Inquilab Logo Happiest Places to Work

حافظ ظہیر فائر اینڈ سیفٹی کے کورس کے ساتھ تراویح بھی پڑھارہے ہیں

Updated: March 04, 2026, 4:00 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

۲۳؍سالہ ظہیر نے بی کام کرنے کے دوران محض ڈیڑھ سال میں حفظ مکمل کیا۔ چار برس سے یہ تراویح پڑھارہے ہیں اور پابندی سے باندرہ انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر میں بھی شرکت کرتے ہیں۔

Sheikh Zaheer Abdul Razzaq Is Busy Reciting The Holy Quran.Photo;INN
شیخ ظہیر عبدالرزاق قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف۔ تصویر:آئی این این
ملئے حافظ۲۳؍سالہ شیخ ظہیر عبدالرزاق سے جو ۴؍ برس سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے عصری علوم کے ساتھ محض ڈیڑھ سال میں حفظ کیا ۔ اس وقت وہ فائر اینڈ سیفٹی میں ڈپلومہ کررہے ہیں۔ 
امسال مقبرہ مسجد کلیان میں۲۷؍ روزہ تراویح تنہا پڑھارہے ہیں ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس دوران بھی پابندی سے لیکچر میں شریک ہوتے ہیں۔ تراویح پڑھانے کی ترتیب یہ ہے کہ۱۵؍ پارے تک ڈیڑھ پارہ اس کے بعد ایک ایک پارہ پڑھاکر مکمل کریں گے۔ اس سے قبل تین برس تک کلیان کے الگ الگ علاقوں کی دوسری مساجد میں پڑھاچکے ہیں۔ 
الجامعۃ الرضویہ بیل بازار کلیان میں قاری عبدالقادر کے پاس۲۰۲۳ء میں محض ڈیڑھ سال میں حفظ مکمل کیا اور دور قاری معین احمد کے پاس کیا۔ ان دونوں اساتذہ نے خصوصی توجہ اور شفقت کے ساتھ پڑھایا اور قرآن پاک مکمل ہونے کے بعد اسے یاد رکھنے کی اہمیت پر بھی بار بار متوجہ کیا۔حفظ کے دوران عصری علوم کا حصول بھی جاری رہا ، حفظ شروع کرنے کے وقت بی کام فرسٹ ایئر میں تھے۔ اس وقت ڈپلومہ فائر اینڈ سیفٹی باندرہ میں ایڈوانس انسٹی ٹیوٹ آف فائر اینڈ سیفٹی سے کررہے ہیں۔یہ اپنے گھر کے پہلے حافظ قرآن ہیں، ان کے خاندان میں کوئی حافظ عالم نہیں تھا۔ حفظ کرنے کے تعلق سے حافظ ظہیر نے بتایا کہ والد صاحب دوسرے حفاظ کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے ، ان کی خواہش تھی کہ کاش !میں بھی حافظ بنوں، چنانچہ والدین کی فکر ، ان کی دعاؤں اور اساتذہ کی شفقت سے یہ عظیم سعادت حاصل ہوئی۔حافظ ظہیر کے مطابق بی کام کے دوران حفظ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی، وقت کا تعین اس طرح کیا تھا کہ دونوں علوم کے لئے گنجائش نکل سکے۔البتہ  دور کرنے کے وقت زیادہ توجہ قرآن کریم یاد کرنے پر رہی۔ حفظ کرنے کے دوران گھر پر رہ کر اور مدرسے میں قیام بھی کیا۔ ان کے مطابق لیکچر میں شرکت اور تراویح پڑھانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، قرآن کریم کی برکت سے دونوں کام آسانی سے ہوجاتے ہیں۔ ابھی بی کام مکمل نہیں ہوا ہے، ڈپلومہ کرنے کے بعد گریجویشن کا امتحان دیں گے۔
 
 
حافظ ظہیر رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کے بعد ہی دوسرے دن پڑھائے جانے والے پاروں کا دور شروع کردیتے ہیں تاکہ پیشگی تیاری ہوسکے جبکہ رمضان کے علاوہ  دور کرنے کے لئے پابندی سے اب بھی مدرسے جاتے ہیں تاکہ قرآن کریم کی یادداشت مزید پختہ ہوسکے۔ ان چار برسوں میں اب تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا جس سے تراویح پڑھانا مشکل ہوگیا ہو، ہاں محنت زیادہ کرنی ہوتی ہے۔ 
 
 
عصری علوم حاصل کرنے والے اپنے دیگر ساتھیوں کے تعلق سے حافظ ظہیر نے بتایا کہ کوئی اور ساتھی حافظ نہیں ہے۔ البتہ اندازہ یہ ہوا کہ حفظ کرنا آسان ہے جیسا کہ خود باری تعالی نے۲۷؍ ویں پارے کی سورہ قمر میں فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان کردیا، ہے کوئی یاد کرنے والا۔ ہمت کرے تو کوئی بھی قرآن پاک یاد کرسکتا ہے مگر مشکل ہے یاد رکھنا اور اس پر تا حیات توجہ دینا ۔ اس کے لئے پورے سال پابندی سے تلاوت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت نکال کر انہوں نے مدرسے جاکر دور کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ مدرسے میں یکسوئی کے ساتھ دور کرنے کا موقع ملتا ہے اور مدرسے کے ماحول سے بھی مدد ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK