Updated: March 04, 2026, 4:01 PM IST
| Tehran
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی میزائل اور ڈرون حملے، عالمی لیڈروں کے بیانات، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر فوجی سرگرمیاں خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر لے آئی ہیں۔ فرانس، اسپین اور عمان سمیت کئی ممالک نے فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی واپسی پر زور دیا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔
تہران پر اسرائیلی بمباری کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
ایران پر حملے بین الاقوامی قانون کے خلاف: فرانسیسی صدر میکرون
ایمانوئیل میکرون نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر ہیں۔ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ اور اسرائیل نے فوجی کارروائیوں کا فیصلہ کیا جو بین الاقوامی قانون کے دائرے سے باہر کیے گئے اور انہیں منظور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ میکرون نے کہا کہ فرانس نے خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور سفارت خانوں کی سیکوریٹی سخت کر دی ہے اور رافیل طیاروں کے ساتھ اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کیے گئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کا اسرائیل پر آپریشن صادق ۴
پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ ’’آپریشن صادق ۴‘‘ کی ۱۶؍ ویں لہر شروع ہو گئی ہے۔ بیان کے مطابق’’مقدّس یا علی ابن ابی طالب کے کوڈ نام کے تحت میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی لہر مقبوضہ علاقوں کی طرف فائر کی گئی ہے۔‘‘ ایران نے کہا کہ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے رہبر اعلیٰ
۹؍ ہزار امریکی شہری مشرق وسطیٰ سے نکل گئے
مارکو روبیو نے کہا کہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً ۹؍ ہزار امریکی شہری خطے سے نکل چکے ہیں جبکہ مزید ۱۶۰۰؍ افراد حکومت سے مدد طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈرون نے چانسلری عمارت کے قریب پارکنگ کو نشانہ بنایا، مگر تمام اہلکار محفوظ ہیں۔‘‘
تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی معیشت کو خطرہ
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں عارضی طور پر بڑھ سکتی ہیں، مگر بعد میں کم ہو جائیں گی۔ دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے خبردار کیا کہ ’’یہ صورتحال یقیناً ہماری معیشتوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، خاص طور پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے۔‘‘
اسپین نے جنگ کے خلاف موقف اختیار کیا
ہوزے مینوئل الباریز نے کہا کہ ایران پر حملوں نے مشرق وسطیٰ میں تشدد اور عدم استحکام کا نیا دور شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تشدد کبھی امن نہیں لاتا۔ یہ صرف مزید افراتفری پیدا کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اسرائیلی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسپین بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی حمایت کرتا ہے۔
سعودی عرب میں امریکی سی آئی اے اسٹیشن پر ڈرون حملہ
رپورٹس کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ میں قائم سی آئی اے اسٹیشن کو مشتبہ ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق ’’دو ڈرون حملوں کے نتیجے میں کمپاؤنڈ میں محدود آگ اور معمولی مادی نقصان ہوا۔‘‘ حملے کے بعد سفارت خانے نے شہری خدمات معطل کر دیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ایک شدت پسند کی جگہ دوسرا قابلِ قبول نہیں
چار دن میں امریکہ کو تقریباً ۲؍ ارب ڈالر کا نقصان
رپورٹس کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو تقریباً ۹ء۱؍ بلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔ اہم نقصانات میں شامل ہیں: قطر کے العدید بیس پر ابتدائی وارننگ ریڈار، کویت میں ایف ۱۵؍ ای لڑاکا طیارے، بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے سیٹیلائٹ نظام، اور کئی امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول کا دعویٰ
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آئل ٹینکروں کی حفاظت کرے گی تاکہ توانائی کی عالمی سپلائی متاثر نہ ہو۔‘‘
عمان نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا
بدر بن حامد ال بوسعیدی نے کہا کہ جنگ کو روکنے کے لیے ابھی بھی سفارتی راستے موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’مذاکرات کا راستہ موجود ہے، ہمیں اسے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘
ٹرمپ اور امریکی حکومت کے بیانات میں تضاد
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ لیکن وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کے منصوبوں کے بارے میں جاننے کے بعد ’’پہلے سے‘‘ حملہ کیا۔ اس تضاد نے امریکی پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سینٹ کام : دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی تعیناتی
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس جنگ میں ۵۰؍ ہزار سے زائد امریکی فوجی، ۲۰۰؍ جنگی طیارے اور ۲؍ طیارہ بردار بحری جہاز شامل ہیں۔ جنرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ’’یہ ایک نسل میں مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی امریکی فوجی تعیناتی ہے۔‘‘
خطے میں کشیدگی اور ہلاکتیں
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں تقریباً ۸۰۰؍ افراد جاق بحق ہو چکے ہیں جن میں ۱۶۰؍ سے زائد بچے شامل ہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔