعد ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نے یہ سب پیسوں کیلئے نہیں کیا ہے بلکہ اسے کچھ افراد سے اپنے سوالوں کے جواب چاہئیں۔اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔روہت کا تعلق ناگپور سے ہے لیکن فی الحال وہ چمبور علاقے میں رہائش پذیر تھا۔ اس نے ۲۳۔۲۰۲۲ء میں ’وزیر اعلیٰ میری اسکول، خوبصورت اسکول‘ مہم کے تحت ناگپور میں صاف صفائی کا کام کیا تھا۔ اس کام کیلئے اس نے۶۰؍ سے ۷۰؍ لاکھ روپے خرچ کئےتھے لیکن اسے وہ رقم واپس نہیںملی ۔ اطلاع کے مطابق اس وقت کے ایجوکیشن منسٹر دیپک کیسرکر نے اس کے کام کے عوض اسے ایک کروڑ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے کوئی پیسے نہیں ملے۔
اپنے پیسوں کے لئے روہت نے پہلے ناگپور میں اور پھر ممبئی میں آزاد میدان میںدھرنا دیا تھا اور بھوک ہڑتال بھی کی تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس نے خودکشی تک کی بات سوچ لی تھی لیکن پھر اس کے بجائے دوسرا منصوبہ بنایا۔ اس نے ویب سیریز میں آڈیشن کے بہانے ۱۵؍ سال تک کی عمر کے بچوں کو اندھیری (مشرق) کے پوائی میں ساکی ویہار روڈ پر مہاویر کلاسک بلڈنگ کے گرائونڈ فلور پر واقع ’بٹر فلائی نرسری اسکول‘ میں بلایا تھا۔
یہ آڈیشن آر اے اسٹوڈیو میں گزشتہ ۲؍ روز سے جاری تھا لیکن جمعرات کو اس نے ان سب کو یرغمال بنالیا۔ انہیں یرغمال بنانے کے بعد اس نے اپنا ویڈیو بنا کر اس تعلق سے خود اطلاع دی اور کچھ لوگوں سے بات چیت کرنے کی خواہش ظاہر کی لیکن وہ کن لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہے، کیا سوالات کرنا چاہتا ہے یہ سب نہیں بتایا اور نہ یہ اب تک سامنے آیا ہے ۔ بچوں کو یرغمال بنانے کی اطلاع پولیس کو تقریباً دوپہر ڈیڑھ بجے ملی۔ اس کے بعد کوئیک ریسپانس ٹیم، بم اسکوڈ اور فائر بریگیڈ سب کو جائے واردات پر بلا لیا گیا تھا۔ پولیس کی ایک ٹیم ملزم سے گفتگو کررہی تھی جبکہ فائر بریگیڈ نے اپنی سیڑھیوں کی مدد سے پولیس کی دیگر ٹیم کو اس ۱۰؍ منزلہ عمارت کے پہلے منزلےپر واقع ایک بیت الخلاء کی کھڑکی سے بلڈنگ میں داخل کروادیا۔اگرچہ ابتداء میں پولیس نے گولی باری کی اطلاع نہیں دی تھی لیکن بعد میں دعویٰ کیا گیا کہ روہت کے پاس ایک ایئر گن تھی جس سے اس نے عمارت میں داخل ہونے والی پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی تھی۔ اس کے جواب میں پولیس نے اس پر گولی چلادی ۔ ایک گولی اس کو لگی جس سے وہ زخمی ہوگیا۔ اس کے بعد اسے ایچ بی ٹی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر بانگر نے شام ۵؍ بجکر ۱۵؍ منٹ پر اسے مردہ قرار دے دیا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ روہت کے پاس ایئر گن کے علاوہ کچھ کیمیکل بھی تھاجو ضبط کرلیا گیا ہے۔ بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے سپرد کردیا گیا ہے لیکن تفتیش کے ساتھ ان بچوں کی نفسیاتی حالت کی بھی خبر گیری کی جارہی ہے۔
روہت نے جو ویڈیو بنایا تھا اس میں اس نےکہا تھا کہ’’میں روہت آریا، خودکشی کرنے کی جگہ میں نے ایک منصوبہ بنایا اور کچھ بچوں کو یہاں یرغمال رکھا ہے۔ میرے کچھ زیادہ مطالبات نہیں ہیں، بہت سیدھے سادے اور اخلاقی مطالبات ہیں، اور میرے کچھ سوال ہیں۔ مجھے کچھ لوگوں سے بات کرنی ہے، ان کو سوال پوچھنے ہیں، ان کے جواب پرمزید کچھ سوال ہیں تو وہ سوال پوچھنے ہیں لیکن مجھے یہ جواب چاہئیں۔ مجھے دوسرا کچھ نہیں چاہئے۔ نہ میں دہشت گرد ہوں،نہ میرا بہت بڑا پیسوں کا مطالبہ ہے، کچھ بھی پیسوں کا مطالبہ نہیں ہے اور غیر اخلاقی تو بالکل بھی نہیں ہے۔ سادہ سی بات کرنی ہے۔ اسی لئے میںنے ان بچوں کو یرغمال بنایا ہے۔ یہ میں نے ایک منصوبہ کے تحت ہی کیا ہے۔ ’لیٹس چینج فار‘ میں سچ میں کرنے والا تھا، کرنے والا ہوں، اگر زندہ رہا تو میں کروں گا میں مر گیا تو کوئی اور کرے گا لیکن ہوگا ضرور، ان ہی بچوں کے ساتھ ہوگا اگر ان کو نقصان نہیں پہنچتا ہے تو، کیونکہ معمولی سا بھی غلط قدم آپ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے پر آمادہ کرے گاکہ میں اس پوری جگہ کو آگ لگا دوں اور مر جائوں۔ میں مرجائوں، یا نہ مروں، بچوں کو بلا وجہ نقصان پہنچے گا، وہ صدمہ کا شکار ضرور ہوں گے۔ اس سے زیادہ کچھ ہوگا تو اس کا ذمہ دار مجھے نہ مانا جائے ،اس کا ذمہ دار ان لوگوں کوقرار دیا جائے جو غیر ضروری طور پر مجھے یہ کرنے پر آمادہ کررہے ہیں جبکہ میں ایک عام شہری ہوںاور صرف بات کرنا چاہتا ہے۔ میری باتیں ختم ہونے کے بعد میں خود ہی باہر آئوں گا، میں اکیلا نہیں ہوں میرے ساتھ اور بھی لوگ ہیں۔ کئی سارے لوگوں کو یہ پریشانیاں ہیں اور یہ میں اس کا حل دینے والا ہوں صرف باتیں کرکے، برائے مہربانی مجھے کسی کو کسی طرح کا نقصان پہنچانے پر مجبور نہ کریئے۔‘‘